بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(37) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

44-پلازمہ (Plasma)کی خرید وفروخت:

 

خون مختلف اجزا سے مرکب ہوتا ہے جیسے سرخ خلیات،سفید خلیات،پلیٹ لیٹس اور پلازما وغیرہ ۔

پلازما خون کا ایک اہم بہنے والا جز ہے اور مکمل خون (whole blood) میں اس کا حصہ تقریباً پچپن فیصد ہوتا ہے،اس میں پانی کے علاوہ مختلف پروٹین، البومن، مدافعتی اجزا اور خون جمانے والے عوامل پائے جاتے ہیں ۔

مکمل خون سے مختلف اجزا کو الگ کرکے ضرورت کے مطابق ان میں سے ہر ایک کو طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پلازما کو مناسب شرائط کے تحت منجمد کرکے محفوظ کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس کے اندر موجود مختلف پروٹین اور coagulation factors کی حفاظت کے لیے مقررہ درجۂ حرارت اور مدت کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔

اور جن مریضوں کو خون چڑھانا ہوتا ہے ان میں سے بعض کو پلازما کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی ہے اس لئے خون حاصل کرنے والے سینٹرز اسے الگ کرکے فروخت کردیتے ہیں ۔

آج کل اسے کامل خون سے الگ کرکے براہِ راست بعض مریضوں کے علاج میں استعمال کرنے کے علاوہ اس سے مختلف پروٹین اور داوئیں بنائی جاتی ہیں اور ان میں سے بعض دوائیں زندگی بچانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی۔

پلازما خون کا ایک حصہ ہے اور خون کو قرآن نے واضح انداز میں حرام قرار دیا ہے. (دیکھئے:سورہ المائدہ:3)

اور حدیث میں بہ صراحت خون بیچنے سے منع کیا گیا ہے (صحیح بخاری: 5945)

اور حافظ ابن حجر عسقلانی کہتے کہ اس پر اجماع ہے کہ خون کی خرید و فروخت حرام ہے۔(فتح الباری 426/4 باب ثمن الکلب)

لہذا پلازما کو بیچنا اور عام حالات میں اسے خریدنا درست نہیں ہے(1) البتہ اگر مریض کو بلا عوض خون دستیاب نہ ہو اور اس کی جان کو خطرہ ہو تو ایسی حالت میں اس کے لیے پلازما خریدنا جائز ہے،لیکن بیچنے والے کے لئے معاوضہ لینا درست نہیں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے ۔

نیز کسی طبی ادارے کو پلازما کے حصول، ٹیسٹنگ، پروسیسنگ، اسٹوریج اور فراہمی اور اس سے دوائیں تیار کرنے میں اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہوں، تو ان اخراجات کا عوض، سروس چارج یا انتظامی معاوضہ لینے کی گنجائش ہے۔

جیسا کہ لکھا جاچکا ہے کہ پلازما خون کا ایک اہم عنصر ہے اور خون ناپاک ہے اور عام حالات میں ناپاک چیزوں کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے چاہے دوا کے طور پر ہی کیوں نہ ہو‌ لھذا کسی مرض کے لئے حلال اجزاء پر مشتمل دوا موجود ہوتو پلازما سے دوا بنانا جائز نہیں ہے چنانچہ حدیث میں ہے :

أَنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدِعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا.

نبی کریم ﷺ سے ایک طبیب نے دوا میں میڈک ملانے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے مارنے سے منع فرمایا ۔

(ابو داؤد:3871)

‏۔ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ سندھی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل سے یعنی دوا میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے کہ دوا میں ملانا اسے مارنے پر موقوف ہے لہذا جب اسے مارنا حرام ہے تو اس سے علاج کرنا بھی حرام ہے اور حرمت کی وجہ ناپاک یا گھناؤنی چیز ہونا ہے( ‏2)

لیکن اگر کوئی حلال متبادل موجود نہ ہو اور مرض کی وجہ سے جان جانے یا شدید پریشانی میں مبتلا ہونے کا غالب امکان ہو تو ایسی دوا بنانا اور اسے استعمال کرنا جائز ہے ۔

نیز اگر دوا میں پاک اجزاء زیادہ اور پلازما کی مقدار اس سے کم ہو تو اس کی خرید وفروخت درست ہے (3)

یہ تفصیل اس وقت ہے جب کہ دوا میں شامل کرنے کے بعد پلازما کی ماہیت اور حقیقت برقرار رہے اور اگر اس کی ماہیت تبدیل ہوجائے تو بہر صورت اسے دوا میں استعمال کرنا اور فروخت کرنا جائز ہے ۔

 

(1)لم يجز بيع الميتة والدم) لانعدام المالية التي هي ركن البيع ،فإنهما لا يعدان مالا عند أحد، وهو من قسم الباطل.(البحر الرائق 13 / 198)

(2)‏أي عن التداوي به لأن التداوي به يتوقف على القتل فإذا حرم القتل حرم التداوي به أيضا وذلك إما لأنه نجس أو لأنه مستقذر والمتبادر أنه حرام لا يجوز ذبحه وأكله والله تعالى أعلم .( ‏حاشية السندي على النسائي.رقم الحدیث :4355)

(3)والزيت إذا اختلط به ودك الميتة إن كانت الغلبة للحرام، أو كانا على السواء لا يجوز الانتفاع به بوجه من الوجوه، وإن كانت الغلبة للزيت لا يحل الأكل، ويحل ما عداه من الاستعمال، ودبغ الجلد به والبيع شرط أن يبين عنده. (المحيط البرهاني 10/ 243)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے