بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(47) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
54-قسطوں پر خرید وفروخت:
قسطوں پر خرید وفروخت درست ہے گرچہ نقد کے مقابلے میں قسطوں پر خریدنے میں زیادہ قیمت لگائی گئی ہو۔
ائمہ اربعہ اسی کے قائل ہیں ؛ کیونکہ اس معاملے کے ناجائز ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ رہا ادھار میں قیمت کا زیادہ ہونا تو اسے ربا نہیں کہا جا سکتا ہے اس لئے کہ ربا قرض پر اضافے یا سودی اموال کا باہم کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کا نام ہے۔ اور یہاں ایسی کوئی صورت نہیں ہے بلکہ یہ عام بیع ہے جس میں فروخت کنندہ کو شرعاً اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی چیز کو جس قیمت میں چاہے فروخت کرے ۔
نیز کسی مرغوب وصف کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کرنا اور غیر مرغوب وصف کی وجہ سے قیمت میں کمی کرنا بھی درست ہے جیسے کہ اچھی کوالٹی کی قیمت زیادہ ہوتی اور اس سے فروتر کوالٹی کی قیمت کم ہوتی ہے۔
اس کے برعکس ایک ہی جنس کی عمدہ اور ردی چیز کا تبادلہ آپس میں کرنا ہو تو کمی بیشی کے ساتھ ناجائز ہے ؛ کیونکہ یہ اضافہ وصف کے بدلے میں ہے ، وصف کیوجہ سے نہیں چنانچہ حدیث میں ایک صاع عمدہ کھجور کو دو صاع ردی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع کیا گیا ہے ،اس لئے کہ ایک صاع کا عوض ایک صاع ہے اور دوسرا صاع عمدگی کی صفت کے بدلے ہے اور وصف کا کوئی عوض نہیں ہوتا اس لئے یہ ربا ہے۔
اور اس طرح کا معاملہ کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے یہ تدبیر بیان فرمائی کہ پہلے ردی کھجور کو کم قیمت میں فروخت کردو اور پھر حاصل ہونے والے عوض سے زیادہ قیمت دے کر عمدہ کھجور خرید لو۔
ظاہر ہے کہ عمدہ کھجور کی قیمت میں اضافہ اس کے وصف مرغوب کی وجہ سے ہے ۔اور وصف مرغوب کی وجہ سے قیمت میں اضافہ ایک عقلی اور فطری بات ہے ۔
اسی طرح سے شریعت میں عقد سلم کی اجازت دی گئی ہے جس میں عوض پہلے ادا کردیا جاتا ہے اور سامان ایک متعین مدت کے بعد ملتا ہے اور عوض پہلے ادا کر دینے کی وجہ سے عام طور پر سامان بازار بھاؤ سے کم قیمت میں مل جاتا ہے ۔
اس معاملے میں سامان کی قیمت میں کمی عوض پہلے ادا کردینے کی وجہ سے ہے دوسرے الفاظ میں مدت کی وصف کی وجہ سے عوض میں کمی کردی گئی ہے ۔
غرضیکہ کہ وصف مرغوب کی وجہ سے قیمت میں کمی بیشی ایک عام بات ہے۔کسی چیز کو ادھار حاصل کرنے میں بھی آسانی ہے اور اس وصف کے سبب لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں لہذا اس کی وجہ سے قیمت کے اضافے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ یہ اضافہ مدت کا عوض نہیں بلکہ مدت کی وجہ سے ہے ۔کیونکہ مدت ایک وصف ہے اور وصف کا کوئی عوض نہیں ہوتا البتہ وصف کی وجہ سے قیمت میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ قسطوں پر خرید و فروخت میں سب سے پہلے یہ طے کر لینا ضروری ہے کہ سودا نقد کیا جارہا ہے یا ادھار اور ان میں سے ایک کو متعین کرکے معاملہ کو مکمل کرلیا جائے ۔
اگر ثمن کی ادائیگی قسطوں میں ہو تو قسطیں اور ان کی ادائیگی کی مدت طے کی جائے اور وقت مقررہ پر ادا نہ کرنے کی صورت میں جرمانے کی شرط نہ لگائی جائے اور نہ ہی وقت مقررہ سے پہلے ادائیگی کی صورت میں قیمت میں کمی کی شرط لگائی جائے۔ البتہ خریدار پر لازم ہوگا کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر وقت پر ہر قسط ادا کرے۔
اگر عقد کے وقت نقد یا ادھار کی تعیین نہ کی جائے بلکہ یہ سمجھا جائے کہ خریدار اپنی سہولت کے اعتبار سے ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرلے گا تو عقد فاسد ہےچنانچہ حضرت ابوھریرہ سے منقول ایک حدیث میں ہے :
نَهي رسولُ اللَّهِ ﷺ عن بيعتينِ في بيعةٍ۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔(جامع ترمذي: 1231)
امام ترمذی اس حدیث کی وضاحت میں کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار سے کہے کہ میں یہ کپڑا نقد دس درہم میں اور ادھار بیس درہم میں بیچ رہا ہوں پھر کسی ایک پر اتفاق کے بغیر دونوں جدا ہوجائیں لیکن اگر ان میں سے کسی ایک پر اتفاق ہونے کے بعد جدائیگی ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یعنی اس بیع کے ممنوع ہونے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ادھار کی قیمت نقد سے زیادہ رکھی گئی ہے بلکہ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ثمن مجہول ہے، پتہ نہیں چل رہا ہے کہ معاملہ کس پر طے ہوا ہے؟ نقد ثمن پر یا ادھار ثمن پر؟ لیکن اگر کسی ایک پر اتفاق ہو جائے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ ادھار کی قیمت زیادہ ہو ۔
اور حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں :
لا باس ان يقول للسلعة هي بنقد بكذا وبنسيئة بكذا ولكن لا يفترقان الا عن رضا۔
اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی سامان کو نقد ایک قیمت میں اور ادھار دوسری قیمت میں فروخت کرے لیکن وہ دونوں ان میں سے کسی ایک پر رضامندی کے بغیر جدا نہ ہوں۔(مصنف ابن ابي شيبه :494)
اسی طرح سے یہ بھی جائز ہے کہ مختلف مدتوں کے اعتبار سے مختلف قیمتیں متعین کرے مثلاً یہ کہے کہ ایک ماہ کی ادھار پر قیمت دس روپے،دو ماہ کی ادھار پر پندرہ روپیہ اور تین ماہ کی ادھار پر بیس روپئے ہوں گے لیکن کسی ایک پر اتفاق کرکے معاملہ مکمل کرنا لازم ہے یعنی یہ طے کرنا ضروری ہوگا کہ وہ کتنی مدت تک کے ادھار پر لے رہا ہے؟ ایک ماہ ، دو ماہ یا تین ماہ کے لئے؟ اس کے بغیر اگر یہ کہہ کر الگ ہوگئے کہ خریدار اپنی سہولت اور حالت کے اعتبار سے ان میں سے کسی ایک مدت میں ادا کردے گا تو یہ بہ اتفاق ناجائز ہے اسی کو مذکورہ حدیث میں ایک معاملے میں دو معاملہ کہا گیا ہے جیسا کہ گزر چکا ۔
نیز اگر ان میں سے کوئی ایک طے ہوجائے لیکن خریدار وقت پر قسط ادا نہ کر سکے اور مہلت یا لیٹ پیمنٹ کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کیا جائے تو یہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں خریدار سامان کا مالک بن چکا ہے اور اس کا ثمن اس کے ذمے دین ہے اور بیچنے والا وقت پر دین ادا نہ کرنے کی وجہ سے دین میں اضافہ کا مطالبہ کرکے ربا کا ارتکاب کررہا ہے دوسرے الفاظ میں وہ مہلت کا عوض لے رہا ہے ۔(دیکھئے بحوث فی قضایا فقہیہ معاصرہ 13/1)
حضرت ابوھریرہ سے منقول ایک دوسری حدیث میں ہے :
مَن باع بَيعتينِ في بَيعةٍ فله أوكَسُهما أو الرِّبا۔
جو کوئی ایک بیع میں دو بیع کرے تو اس کے لئے ان میں سے کم تر ہے یا ربا ہے ۔(سنن ابوداؤد:3461.صحیح ابن حبان:4974 (٤٩٧٤)،مستدرک حاکم:2292)
علامہ منذری کہتے ہیں کہ اس کی سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جس پر متعدد لوگوں نے کلام کیا ہے اور محمد بن عمرو کی سند سے دراوردی اور محمد بن عبداللہ انصاری کی روایت میں یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع سے منع فرمایا ہے۔
اور علامہ ظفر احمد عثمانی کہتے ہیں کہ اس کی سند میں محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور متعدد لوگوں نے اس پر کلام کیا ہے اور وہ اس روایت میں تن تنہا ہے اور خود اسی کی روایت کردہ مشہور حدیث کے برخلاف ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع سے منع فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں بیع فاسد ہے اور اس کے برخلاف امام ابو داؤد نے ان کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ دلالت کرتا ہے دو ثمن میں سے کمتر کے بدلے بیع جائز ہے لہذا ان کی منفرد روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کی وہی روایت قبول کی جائے گی جس پر دوسرے لوگ ان کی موافقت کریں۔
اور علامہ خطابی کہتے ہیں کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ فقہاء میں سے کوئی حدیث کے ظاہر کا قائل ہو اور دو قیمتوں میں سے کم قیمت والی بیع کو صحیح قرار دیا سوائے امام اوزاعی کہ وہ اسے صحیح کہتے ہیں اور ان کا یہ نظریہ فاسد ہے۔ اس لیے کہ اس سودے میں غرر اور جہالت ہے اور محمد بن عمرو عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ کی سند سے مشہور روایت یہ ہے :
نہیں النبی عن بیعتین فی بیعۃ ۔
اور امام ابو داؤد کی روایت کردہ حدیث کے بارے میں ایسا لگتا ہے یہ کسی متعین چیز کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے گویا کہ کسی نے سلم کا معاملہ کیا تھا مثلاً ایک دینار کے بدلے ایک قفیز گیہوں ایک مہینے بعد حوالے کرنا تھا اور جب مہینہ پورا ہوا تو خریدار نے گیہوں کا مطالبہ کیا تو بیچنے والے نے کہا کہ تمہارا ایک قفیز جو میرے ذمے ہے اسے مجھ سے دو قفیز کے بدلے بیچ دو جس سے ایک مہینے کے بعد میں حوالے کروں گا تو یہ دوسری بیع ہے جو پہلی بیع میں داخل ہوگئی اس طرح سے ایک بیع میں دو بیع ہوگئی، ایسی صورت میں اسے دونوں میں سے کم تر ملے گا جو کہ اصلا اسے ملنا چاہیے لہذا اگر پہلی مبیع پر قبضہ کے بغیر اسے فروخت کرے تو دونوں سودی معاملہ کرنے والے ہوں گے۔(فقہ البیوع 530/1)