بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(41) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
48-سرکاری راشن کی غیر قانونی خرید وفروخت:
حکومت کی طرف سے فراہم کردہ راشن وغیرہ کی دو صورت ہوتی ہے :
1-حکومت نے ڈیلر کو مفت فراہم کیا ہے اور اسے محض تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔
اس صورت میں وہ اس کا مالک نہیں ہوتا ہے اس لئے غیر قانونی خرید وفروخت درست نہیں ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے ۔
2-حکومت نے اسے پابند بنایا ہے کہ وہ مثلاً ایک ہزار کا سامان لوگوں کو آٹھ سو میں فراہم کرے اور دو سو روپیہ کا خسارہ سبسڈی (Subsidy) کے طور پر حکومت ادا کردے ۔
مذکورہ صورت میں وہ چیز کمپنی یا ایجنسی والے یا ڈیلر کی ملکیت ہوتی اس لئے بہر صورت بیع منعقد ہوجائے گی لیکن حکومت سے کئے گئے معاہدے کی پابندی ضروری ہے اور بلیک مارکیٹنگ کرنا ایک سنگین جرم ہے جس سے نادار اور مستحق افراد کی حق تلفی ہوتی ہے۔نیز اس کی خریداری سے چور بازاری،بلیک مارکیٹنگ اور قانون شکنی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔
البتہ اگر اس نے تقسیم کرتے ہوئے کسی کے حق میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔اور وہ سسٹم کے مطابق راشن وغیرہ کو بانٹتا رہا یہاں تک کہ اس کی تقسیم کا دوسرا مرحلہ آگیا ،اس کے باوجود کچھ لوگ اپنا حصہ لینے نہیں آئے، اور ایسی حالت میں حکومت کی طرف سے اجازت ہے کہ وہ بقیہ کو جس دام میں چاہے فروخت کردے تو اس کے لئے بچے ہوئے حصے کو زیادہ قیمت میں فروخت کرنا جائز ہے ورنہ نہیں ۔