بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(42) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

49-جانور کی منی(Semen) کی بیع:

 

  جانور اگر فطری طریقے پر حاملہ نہ ہو یا اچھی نسل کی افزائش مقصود ہو تو مادہ منویہ کو انجکشن کے ذریعے بچے دانی تک پہونچا دیا جاتا ہے ۔

   اس مقصد کے لئے مادۂ منویہ (sperm) کی خریدوفروخت درست نہیں ہے (1)کیونکہ شریعت کی نگاہ میں وہ مال نہیں ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:

    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ عَسْبِ الْفَحْلِ.

   نبی کریم ﷺ نے نر جانور کے پانی کے عوض سے منع فرمایا ہے(2)۔(صحیح بخاري: 228۔مسند احمد :4630.واللفظ لہ).

    اور انہیں سے منقول ایک دوسری حدیث میں ہے :

    أنَّهُ نهى عن بَيْعِ المَضامِينَ والمَلاقِيحِ، وحَبَلِ الحَبَلَةِ، قال: والمَضامِينُ: ما في أَصْلابِ الإِبِلِ، والمَلاقِيحُ: ما في بُطُونِها وحَبَلُ الحَبَلَةِ: ولَدُ ولَدِ هذه النّاقَةِ۔

   نبی کریم ﷺ نے مضامین،ملاقیح اور حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔راوی کا کہنا ہے کہ مضامین سے مراد اونٹ کی پشت میں موجود منی اور ملاقیح سے مراد پیٹ میں موجود بچہ اور حمل کے حمل سے مراد پیٹ میں موجود بچہ کا بچہ ہے۔(مصنف عبدالرزاق:14138)

    البتہ عوض طے کئے بغیر اگر کوئی خوش دلی سے بطور تحفہ کچھ دے دے تو جائز ہے حضرت انس سے روایت ہے:

   أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِلَابٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُطْرِقُ الْفَحْلَ، فَنُكْرَمُ. فَرَخَّصَ لَهُ فِي الْكَرَامَةِ.

    نبی کریم ﷺ سے قبیلہ کلاب کے ایک شخص نے نر جانور کی جفتی کے عوض کے بارے میں دریافت کیا تو آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم اپنے جانور کو جفتی کے لئے کسی کے حوالے کرتے ہیں تو وہ بطور اکرامیہ ہمیں کچھ دے دیتا ہے ۔آپ ﷺ نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی ۔(جامع ترمذی: 1274)

    اور اگر کوئی اجرت اور قیمت لئے بغیر جفتی کرانے کے لئے آمادہ نہ ہو تو بدرجہ مجبوری اسے عوض دینے کی گنجائش ہے لیکن اس کے لئے لینا جائز نہیں ہے ۔علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں:

    اگر جانور کو جفتی کرانے کی حاجت ہو اور کوئی شخص اجرت لئے بغیر اپنا نر جانور دینے کے  آمادہ نہ ہو تو اس کے لئے عوض دینا جائز ہے لیکن لینا درست نہیں ہے ،حضرت عطاء کہتے ہیں،جفتی کرانے پر کچھ نہ لے لیکن اگر مفت میں کوئی نر جانور نہ ملے تو عوض دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اس لئے کہ یہ ایک حاجت کی بنیاد پر جائز فائدے کے حصول کے لئے مال خرچ کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے قیدی کو آزاد کرانے اور ظالم کے ظلم سے بچانے کے لئے رشوت دینا۔ (المغني407/5)

    نیز انجکشن لگانے اور دوا وغیرہ شامل کرنے کی اجرت اور قیمت بھی لی جاسکتی ہے کہ یہ ایک جائز عمل کی فیس ہے ۔

    واضح رہے کہ امام مالک کے نزدیک جانور کی جفتی کی بیع سے ممانعت کی وجہ اس کا مجہول ہونا ہے کہ معلوم نہیں کہ اس جفتی کی وجہ سے حمل ٹھہرا ہے یا نہیں؛ اس لئے اگر متعین مدت کے لئے نر جانور کو کرایہ پر لے لیا جائے جس میں حاملہ ہونے کا غالب امکان ہو تو جائز ہے ۔شافعیہ اور حنابلہ سے بھی ایک قول اسی کے مطابق منقول ہے.(دیکھئے:المنتقى. رقم الحديث:1909

.تحفة الاحوذی .رقم الحدیث:1273)۔

   اس رائے کہ مطابق اگر نطفہ کو کسی ٹیوب میں محفوظ کرلیا جائے جس سے حاملہ ہونے کا غالب امکان ہو تو اس کی خرید وفروخت درست ہے ۔اس لئے کہ اس میں نہ تو کوئی غرر ہے اور نہ جہالت۔ اور اس کی حوالگی میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

 

(1)ولاينعقد بيع الملاقيح، والمضامين الذي، ورد النهي عنه؛ لأن المضمون ما في صلب الذكر، والملقوح ما في رحم الأنثى، وذلك ليس بمال، وعلى هذا أيضاً يخرج بيع عسب الفحل؛ لأن العسب هو الضراب، وأنه ليس بمال، وقد يخرج على هذا بيع الحمل أنه لاينعقد؛ لأن الحمل ليس بمال.(بدائع الصنائع 145/5)

   وَرُوِيَ عَنْهُ – عليه الصلاة والسلام – أَنَّهُ «نَهَى عَنْ بَيْعِ اللَّبَنِ فِي الضَّرْعِ، وَبَيْعِ عَسْبِ الْفَحْلِ»؛ لِأَنَّ عَسْبَ الْفَحْلِ ضِرَابُهُ، وَهُوَ عِنْدَ الْعَقْدِ مَعْدُومٌ، وَقَدْ رُوِيَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ – ﷺ – «نَهَى عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ»، وَلَا يُمْكِنُ حَمْلُ النَّهْيِ عَلَى نَفْسِ الْعَسْبِ، وَهُوَ الضِّرَابُ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ بِالْإِعَارَةِ فَيُحْمَلُ عَلَى الْبَيْعِ، وَالْإِجَارَةِ إلَّا أَنَّهُ حَذَفَ ذَلِكَ، وَأَضْمَرَهُ فِيهِ كَمَا فِي قَوْله تَعَالَى ﴿وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ﴾ [يوسف: ٨٢]، وَغَيْرِ ذَلِكَ.(بدائع الصنائع139/5)

    قال الشافعية: يحرم ثمن مائه ويبطل بيعه لانه غير معلوم ولا متقوم ولا مقدور على تسليمه. (الموسوعه الفقهيه 147/9)

(2)قوله (ثمن عسب الفحل) عسبه بفتح فسكون: ماؤه، فرسا كان أو بعيرا أو غيرهما وضرابه، أي: نهى عن كراء يؤخذ عليه. (حاشية السندي على مسند احمد)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے