بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(46) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

53-انسانی دودھ کی خرید وفروخت

 

   اسلام کی نگاہ میں انسان ایک مکرم و محترم ہستی کا نام ہے،اور اسے یا اس کے جسم کے کسی حصے کو سامان تجارت اور قابل فروخت قرار دینا اس کی عظمت کے خلاف ہے ۔

   لہذا انسانی دودھ کی خرید وفروخت ناجائز ہے کہ وہ انسان کے جسم کا ایک حصہ ہے ۔

    نیز جب کوئی بچہ کسی عورت کا دودھ پیتا ہے تو اس سے رضاعت کا رشتہ استوار ہوجاتا اور نسب کی طرح سے رضاعی رشتے داروں سے بھی نکاح حرام ہو جاتا ہے۔

   اوراگر انسانی دودھ کو قابل فروخت بنا دیا جائے تو یہ معلوم کرنا بڑا دشوار ہوگا کہ کس بچے نے کس عورت کا دودھ پیا ہے؟اس سے مستقبل میں دودھ کی وجہ سے حرام رشتوں کے درمیان نادانستہ نکاح کا سنگین خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

    یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے پستان سے دودھ پینا ضروری نہیں ہے بلکہ کسی بھی طریقے سے دودھ پیٹ تک پہونچ جائے تو حرمت رضاعت ثابت ہوجائے گی خواہ چمچ اور گلاس کے ذریعے ہو یا کسی اور طریقے سے، اور منہ کے راستے سے پہونچنا بھی ضروری نہیں ہےبلکہ ناک کے ذریعہ بھی پیٹ میں دودھ پہنچنے سے حرمت ثابت ہوجائے گی ،چاروں اماموں کا اس پر اتفاق ہے؛کیونکہ حدیث میں ہے :

    لا يُحرِّمُ مِن الرَّضاعِ إلّا ما أنبَتَ اللَّحمَ وأنشَزَ العَظمَ.

  حرمت رضاعت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب دودھ سے گوشت بنے اور ہڈی بڑھے۔

(مسند احمد:4114.صحيح بشواهده. شعيب الأرنؤوط. أبو داود2060 )

    دودھ پلانے کی مدت میں جس طرح سے بھی دودھ پیٹ میں پہونچ جائے تو اس سے بچے کی نشوونما ہوتی ہے اس لئے اس سے بھی رضاعت ثابت ہوجائے گی ۔کیونکہ اصل  دودھ کا پیٹ میں پہنچنا ہے اور دودھ استعمال کرنے کے طریقہ کی کوئی اہمیت نہیں بس شرط یہ  ہے کہ دودھ پینا مدتِ رضاعت کے اندر ہو.

    اسی طرح سے اگر متعدد عورتوں کا دودھ مخلوط ہو تو کم و بیش کا لحاظ کئے بغیر ہر ایک سے حرمت رضاعت ثابت ہوجائے گی ۔

   اگر کسی بچے کے لئے انسانی دودھ ناگزیر ہوجائے تو اس  کے لئے کسی دودھ پلانے والی عورت کا نظم  کیا جائے اور اسے دودھ پلانے کی اجرت دینا دودھ خریدنا نہیں ہے بلکہ سروس چارج اور خدمت کا معاوضہ ہے جو قرآن سے ثابت ہے۔

    اور اگر دودھ پلانے والی دستیاب نہ ہو اور انسانی دودھ نہ ملنے کی وجہ سے جان جانے یا ناقابل برداشت بیماری میں مبتلا ہونے کا ظن غالب ہے تو بدرجہ مجبوری دودھ خریدنے کی گنجائش ہے لیکن بیچنا ناجائز ہے اور اس حالت میں بھی جس عورت کا دودھ خریدا جارہا اس کی شناخت  اور اس کا نام اور پتہ وغیرہ کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ رضاعی رشتے دار سے نکاح کرنے سے بچا جاسکے ۔(1)

    اسی طرح سے اگر کوئی بالغ شخص کسی شدید بیماری میں مبتلا ہو اور عورت کے دودھ کے علاوہ دوسرا متبادل موجود نہ ہو تو اس کے لئے علاج کے مقصد سے عورت کا دودھ پینا جائز ہے (2) اور اگر مفت دستیاب نہ ہو تو خریدنا بھی درست ہے.

    واضح رہے کہ مالکیہ،شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں راجح قول کے مطابق انسانی دودھ کی خرید وفروخت درست ہے ؛ کیونکہ دودھ ایک پاک اور مفید چیز ہے تو جس طرح سے بچے کے لئے اس کا پینا جائز ہے اسی طرح سے اسے بیچنا بھی درست ہے جیسے کہ بکری اور گایے وغیرہ کی دودھ کو پینا اور بیچنا جائز ہے ۔

(دیکھئے:مغنی المحتاج، کتاب البیوع 18/2.

مواہب الجلیل66/6. المغنی 924/5)

   لیکن یہ محدود پیمانے پر دودھ فروخت کرنے سے متعلق ہے اس کا یہ مطلب لینا بالکل غلط ہوگا کہ ان کے یہاں انسانی دودھ خرید کر ذخیرہ کرنا اور دودھ بینک (Human Milk Bank) قائم کرنا اور ضرورت مندوں کو بیچنا درست ؛ کیونکہ ان کے نزدیک بھی حرمت رضاعت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے چنانچہ اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ نے یہ قرارداد پاس کی ہے :

   اسلام کی نگاہ میں رضاعت کا رشتہ نسب کے رشتے کی طرح ہے اور مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ نسب کی وجہ سے حرام ہونے والے رشتے رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتے ہیں اور شریعت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد نسب کی حفاظت ہے اور دودھ بینک قائم کرنے کی وجہ سے نسب میں اختلاط ہوگا یا اس میں شک پیدا ہوجائے گا لہذا اسلامی دنیا میں دودھ بینک قائم کرنا ممنوع ہے اور اس بینک سے حاصل کردہ دودھ کی وجہ سے حرمت رضاعت ثابت ہوجائے گی۔(فقہ البیوع 304/1)

 

(1)وَالْوَاجِبُ عَلَى النِّسَاءِ أَنْ لَا يُرْضِعْنَ كُلَّ صَبِيٍّ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ، وَإِذَا أَرْضَعْنَ فَلْيَحْفَظْنَ ذَلِكَ وَلْيُشْهِرْنَهُ وَيَكْتُبْنَهُ احْتِيَاطًا اهـ رد المحتار 212/3ط الحلبي

(2)لابأس بأن یسعط الرجل بلبن المرأۃ ویشربہ للدواء۔ ( الہندیۃ 355/5)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے