بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(26) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

33-خنزیر کے بال کا برش:

 

اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

 

   قُلۡ لَّاۤ  اَجِدُ فِیۡ مَاۤ   اُوۡحِیَ  اِلَیَّ  مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطۡعَمُہٗۤ اِلَّاۤ  اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا اَوۡ لَحۡمَ  خِنۡزِیۡرٍ فَاِنَّہٗ رِجۡسٌ اَوۡ فِسۡقًا اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللّٰہِ  بِہٖ ۚ فَمَنِ اضۡطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ  وَّ لَا عَادٍ  فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوۡرٌ  رَّحِیۡمٌ ۔

   (اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لیے حرام ہو الا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے، یا جو ایسا گناہ کا جانور ہو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ ہاں جو شخص (ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر) انتہائی مجبور ہوجائے جبکہ وہ نہ لذت حاصل کرنے کی غرض سے ایسا کر رہا ہو، اور نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھے، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (سورہ الانعام: 145)

تفسیر:

 مطلب یہ ہے کہ جن جانوروں کو بت پرستوں نے حرام قرار دے رکھا ہے ان میں سے کسی جانور کے بارے میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت کا حکم ان چار چیزوں کے سوا نہیں آیا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے جانوروں میں بھی کوئی جانور حرام نہیں، چنانچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر قسم کے درندوں وغیرہ کے حرام ہونے کی وضاحت فرمادی ہے۔

 (آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

   مذکورہ آیت کی روشنی میں امام ابوحنیفہ ،شافعی اور احمد بن حنبل کے نزدیک خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ ناپاک اور حرام ہے خواہ خشک ہڈی اور بال ہی کیوں نہ ہو لہذا اس کے جسم کے کسی بھی حصے کو استعمال کرنا یا فروخت کرنا صحیح نہیں ہے ۔البتہ حنفیہ اور شافعیہ دونوں کے نزدیک خنزیر کے بال سے خف اور موزے کی سلائی حاجت اور ابتلاء عام کی وجہ سے جائز ہے اور اس میں پڑھی گئی نماز درست ہے لیکن  یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس کا متبادل موجود نہ ہو لہذا سلائی کے لئے دوسرا مضبوط دھاگا دستیاب ہو تو خنزیر کے بال کو استعمال کرنا درست نہیں ہے.

   اس کے برخلاف مالکیہ کے نزدیک خنزیر کا بال پاک ہے.(الموسوعہ 33/20-35.حاشية الجمل على شرح منهج الطلاب87/2 )

  امام ابوحنیفہ سے بھی ایک قول اسی کے مطابق منقول ہے چنانچہ علامہ کاسانی لکھتے ہیں:

    خنزیر کے بارے میں امام ابوحنیفہ ؒ سے منقول ہے کہ وہ سراپا نجس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے "رجس” کہا ہے لہذا اس کے بال اور تمام اجزاء کا استعمال حرام ہے البتہ انھوں نے موزہ وغیرہ سلنے والوں کو ضرورت کی بنیاد پر اس کے بال کے سلسلے میں رخصت دی ہے ۔اور امام ابویوسف سے فقہ حنفی کے دوسرے درجے کی کتابوں میں روایت ہے کہ انھوں نے صراحتا اس سے جوتا سلنے کو مکروہ کہا ہے ۔اور تمام روایات کے مطابق اس کی بیع جائز نہیں ہے ۔اور اگر اس کا بال تھوڑے پانی میں گرجائے تو امام ابویوسف کے نزدیک پانی ناپاک ہوجائے گا ۔اور امام محمد کہتے ہیں کہ جب تک کہ بال پانی پر غالب نہ ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوگا جیسے کہ دوسرے جانوروں کے بال کا یہی حکم ہے ۔

 اور ائمہ حنفیہ سے فقہ حنفی کے دوسرے درجے کی کتابوں میں منقول ہے کہ اس کا بال وغیرہ پاک ہے اس لئے کہ اس میں خون نہیں ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے کہ بال بھی ناپاک ہے کیونکہ خنزیر کے بال کی ناپاکی کی وجہ خون اور رطوبت نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ مکمل طور پر ناپاک ہے (1)

   ‏اور امام احمد سے بھی ایک روایت یہی منقول ہے جسے ابو بکر عبدالعزیز اور شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ نے راجح قرار دیا ہے

‏ (الفتاوى الكبرى 5/ 264).

   ان حضرات کی دلیل ہے یہ ہے کہ ضمیر کا مرجع خنزیر نہیں بلکہ لحم خنزیر (خنزیر کا گوشت) ہے ۔یا یہ کہ "رجس”ناپاکی پر دلالت نہیں کرتا ہے بلکہ گندگی اور گھناؤنے پن کو ظاہر کرتا ہے ۔

   دلیل کے اعتبار سے راجح یہی ہے کہ خنزیر سراپا نجاست غلیظہ ہے اور وہ مال کی حقیقت میں داخل نہیں ہے اور اس کی خرید وفروخت اور لین دین باطل ہے لہذا اس کے بال کا پینٹ برش فروخت کرنا بھی صحیح نہیں ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز ہے۔ البتہ ساری مدنی ناجائز نہیں ہوگی بلکہ صرف خنزیر کے بالوں کے مقابلہ میں آنے والی آمدنی درست نہیں ہوگی۔

   چونکہ مارکیٹ میں پلاسٹک اور دیگر حلال یا مصنوعی ریشوں (Synthetic/Plastic) کے برش کثرت سے دستیاب ہیں، اس لئے خنزیر کے بال کے پینٹ برش وغیرہ کی کوئی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔لہذا اس کی خرید وفروخت ناجائز ہے ۔

    لیکن اگر کسی جگہ اس طرح کا برش دستیاب نہ ہو یا کافی مہنگا ہو تو حاجت اور مجبوری کی بنیاد پر اس کی خرید وفروخت درست ہے اور اسے پاک سمجھا جائے گا ۔(2)

 

(1)وَأَمَّا الْخِنْزِيرُ: فَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ نَجِسُ الْعَيْنِ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَصَفَهُ بِكَوْنِهِ رِجْسًا فَيَحْرُمُ اسْتِعْمَالُ شَعْرِهِ وَسَائِرِ أَجْزَائِهِ، إلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي شَعْرِهِ لِلْخَرَّازِينَ لِلضَّرُورَةِ.۔۔۔

وَرُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ فِي غَيْرِ رِوَايَةِ الْأُصُولِ أَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ أَيْضًا نَصًّا وَلَا يَجُوزُ بَيْعُهَا فِي الرِّوَايَاتِ كُلِّهَا، وَلَوْ وَقَعَ شَعْرُهُ فِي الْمَاءِ الْقَلِيلِ، رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ يُنَجِّسُ الْمَاءَ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ لَا يُنَجِّسُ مَا لَمْ يَغْلِبْ عَلَى الْمَاءِ كَشَعْرِ غَيْرِهِ.

وَرُوِيَ عَنْ أَصْحَابِنَا فِي غَيْرِ رِوَايَةِ الْأُصُولِ أَنَّ هَذِهِ الْأَجْزَاءَ مِنْهُ طَاهِرَةٌ؛ لِانْعِدَامِ الدَّمِ فِيهَا، وَالصَّحِيحُ أَنَّهَا نَجِسَةٌ؛ لِأَنَّ نَجَاسَةَ الْخِنْزِيرِ لَيْسَتْ لِمَا فِيهِ مِنْ الدَّمِ وَالرُّطُوبَةِ بَلْ لَعَيْنِهِ.بدائع63/1

والخنزير ليس بنجس العين عند أبي حنيفة على ما في التجريد وغيره…

‏والخنزير ليس بنجس العين، لكن تركه لظهور أن المذهب خلافه، والتعليل بنجاسةِ عينه مبنيٌ على ما هو المذهب.(رد المحتار 57/10.کتاب الصید)

(2) (خلافا لمحمد) راجع الى قوله "ويفسد الماء” اي: فانه لا يفسد عنده قال الزيلعي :لان اطلاق الانتفاع به دليل طهارته وهذا يفيد عدم تقييد حل الانتفاء به بالضرورة ويفيد جواز بيعه ولذا قال في النهر وينبغي ان يطيب للبائع الثمن على قول محمد. (رد المحتار 266/6.كتاب البيوع)

"وأما ‌شعر ‌الخنزير فهو نجس هو الظاهر في مذهب أبي حنيفة رحمة الله عليه، وروي أنه رخص للخرازين استعماله؛ لأن منفعة الخرز عادة لا تحصل إلا به وجرت العادة في زمن الصحابة رضوان الله عليهم إلى يومنا هذا في استعماله في الخرز من غير نكير منكر.”

(المحیط البرہانی 476/1کتاب الصلاۃ،ط؛دار الکتب العلمیۃ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے