بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(14) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
16دشمنی اور کینہ کے اسباب سے اجتناب:
اگر دو لوگوں کے درمیان کسی چیز کے سلسلے میں مول بھاؤ ہو رہا ہو اور ان کے درمیان کسی ثمن پر اتفاق اور سودا کرنے پر آمادگی ہوجائے لیکن ابھی بیع مکمل نہیں ہوئی ہے تو ایسی حالت میں تیسرے شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس سے زیادہ قیمت کی پیشکش کرکے خود اسے لینے کی کوشش کرے ۔
اس کی دو صورت ہے ایک یہ کہ خریدار کو توڑنے کی کوشش کرے مثلاً یہ کہے کہ یہاں سے سامان مت خریدو میں تمہیں اس سے کم قیمت پر یہ سامان فراہم کردوں گا ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ وہ بیچنے والے سے کہے کہ فلاں شخص سے معاملہ مت کرو میں تمہیں اس سے زیادہ قیمت دوں گا ۔
حدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے درمیان دشمنی ،کینہ اور بدگمانی پیدا ہوتی ہے ۔خواہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا جائے یا غیر مسلموں کے ساتھ ۔(قال الجمهور لا فرق في ذلك بين المسلم والذمي. فتح الباري باب لا يبيع على بيع اخيه. 353/4)
حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ۔
کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے اور کوئی اپنے بھائی کے مول تول پر مول تول نہ کرے ۔ (صحیح مسلم: 1408)
بعض احادیث میں اسی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:
لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ ۔
کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام دے الا یہ کہ وہ اس کی اجازت دے دے۔( صحیح بخاری: 2139.صحیح مسلم: 1412. واللفظ له ۔)
اس حدیث میں بیع سے مراد بھی مول تول ہے کیونکہ جب ایک کے ساتھ بیع ہوچکی ہے تو دوسرے کے ساتھ بیع کرنے کی کوئی شکل ہی نہیں ہے ۔اس لئے مجازی معنی مراد لینا ضروری ہے ۔چنانچہ امام ترمذی لکھتے ہیں:
وَمَعْنَى الْبَيْعِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ هُوَ : السَّوْمُ.
بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث میں بیع سے مراد مول بھاؤ کرنا ہے۔(جامع ترمذی ۔رقم الحدیث:1292)
لیکن امام نووی کہتے ہیں کہ بیع کا حقیقی مفہوم مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ کوئی خیار شرط (بیع ختم کرنے کے اختیار)کے ساتھ بیع کرے اور مدت خیار میں کوئی شخص خریدار سے کہے کہ خریدی ہوئی چیز تم واپس کر دو، میں تمہیں یہی چیز اس سے سستے دام میں دیتا ہوں، یا اس سے اچھی چیز اسی قیمت میں دیتا ہوں۔ یا اسی طرح کی کوئی اور بات کہے۔ تو یہ حرام ہے۔ اسی طرح کوئی دکاندار سے مدت خیار میں کہے: یہ سودا ختم کر دو، میں تمہیں اس سے زیادہ قیمت دے رہا ہوں۔
اور مول تول پر مول تول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دکاندار اور خریدار دونوں سودے پر راضی ہو گئے ہیں، لیکن ابھی انہوں نے لین دین کیا نہیں ہے ، تو ایسی حالت میں کوئی شخص دکاندار سے کہے کہ تم اس سے معاملہ مت کرو بلکہ مجھے بیچ دو تو یہ بھی اس وقت حرام ہے جب قیمت پر اتفاق ہو چکا ہو۔” (المنہاج شرح مسلم 10/ 158)
حاصل یہ ہے کہ ممانعت اسی وقت ہے جبکہ سامان خریدنے یا بیچنے کی طرف دوسرے شخص کا میلان ہو چکا ہو، دونوں فریق خریداری کو حتمی شکل دینے جا رہے ہوں، دونوں سودے سے راضی ہوں، اور اسے جلد ہی کنفرم کرنے والے ہوں لہذا اگر صرف بھاؤ تاؤ چل رہا ہو،اور بیع پر آمادگی نہ پائی گئی ہو تو اس دوران بہتر قیمت کی پیشکش کرنا جائز ہے۔جیسے کہ کوئی تاجر مختلف گراہکوں سے بات کر رہا ہے یا گراہک مختلف تاجروں سے گفتگو کر رہا ہے اور کسی سے بیچنے یا خریدنے کی آمادگی نہیں پائی گئی ہے تو ایسی صورت میں کسی شخص کا اپنی طرف سے پیشکش کرنا اور اس معاملے میں داخل ہونا درست ہے۔
اسی طرح سے نیلامی کی شکل بھی جائز ہے کیونکہ اس میں آخری بولی پر بیچنا مطلوب ہوتا ہے اس لیے ایک کی بولی پر دوسرے شخص کے لئے بولی لگانا درست ہے کیونکہ ابھی بیع کے لیے آمادگی نہیں پائی گئی ہے۔