بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(52) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

59-پرائز بانڈز (prize bonds) :

 

   پرائز بانڈ میں حکومت یا پرائیویٹ کمپنی جاری کردہ بانڈ پر انفرادی طور پر کسی کو انٹریسٹ نہیں دیتی ہے بلکہ مثلاً سال گزرنے پر لکی ڈرا کے ذریعے جس کے بانڈ کا نمبر  نکل آتا ہے اسے انعام دیا جاتا ہے اور یہ انعام مجموعی طور پر تمام ممبران کے لئے مشروط ہوتا ہے یعنی بانڈ جاری کرنے والا ادارہ اس کی ادائیگی کا قانونی طور پر پابند ہوتا ہے چنانچہ اگر وہ مقررہ مدت پر انعام نہ دے تو بانڈ کے حامل ہر شخص کو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوتا ہے ۔

   چونکہ اس میں بھی قرض پر مشروط اضافہ ملتا ہے اس لئے یہ بھی سود ہے اور اس طرح کے بانڈ کو لینا حرام ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اضافہ انفرادی طور پر مشروط نہیں ہے کیونکہ اضافہ انفرادی طور پر ہر ایک کے لئے مشروط ہو یا گروپ میں سے غیر متعین طور پر کسی ایک شخص کے لئے ، دونوں کا حکم یکساں ہے بلکہ یہ انفرادی سطح پر ہر ایک کو سود دینے سے بدتر ہے کیونکہ اس میں ملنے والے سود کی مقدار بہت معمولی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بانڈ حاصل کرنے میں لوگوں کی دلچسپی بہت کم ہوتی ہے اس کے برعکس گروپ میں سے کسی ایک کو ملنے والا انعام بہت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک بہت بڑی تعداد اس طرح کے بانڈ کو حاصل کرنے کی طرف لپکتی ہے گویا کہ اس میں ایک طرح سے جوا کی ذہنیت بھی شامل ہوجاتی ہے کہ اصل سرمایہ کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہے اور اگر قسمت نے ساتھ دیا تو ایک بیش قیمت انعام حاصل ہوگا ۔

   جس کی تفصیل یہ ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے  انفرادی شرح سود کے مجموعہ کو بطور انعام کسی ایک شخص کو دے دیا جاتا ہے  یعنی مثلاً  ایک ایک  لاکھ کا بانڈ جاری کیا گیا اور سو لوگوں نے اسے حاصل کیا اس طرح سے ایک کروڑ روپیہ جمع ہوگیا اور ہر ایک کے لئے شرح سود کی مقدار سالانہ آٹھ فیصد ہے اس اعتبار سے ہر ایک کو  سالانہ آٹھ ہزار ملنا چاہئے لیکن اس کے بجائے کمپنی نے سو لوگوں کے انٹریسٹ کو جمع کرکے ایک شخص کو قرعہ اندازی کے ذریعے آٹھ لاکھ کا انعام دے دیا، اس حیثیت سے ہر شخص اس بات کا رسک لے رہا کہ یا تو اس کا سالانہ آٹھ ہزار کا انٹریسٹ ضائع ہوجائے گا یا اس سے سو گنا زیادہ انعام کی شکل میں واپس آئے گا، گویا کہ سودی رقم کے ذریعے جوا کا معاملہ کیا جارہا ہے ۔لیکن شرعی اعتبار سے  سودی رقم اس کی ملکیت میں نہیں آتی ہے بلکہ سود ادا کرنے والا ہی اس کا مالک ہوتا ہے اس لئے اصطلاحی اعتبار سے اسے قمار اور جوا نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مال کو داؤ پر نہیں لگا رہا ہے لیکن طریقہ کار کے اعتبار سے اس میں جوئے کی ذہنیت اور روح ضرور موجود ہے (دیکھئے: قضایا فقہیہ معاصرہ 159/2)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے