بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(34) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
41-منرل واٹر:
سورج اور چاند کی روشنی، ہوا اور پانی،خود رو پودے اور گھاس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ سب کے لئے ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے :
الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ ؛ فِي الْكَلَأِ ، وَالْمَاءِ، وَالنَّارِ .
تین چیزوں میں تمام مسلمان شریک ہیں:گھاس،پانی اور آگ۔( أبوداؤد :3477)
لیکن یہ حکم سمندر ،دریا اور ندی تالاب کے پانی کے بارے میں ہے جس پر کسی کی ملکیت نہیں ہے لیکن اگر کوئی ان کے پانی کو کسی برتن،یا حوض وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے چنانچہ جنگل کی لکڑیوں کے سلسلے میں ایک حدیث میں ہے :
لَأَنْ يَأخُذَ أحَدُكم أحْبُلًا، فيَأْخُذَ حُزْمةً مِن حَطَبٍ، فيَبِيعَ، فيَكُفَّ اللهُ بهِ وَجْهَه؛ خَيرٌ مِن أنْ يَسأَلَ النَّاسَ، أُعْطِيَ أمْ مُنِعَ۔
کوئی شخص رسی لے اور اس میں باندھ کر جنگل کی لکڑیاں لے آئے اور اسے فروخت کرے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسے مانگنے کی ذلت سے محفوظ رکھیں یہ اس سے بہتر ہے وہ لوگوں سے مانگے اور اسے کچھ مل جائے یا انکار کردیا جائے ۔(صحیح بخاري: 2373)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص مباح اور غیر مملوکہ چیزوں کو جمع کرکے اپنے قبضہ میں لے لے تو وہ اس کا مالک ہوجاتا ہے خواہ لکڑی ہو یا پانی یا گھاس اور مملوکہ چیز کو فروخت کرنا درست ہےچنانچہ علامہ خطابی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں وہ گھاس مراد ہے جو غیر مملوکہ اور افتادہ زمین میں پیدا ہو،ایسی گھاس کو کوئی شخص اپنے لئے خاص کرکے دوسروں کو روک نہیں سکتا ہے۔ اور کسی کی مملوکہ زمین میں اگنے والی گھاس اس کی ملکیت ہوگی، اور کوئی دوسرا اس کی اجازت کے بغیر اس میں شریک نہیں ہوسکتا ہے ۔
اور علامہ سندھی کہتے ہیں کہ علماء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ حدیث میں وہ مباح گھاس مراد ہے جس پر کسی کی ملکیت نہیں ہوتی اور نہ وہ کسی کے لئے خاص ہوتی ہے ۔ اور پانی سے چشموں اور نہروں کا پانی مراد ہے جس کا کوئی مالک نہیں ہوتا اور آگ سے مراد غیر مملوکہ درخت ہے جس کی لکڑیوں کو لوگ کاٹ کر لاتے ہیں اور اسے جلاتے ہیں ۔لہذا وہ پانی جسے کوئی اپنے برتن میں رکھ لے تو اس کی بیع درست ہے ۔(عون المعبود ۔رقم الحدیث: 3477)
اور اس پر تمام فقہاء کا اجماع اور اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص پانی کو کسی برتن میں محفوظ کرلے تو اسے فروخت کرنا جائز ہے۔(دیکھئے :المغني62/4)
نیز مملوکہ کنویں، چشمے، تالاب یا ٹیوب ویل کے پانی سے کسی انسان یا کسی جاندار کو پینے سے روکنا اور اس کے لئے عوض وصول کرنا جائز نہیں ہے چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ.
رسول اللہ ﷺ نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔(صحیح مسلم 1565)
اور امام ابویوسف کہتے ہیں:
کنواں ،حوض ،چشمہ یا نہر کا مالک اس پر دوسروں سے زیادہ حق رکھتا ہے لیکن ضرورت سے زائد پانی کو انسانوں چوپایوں، مویشیوں اور دوسرے جانوروں کے پینے سے
منع کرنا درست نہیں البتہ کھیتی اور زمین کو سیراب کرنے سے روک سکتا ہے ۔(1)
لیکن اس پانی کو بھی اگر کوئی برتن اور ٹنکی وغیرہ میں محفوظ کرلے تو اسے بیچنا درست ہے (2)
پانی فلٹر کرنے میں محنت اور لاگت کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اسے فروخت کرنا بدرجہ اولی درست ہے۔
(1)ان صاحب البئر او الحوض او العين او القناة احق به من غيره ولكن يجب بذل ما فضل عن حاجته لشرب بني ادم والبهائم والنعم والدواب وله ان يمنع السقي للارض والزرع والنخل.(كتاب الخراج/95)
(2)إن صاحب البئرلایملك الماء … و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان۔(ردالمحتار258/7.ط۔الاشرفیہ دیوبند )