بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(58) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
65-لاٹری:
لاٹری ایک ایسا طریقۂ کار اور اسکیم ہے ہے جس میں متعدد افراد بیش قیمت انعام حاصل کرنے کی امید پر معمولی رقم ادا کرتے ہیں، پھر قرعہ اندازی یا کسی اتفاقی طریقے سے ایک یا چند افراد کو انعام کا مستحق قرار دیا جاتا ہے، جبکہ باقی افراد کی رقم واپس نہیں کی جاتی ہے چنانچہ ’’بلیک‘‘ کے قانونی ڈکشنری میں لاٹری کی یہ تعریف کی گئی ہے:
کسی قیمت کے بدلے انعام حاصل کرنے کا موقع (chance)حاصل کرنا لاٹری ہے۔
اس تعریف کا تجزیہ کرتے ہوئے اسی ڈکشنری میں آگے کہا گیا ہے :
لاٹری کے تین لازمی عناصر ہیں: ایک مالی معاوضہ(جو داؤ پر لگایا جاتاہے) دوسرے انعام، تیسرے چانس۔ (البلاغ اکتوبر 1992ء)
غرضیکہ بخت و اتفاق(Luck and Chance) کے دوسرے کھیلوں کی طرح لاٹری بھی ہے جس میں ایک قلیل رقم اس امید میں داؤ پر لگائی جاتی ہے کہ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو ایک خطیر رقم ہاتھ آئے گی ورنہ تو معمولی رقم ڈوب جائے گی۔ اور یہی جوا ہے .
اور کتاب وسنت میں جوئے کو سخت گناہ اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۔اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ۔
اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے۔ اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے) باز آجاؤ گے ؟(سورہ المآئدۃ : 90 ۔91)
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَن حَلَفَ فقالَ في حَلِفِهِ: واللّاتِ والعُزّى، فَلْيَقُلْ: لا إلَهَ إلّا اللَّهُ، ومَن قالَ لِصاحِبِهِ: تَعالَ أُقامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ.
جس نے لات و عزیٰ نامی بت کی قسم کھائی تو وہ لا اله الا الله پڑھے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا :آؤ ! جوا کھیلیں تو وہ صدقہ کرے ۔ (صحيح بخاري:4860.صحيح مسلم :1647)
یعنی صرف جوا کھیلنا ہی حرام نہیں بلکہ جوئے کی طرف بلانا اور جوا کھیلنے کا ارادہ ظاہر کرنا بھی گناہ ہے اور اس گناہ کا کفارہ یہ ہے کہ وہ کچھ صدقہ کرکے اللہ سے معافی کا طلب گار ہوگا۔
اور حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إن اللہ حرم علیکم الخمر و المیسر و الکوبۃ ۔
بلاشبہ ﷲ تعالیٰ نے شراب ، جوا اور ڈھول کو حرام کیا ہے ۔(مسند احمد، حدیث:2625)
لاٹری کے ٹکٹ کو خریدنا اور بیچنا دونوں حرام ہیں ، نیز کسی بھی درجہ میں تعاون کرنا ناجائز اور نادرست ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کا فرمان ہے :
ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب۔
گناہ اور ظلم میں مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے ۔
علامہ شبیر احمدعثمانی اس آیت کی تفسیرمیں لکھتے ہیں:
حق پرستی، انصاف پسندی اور تمام عمدہ اخلاق کی جڑ خدا کا خوف ہے ، اگر خدا سے ڈر کر نیکی سے تعاون اور بدی سے ترک تعاون نہ کیا تو عذاب عام کا اندیشہ ہے۔