بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(31) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

38-شو روم کے مجسمے(Mannequin)

 

  کپڑے کے شو روم میں مرد و خواتین کے مجسمے رکھنے کا رواج بڑھتا جارہا ہے  اور اسی طرح مجسموں کا کارو بار بھی ترقی پذیر ہے حالانکہ مجسمہ سازی ، اس کی خرید وفروخت اور اُسے اپنے مکان اور دکان میں رکھنا حرام ہے چنانچہ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ بت بنانا حرام ہے اور اس پر بھی تمام فقہاء متفق ہیں کہ انسان و حیوان کا مجسمہ حرام ہے خواہ اس کی پرستش کی جاتی ہو یا نہ کی جاتی ہو کیونکہ یہ شرک و بت پرستی کے در آنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے، گذشتہ قوموں میں اسی راستے سے بت پرستی داخل ہوئی تھی۔

   حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

   لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، أَوْ تَصَاوِيرُ .

   فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمہ یا تصویر موجود ہو۔(صحیح مسلم :2112)

    اور حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    إنّ أشدّ الناس عذابًا عند اللہ یوم القیامۃ المصوّرون ‘‘

   اللہ کے یہاں قیامت کے دن سب سے سخت عذاب صورت بنانے والوں کو دیا جائے گا ۔(صحیح بخاری:5950)

   اور ایک حدیث میں ہے :

    قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ شَعِيرَةً ۔

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری خلقت کی طرح بنانا چاہے وہ ایک چیونٹی یا گیہوں اور جو کا دانہ بنا کے دکھائے۔

   حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اس حدیث میں اللہ کی خلقت کی طرح بنانے سے مراد مجسمہ ہو اس لئے کہ اللہ کی پیدا کردہ چیزیں دیوار پر تصویر کی طرح نہیں ہیں بلکہ وہ جسم دار ہیں (فتح الباری 386/10)

 حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں:

  ان الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام.(صحيح بخاري: 2236. صحيح مسلم:1581)

    اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کے بیچنے کو حرام قرار دیا ہے .

شارح بخاری علامہ ابن بطال لکھتے ہیں کہ مٹی اور لکڑی وغیرہ سے بنائی گئی جسم دار تصویر یعنی مجسمہ کی خرید وفروخت درست نہیں ہے اور یہ بھی صنم کے مفہوم میں داخل ہے ۔(شرح بخاری لابن بطال 607/6)

 اور علامہ ابن رشد اور ابن العربی نے تانبا ،لوہا اور لکڑی وغیرہ کے مجسمے کی حرام ہونے پر اجماع نقل کیا ہے ۔(البیان و التحصیل 332/1.عارضۃ الاحوذی 253/7)

    اور حرام کا عوض لینا بھی حرام ہوتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

   إِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ شَيْئًا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ ".

   اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کوئی چیز حرام کرتے ہیں تو اس کا عوض لینا بھی حرام کردیتے ہیں ۔(مسند أحمد :2961)

اور فقہی ضابطہ ہے :

    ما حرم لذاته حرم ثمنه۔

   جو چیز بذات خود حرام ہو تو اس کا عوض بھی حرام ہوتا ہے ۔

(القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة 632/1)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے