بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(4) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

 

4-بیع عینہ:

 

بیع عینہ سودی قرض کا ایک حیلہ جس میں ایک شخص کسی چیز کو ادھار مہنگے داموں بیچ کر، اسی چیز کو کم قیمت پر نقد خرید لیتا ہے۔اور مقصد خرید و فروخت نہیں، بلکہ قرض پر سود لینا ہوتا ہے۔مثلا خالد کو پچاس ہزار روپے کی ضرورت ہے اور اس نے شاہد سے قرض کی درخواست کی لیکن وہ اس پر سود لینا چاہتا ہے اور براہ راست سود نہ لے کر اس کے لئے ایک حیلہ اختیار کرتا ہے کہ تم میری گاڑی سال بھر کے ادھار پر ساٹھ ہزار میں لے لو اور پھر مجھے پچاس ہزار میں نقد بیچ کر قرض کے بقدر رقم حاصل کرلو ۔اس طرح سے وہ سال بھر کے لئے پچاس ہزار قرض دے کر ساٹھ ہزار وصول کرتا ہے ۔

یہ محض سودی قرض کا ایک حیلہ ہے اور ناجائز ہے کیونکہ ہر وہ معاملہ جو ربا تک پہونچائے وہ نادرست ہے ۔چنانچہ حدیث میں ہے:

إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ ؛ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ ".

جب تم بیع عینہ کروگے اور جانوروں کی دیکھ بھال میں منہمک اور زراعت میں گم ہوجاؤ گے اور جہاد چھوڑ دوگے تو اللہ تم پر ذلت و رسوائی مسلط کردے گا، یہاں تک کہ تم دوبارہ دین کی طرف لوٹ آؤ۔(سنن أَبُو دَاوُدَ : 3462)

اور حضرت عبداللہ بن عباس دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کسی کو سو درہم میں ریشمی کپڑا فروخت کرتا ہے اور پھر اسے پچاس درہم میں خرید لیتا تو اس کا کیا حکم ہے ؟تو انھوں نے فرمایا:

دراهم بدراهم متفاضلة دخلت بينها حريرة.

یہ کمی بیشی کے ساتھ درہم کا تبادلہ درہم سے کرنا ہے ،ریشمی کپڑے کو بس یونہی درمیان داخل کردیا گیا ہے ۔(تهذيب السنن لابن القيم 101/5)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے