بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(28) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

35-خون آمیز فیڈ:

 

    خون ناپاک ہے ، اس کی خرید و فروخت اور کسی بھی چیز میں اس کا استعمال حرام ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَ لَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ  اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ .

   اس نے تو تمہارے لئے بس مردار جانور، خون اور سور حرام کیا ہے، نیز وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو . ہاں اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو ( اور ان چیزوں میں سے کچھ کھالے) جبکہ اس کا مقصد نہ لذت حاصل کرنا ہو اور نہ وہ (ضرورت کی) حد سے آگے بڑھے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔(سورہ البقرۃ: 173)

تفسیر:

    اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تو وہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔(آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

   اور حضرت ابوجحیفہ کہتے ہیں :

  إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ. ۔۔۔

    بلا شبہ نبی کریم ﷺ نے خون اور کتے کے عوض سے منع کیا ہے ۔۔۔(صحیح بخاری: 5945)

    اور حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے کہ اس پر اجماع ہے کہ خون کی خرید و فروخت حرام ہے۔(فتح الباری 426/4 باب ثمن الکلب)

   لھذا مرغی وغیرہ کی فیڈ تیار کرنے کے لئے خون خریدنا یا اسے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

    اسی طرح سے ایسی چیز کی خرید و فروخت بھی درست نہیں ہے جس میں خون خون یا دیگر حرام و نجس اجزاء کی کی مقدار غالب ہو ۔ لیکن اگر پاک اجزاء کی مقدار زیادہ اور خون وغیرہ کو معمولی مقدار میں شامل کیا گیا ہوتو ایسی فیڈ کی خرید و فروخت(1) اور جانوروں کو کھلانے کی گنجائش  ہے(2)۔ البتہ جان بوجھ کر جانوروں کی خوراک میں حرام چیزوں کو شامل کرنا جائز نہیں.لہذا خوراک تیار کرنے والوں کو اِس سے احتراز کرنا لازم ہے۔

   حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:

     أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضَ ثَمُودَ الْحِجْرَ، فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا وَاعْتَجَنُوا بِهِ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا مِنْ بِئْرِهَا، وَأَنْ يَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ. تَابَعَهُ أُسَامَةُ ، عَنْ نَافِعٍ .

     رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں وہ لوگ قوم ثمود کی بستی "حجر” کے پاس اترے اور انھوں نے وہاں کے کنویں سے پانی لیا اور اس سے آٹا گوندھا۔یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ وہاں کے کنویں سے لیا گیا پانی  بہا دیا جائے اور گوندھا ہوا آٹا اونٹ کو کھلا دیا جائے اور فرمایا کہ اس کنویں سے پانی لیا جائے جہاں سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔(صحیح بخاري : 3379. صحیح مسلم 2981)

 اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی لکھتے ہیں کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور کو ایسی غذا کھلانا جائز ہے جسے کھانے سے آدمی کو منع کیا گیا ہو .(المنهاج۔رقم الحدیث:2981)

    فارمی مرغی وغیرہ کے لئے تیار کی جانے والی خوراک میں ناپاک چیزوں  کی مقدار بہت معمولی اور پاک چیزوں کی مقدار غالب ہوتی ہے اس لئے اُسے جانوروں کو کھلانا جائز  اور اُس کی خرید و فروخت  درست ہے۔ اگرچہ مناسب یہی ہے کہ ان کو بھی حلال اور پاک غذا ہی کھلائی جائے۔

 

(1)اما الاشياء الطاهرة التي تنجست بملاقاة النجس والتي يعبر عنها الفقهاء بالمتنجس فمذهب الحنفية جواز بيعه جاء في الدر المختار: ونجيز بيع المتنجس والانتفاع به في غير الاكل. (فقه البيوع 302/1)

(2) وفي الذخيرة: ولا بأس برش الماء النجس في الطريق، ولا يسقى للبهائم. وفي خزانة الفتاوى: لا بأس بأن يسقى الماء النجس للبقر والإبل والغنم.(البحر الرائق: 1/132)

 (وما عجن به) معطوف على الوضوء. قوله: (فيطعم للكلاب)؛ لأن ما تنجس باختلاط النجاسة به والنجاسة مغلوبة لا يباح أكله، ويباح الانتفاع به فيما وراء الأكل، كالدهن النجس يستصبح به إذا كان الطاهر غالبا، فكذا هذا حلية عن البدائع، ويفهم منه أن العجين ليس بقيد فغيره من الطعام والشراب مثله. تأمل.(رد المحتار: 1/218)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے