بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(51) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
58-بانڈ (Bond) کی خرید وفروخت:
بانڈ درحقیقت قرض کی رسید یا دستاویز ہے ،کوئی حکومت،کمپنی یا ادارہ کسی پروجیکٹ کے لئے لوگوں سے قرض کی درخواست کرتا ہے اور اس کے حصول کے بعد
ایک رسید بالفاظ دیگر بانڈ جاری کردیتا ہے اس کی دو قسمیں زیادہ رائج ہیں:
1-زیرو کوپن بانڈز: (Zero-Coupon Bonds)
اس میں بانڈ پر لکھی ہوئی قیمت ادا کردہ رقم سے زیادہ ہوتی ہے مثلاً اس نے نوے ہزار روپے جمع کیا ہے اور اسے جو بانڈ ملا ہے اس پر ایک لاکھ روپیہ درج ہے جسے سال بھر کے بعد ادا کیا جائے گا ۔
2-کوپن بانڈز(Coupon Bons):
اس میں بانڈ پر لکھی ہوئی اور ادا کردہ رقم یکساں ہوتی ہے البتہ اس کے حامل کو ہر سال فائدہ یا انٹریسٹ کے نام سے کچھ رقم دی جاتی ہے اور مقررہ مدت کے بعد اصل رقم واپس کردی جاتی ہے۔مثلا ادا کردہ رقم ایک لاکھ اور سالانہ سود کی شرح آٹھ فی صد ہے یعنی ہر سال اسے آٹھ ہزار روپیہ ملتا رہے گا اور پھر مثلاً پانچ سال کے بعد اصل رقم یعنی ایک لاکھ روپیہ واپس کردیا جائے گا ۔
دونوں شکلوں میں قرض پر مشروط اضافہ ملتا ہے اور قرض پر مشروط اضافہ سود ہے اس لئے یہ معاملہ حرام ہے ۔
مذکورہ دونوں صورتوں میں اگر کوئی مقررہ وقت سے پہلے اپنا سرمایہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت کردیتا ہے لیکن یہ فروختگی بھی صحیح نہیں ہے نہ کمی بیشی کے ساتھ اور نہ اصل سرمایہ کے بدلے اس لئے کہ اس میں مدیون کے علاوہ دوسرے کے ہاتھ دین کو فروخت کرنا ہے جو درست نہیں ہے، البتہ اگر کوئی اس معاملے میں مبتلا ہوگیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق عطاء فرمائی اور وہ اب اپنا اصل سرمایہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ کسی ایسے شخص سے جو انٹریسٹ کا طلب گار نہ ہو قرض لے لے اور اس قرض کی ادائیگی بانڈ جاری کرنے والی کمپنی کے حوالے کردے اور وہ مقررہ مدت پر صرف ادا کردہ قرض کے بقدر رقم حاصل کرلے۔(دیکھئے: فقہ البیوع 341/1)