بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(33) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

40-تصویر دار اشیاء کی خرید وفروخت:

 

    کاغذ اور کپڑے وغیرہ کی تصویر کی ممانعت میں اختلاف ہے البتہ ہند و پاک کے زیادہ تر علماء اس کی ممانعت پر متفق ہیں لیکن اگر خرید وفروخت میں تصویر مقصود نہ ہو بلکہ تابع کی حیثیت رکھتی ہو جیسے کہ تصویر دار کتاب اور کاپی وغیرہ

تو مقصد کا لحاظ کرتے ہوئے ایسی مصور چیزوں کی خرید و فروخت درست ہوگی ۔

    لیکن اگر ان کی خریدوفروخت تصویر کی وجہ سے کی جارہی ہے جیسے کہ بعض کپڑوں پر دیوی دیوتا یا کسی فلمی ہیرو کی تصویر بنی ہوتی ہے اور تصویر ہی کی وجہ سے ان کپڑوں کو خریدا جاتا ہے تو ان کی بیع درست نہیں ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز ہے ۔ چنانچہ عہد صحابہ میں بھی ایسے سکوں کا رواج تھا جس پر تصویر بنی ہوتی تھی اور وہ ان کے ذریعے معاملہ کیا کرتے تھے کیونکہ مقصود سکے ہوا کرتے تھے نہ کہ ان پر بنی ہوئی تصویر ۔(1)

اور مفتی محمّد شفیع صاحب لکھتے ہیں:

بیع و شراء میں اگر تصاویر خود مقصود نہ ہوں بلکہ دوسری چیزوں کے تابع ہو کر آجائیں جیسے اکثر کپڑوں میں مورتیں لگی ہوتی ہیں یا برتنوں اور دوسری مصنوعات جدیدہ میں اس کا رواج عام ہے تو اس کی خرید و فروخت تبعا جائز ہے۔۔۔۔۔لیکن جب خود تصاویر ہی کی بیع و شراء مقصود ہو تو خریدنا اور فروخت کرنا دونوں ناجائز ہیں اور اگر تصویر مٹی کی بنی ہوئی ہو تو شرعا اس کی کچھ قیمت کسی کے ذمہ واجب نہیں ہوتی البتہ اگر کسی دھات یا لکڑی وغیرہ کی ہو تو اتنی قیمت واجب ہوتی ہے جس قدر اس لکڑی یا دھات کی قیمت تصویر سے قطع نظر کر کے ہو سکتی ہے۔(جواہر الفقہ263/7)

 

(1)ألا ترى أن المسلمين ‌يتبايعون ‌بدراهم ‌الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها.

 وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف. فهناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعها أو يقسمها حطبا. قال: إلا أن يبيعها قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيها للحطب لا للاستعمال على وجه لا يحل، فحينئذ لا بأس بذلك.لأنه مال منتفع به. فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعا.(شرح السیر الکبیر /1051أبواب سهمان الخيل والرجالة في الغنائم،باب ما يحمل عليه الفيء وما يجوز فعله بالغنائم في دار الحرب،ط، الشركة الشرقية)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے