بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(13) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

14-گناہ کے کاموں میں تعاون:

 

   اسلام کا اصول یہ ہے حرام کا باعث اور ذریعے بھی حرام ہے اور گنہ گار صرف وہ نہیں ہے جو حرام کا ارتکاب کرے بلکہ گناہ میں وہ تمام لوگ بھی شریک ہیں جو اس کام میں معاون اور مددگار بنیں کیونکہ اس طرح  گناہ کے کاموں کی حوصلے افزائی ہوتی ہے اور ان کو فروغ ملتا ہے اور ان کا حصول آسان ہوجاتا ہے ۔

   اس کے برخلاف اگر گناہ کے راستے بند کردیئے جائیں اور اس کے مواقع باقی نہ رہیں تو گناہ سے بچنا آسان ہوگا اور سماج برائیوں سے محفوظ ہوجائے گا؛ اس لئے جن چیزوں کا استعمال حرام ہے ان کی تجارت بھی ممنوع ہے کیونکہ خرید وفروخت جائز قرار دینے کی وجہ سے ان کو حاصل کرنا آسان ہوگا اور حرام چیزوں کی حرمت کا احساس باقی نہیں رہے گا اور لوگوں کو ان کی طرف راغب کرنا ہوگا ۔

   فرمان باری تعالیٰ ہے:

   وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ۔

   اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔(سورہ المائدة :2)

  اور حضرت جابر سے روایت ہے :

   لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ. وَقَالَ : ” هُمْ سَوَاءٌ ".(صحیح مسلم:1598)

   رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے اور کھلانے والے پر ۔سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر اور کہا یہ سب ایک جیسے ہیں ۔

   اورحضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

   لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ".

   حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے ،پلانے والے ۔بیچنے والے ،خریدنے والے ۔رس کو نکالنے والے ۔نکلوانے والے اور شراب کو اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھاکر لے جایا جارہا ہے اس پر . (ابوداؤد :3674)

    اور حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول روایت کے الفاظ یہ ہیں:

   سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا، وَسَاقِيَهَا وَمُسْتَقِيَهَا ". ( أخرجه أحمد: 2897، وابن حبان :5356، والطبراني 12/233 :12976)

   اس حدیث کے بارے میں امام منذری کہتے ہیں کہ امام احمد نے اسے صحیح سند کے ساتھ  نیز ابن حبان نے اسے صحیح ابن حبان میں نقل کیا ہے اور حاکم نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے ۔{اور علامہ ذہبی نے ان کی تائید کی ہے ۔}(الترغيب175/3)

  اور مذکورہ روایت اور آیت کی روشنی میں فقہاء کرام کے یہاں متفقہ ضابطہ یہ ہے :

    "ما حَرُمَ أخذُه حَرُمَ إعطاؤُه” .

   جس چیز کا لینا حرام ہے اسے کسی کو دینا بھی حرام ہے۔

   اس قاعدے کی تشریح کرتے ہوئے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ جن چیزوں کے لینے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اسے کسی کو دینا بھی حرام ہے خواہ بطور تحفہ مفت میں دے یا کسی چیز کے عوض میں ۔اس لئے کہ اسے دوسرے کو دینا گناہ اور معصیت میں تعاون ہے اور یہ قاعدہ ایک دوسرے قاعدے کی تکمیل کرنے والا ہے جس میں کہا گیا ہے:

    ما ادی الی الحرام فھو حرام ۔

   جو چیز حرام تک پہونچائے وہ بھی حرام ہے ۔

    کسی گناہ کے کام میں اعانت اسی وقت ہوگی جب کہ تعاون کا حقیقتاً یا حکما قصد وارادہ اور نیت پائی جائے۔ حقیقتاً قصد کا مطلب یہ ہے کہ دل میں معصیت کی اعانت کی نیت ہو گرچہ وہ کام بذات خود جائز ہو جیسے شراب بنانے کے ارادے سے انگور فروخت کرنا۔چنانچہ حضرت بریدہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

   من حبسَ العِنبَ أيّامَ القطافِ، حتّى يبيعَه ممَّن يتَّخذُه خمرًا، فقد تقحَّمَ النّارَ على بصيرةٍ۔(المعجم الأوسط للطبرانی:5356.سند حسن ہے ۔بلوغ المرام: 838)

  ‌جو شخص انگور توڑنے کے موسم میں اسے روکے رکھے تاکہ شراب بنانے والوں کے ہاتھ فروخت کرے تو اس نے جان بوجھ کر خود کو جہنم کے گڑھے میں گرا لیا ۔

    یا زبان سے  معصیت کی صراحت کردے جیسے کہ خریدار کہے کہ شراب بنانے کے لئے اس شیرے کو میرے ہاتھ فروخت کر دو اور بیچنے والے نے کہا میں نے  فروخت کیا۔

  حکما اعانت کی نیت ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیز فروخت کی جا رہی ہو وہ گناہ کے کام ہی کے لئے بنائی گئی ہو اور گناہ کے کام علاوہ اس کا کوئی جائز استعمال نہ ہو جیسے بت فروخت کرنا، فلمی گانوں کی ریکارڈنگ کرنا یا فروخت کرنا،فحش ویڈیو اور تصویر فروخت کرنا وغیرہ

   یہ چیزیں بذات خود گناہ ہیں اور ان کا مقصد گناہ اور معصیت کی اشاعت کے سوا اور کچھ نہیں ہے اس لئے یہ چیزیں شریعت کی نگاہ میں مال نہیں ہیں لہذا ان کی خریدوفروخت بیع باطل میں داخل ہے اور خریدار کے ساتھ معصیت میں تعاون بھی ہے ۔حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا:

  إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ ۔

   بلا شبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے شراب ،مردار ،خنزیر اور بتوں کے بیچنے کو حرام قرار دیا ہے ۔(صحیح بخاري: 2236. صحیح مسلم :1581)

 

15- گناہ کے کاموں کا ذریعہ بننا:

 

    وہ چیزیں بھی ممنوع ہیں جو کسی گناہ کا ذریعہ اور سبب بن سکتی ہوں گرچہ وہ بذات خود جائز ہوں چنانچہ قرآن حکیم میں ہے:

   وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ۔

  (مسلمانو) جن (جھوٹے معبودوں) کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں تم ان کو برا نہ کہو، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو برا کہنے لگیں۔ (سورہ الانعام :108)

تفسیر:

  اگرچہ جن دیوتاؤں کو کافر و مشرک لوگ خدا مانتے ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے ؛ لیکن اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کافروں کے سامنے ان کے لئے نازیبا الفاظ استعمال نہ کیا کریں، اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کافر لوگ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں، اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کا سبب تم بنوگے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی شان میں خود گستاخی کرنا حرام ہے اسی طرح اس کا سبب بننا بھی ناجائز ہے، اس آیت سے فقہائے کرام نے یہ اصول نکالا ہے کہ کوئی کام بذات خود تو جائز یا مستحب ہو ؛ لیکن اندیشہ ہو کہ اس کے نتیجے میں کوئی دوسرا شخص گناہ کا ارتکاب کرے گا تو ایسی صورت میں وہ جائز یا مستحب کام چھوڑ دینا چاہیے، تاہم اس اصول کے تحت کوئی ایسا کام چھوڑنا جائز نہیں ہے جو فرض یا واجب ہو۔ (آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

حضرت سعد بن وقاص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

    إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ۔

    مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے جو (رسول اللہ ﷺ سے) کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہ ہو لیکن اس کے بے جا سوال کی وجہ سے اسے حرام قرار دے دیا جائے۔(صحیح بخاری:7289)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

   مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ ". قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : ” نَعَمْ، يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَسُبُّ أَبَاهُ. وَيَسُبُّ أُمَّهُ، فَيَسُبُّ أُمَّهُ ".

    اپنے والدین کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیا کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں دوسرے کے باپ کو گالی دے اور وہ اس کے نتیجے میں اس کے باپ کو گالی دے.کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ جواب میں اس کی ماں کو گالی دے۔(صحیح مسلم: 90)

   معصیت کا سبب اور ذریعہ بننے کی ایک شکل یہ ہے کہ وہ سبب گناہ کے لئے محرک ، داعی اور باعث ہو اور اسی کے نتیجے میں گناہ وجود میں آئے، اس طرح کہ اگر وہ سبب نہ بنتا تو گناہ کا وجود نہ ہوتا۔ کسی گناہ کے کام کے لئے ایسا سبب اور ذریعہ بننا حرام ہے۔

    اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہ سبب کسی معصیت کا باعث اور محرک نہ ہو بلکہ محض اس کا ایک ذریعہ ہو اور معصیت کو وجود میں لانے کے لیے اس میں کسی تبدیلی اور کاریگری کی ضرورت نہ ہے جیسے کہ باغیوں کے ہاتھ ہتھیار فروخت کرنا۔

   ایسی صورت میں اگر بیچنے والے کو قرائن وغیرہ کے ذریعہ معلوم ہوجائے کہ یہ شخص جو چیز خرید رہا ہے اسے گناہ کے کام میں استعمال کرے گا تو اس کے ہاتھ اسے بیچنا مکروہ تحریمی ہے بشرطیکہ زبان سے معصیت کی صراحت نہ کرے اور اگر زبان سے معصیت کی صراحت کر دے تو یہ حرام اعانت میں داخل ہوگا۔

   اور اگر معصیت کو وجود میں لانے کے لئے اس میں کسی کاریگری کی ضرورت ہو جیسے کہ باغیوں کے ہاتھ لوہا فروخت کرنا جس سے وہ ہتھیار بناسکیں اور قرائن وغیرہ سے اسے ان کا مقصد معلوم ہے تو اسے لوہا فروخت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔

 اور دونوں صورتوں میں اگر مقصد معلوم نہ ہو تو فروختگی بلا کراہت جائز ہے ۔

(دیکھئے:فقہ البیوع 180/1)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے