بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(36) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
43-سیمپل والی دوائیں فروخت کرنا:
دوا بنانے والی کمپنیوں کی طرف سے کچھ دوائیں اپنے نمائندوں کو مفت فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ اسے ڈاکٹروں تک پہونچا دیں یا ڈاکٹروں کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ مریضوں تک پہونچا دیں اور ان پر لکھا ہوتا ہے کہ "بیچنے کے لئے نہیں ہے”۔(note for sale)
لیکن کچھ لوگ ان دواؤں کو ڈاکٹر تک یا مریض تک نہیں پہنچاتے ہیں بلکہ وہ اسے کم دام میں میڈیکل اسٹور وغیرہ کو فروخت کردیتے ہیں یا مریض سے اس کا عوض لیتے ہیں ۔
ظاہر ہے کہ یہ عمل جائز نہیں ہے کیونکہ کمپنی کا نمائندہ یا ڈاکٹر اس کا مالک نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ڈاکٹر یا مریض تک پہونچانے کا وکیل اور قاصد ہوتا ہے اور وہ دوا اس کے پاس بطور امانت ہوتی ہے اور امانت اس کے حقدار تک پہنچانا ضروری ہے۔ اور اسے بیچنا باطل اور خیانت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے(1)۔قرآن حکیم میں ہے :
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ۔
(مسلمانو) یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ (سورہ النسآء: 58)
اور حدیث میں ہے :
آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔
منافق کی علامت تین ہے :جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے ۔(صحیح بخاری:33)
البتہ اگر کمپنی نے اپنے نمائندے (Medical Reps) یا ڈاکٹر کو سیمپل والی دوا بطور گفٹ دے کر اسے اس کا مالک بنا دیا ہے تو اسے فروخت کرنا درست ہے لیکن عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے ۔
(1)هذا إذا أعطاه على وجه القضاء لدينه، وإن دفع إليه على وجه الرسالة لا يطيب له الربح بالاتفاق؛ لأنه لا يملكه ويتعلق العقد بعينه لتعينه فتكون الحرمة فيه حقيقة كالمغصوب المتعين إذا ربح فيه.”
( تبيين الحقائق 162/4كتاب الكفالة، فصل: ولو أعطى المطلوب الكفيل۔)
والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة.(مجلۃ الاحکام العدلیۃ /285. الباب الثالث: فی بيان أحكام الوكالة، 285)