بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(27) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
34-جلاٹین آمیز غذا اور دوا کی بیع:
ٹافی ، چاکلیٹ، جیلی، چیونگم، کیک، آئس کریم، بسکٹ، بریڈ، اور کیپسول وغیرہ میں جیلاٹین(Gelatin) کا استعمال ہوتا ہے ۔اسی طرح لوشن ، شیونگ کریم اور کاسمیٹکس وغیرہ میں بھی جلاٹین شامل ہوتا ہے ۔
جلاٹین (Gelatin) ایک پروٹین ہے جو عموماً جانوروں کی کھال، ہڈیوں، اور بافتوں (connective tissues)میں موجود کولیجن (Collagen) سے تیار کیا جاتا ہے۔
بلکہ زیادہ تر گائے اور سور کے ہڈیوں اور کھالوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔
جلاٹین بنانے کے لئے سب سے پہلے ہڈی اور کھال سے چربی،گوشت اور رطوبت وغیرہ کو الگ کیا جاتا ہے ،پھر الکلی(Alkali) یا تیزاب میں دس سے پندرہ دن تک رکھا جاتا ہے، پھر اس سے نکال کر چار سے آٹھ گھنٹے کے لئے چونا میں چھوڑ دیا جاتا ہے، اس کے بعد ان کو گرم پانی میں اُبالا جاتا اور پھر ٹھنڈا کرکے خشک کیاجاتا ہے ، اور آخر میں پیس کر پاؤڈر بنا لیا جاتا ہے ۔
مچھلی اور بعض پودوں سے بھی جلاٹین حاصل کیا جاتا ہے ۔
شرعی طریقہ پر ذبح شدہ حلال جانوروں یا پودوں اور مچھلی سے حاصل کردہ جلاٹین کا بیچنا اور استعمال کرنا بلا شبہ جائز ہے۔
اسی طرح سے حلال مردار جانور کی خشک ہڈی پاک ہے اور اس کا چمڑہ دباغت سے پاک ہوجاتا ہے ، اس لئے کھانے کے علاوہ اس کا خارجی استعمال جائز ہے، فقہ حنفی میں فتوا اسی پر ہے لیکن حنفیہ اور شافعیہ کے یہاں ایک قول یہ ہے کہ حلال مردار جانور کی ہڈی اور دباغت شدہ چمڑے کو کھانا بھی درست ہے ؛ لہذا اس سے تیار کردہ جلاٹین کے کیپسول کو اس قول کے مطابق علاج کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ (دیکھئے : فقہ البیوع 296/1)
خنزیر کے علاوہ تمام جانوروں کی خشک ہڈی پاک ہے ۔حضرت انس سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ ہاتھی کے دانت کی کنگھی استعمال کیا کرتے تھے ۔(یمتشط بمشتط من عاج۔السنن الكبرى للبيهقي26/1)
یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے لیکن اس مضمون کی روایت متعدد سندوں سے منقول ہونے کی وجہ سے اس میں قوت آجاتی ہے ۔اور شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ امام زہری کہتے ہیں کہ اس امت کے بہترین افراد ہاتھی کی ہڈی سے بنے ہوئے کنگھے سے بال کنگھی کیا کرتے تھے۔
اور ہڈی کے پاک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں زندگی نہیں ہوتی ہے اس لئے اسے کاٹنے پر تکلیف محسوس نہیں ہوتی ہے جیسے کہ ناخن کاٹنے میں درد کا احساس نہیں ہوتا ہے اس لئے اس پر موت کے اثرات مرتب نہیں ہوتے اور وہ ناپاک نہیں ہوتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے کہ بال ۔نیز تمام چیزیں اصلا پاک ہوتی ہیں الا یہ کہ ناپاک ہونے کی کوئی دلیل موجود ہو اور ہڈی اور بال کے نجس ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
علاوہ ازیں چمڑا بھی مردار کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس میں بھی دیگر اجزا کی طرح خون ہوتا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دباغت کی وجہ سے وہ پاک ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی وجہ اس کی رطوبت ختم ہوجاتی ہے اس سے معلوم ہوا
کھال کے نجس ہونے کا سبب رطوبت تھی، جبکہ ہڈی میں بہنے والا خون نہیں ہوتا ہے، اور خشک ہونے کے بعد اس میں موجود رطوبت اور چکنائی ختم ہوجاتی ہے اور اسے کھال سے زیادہ لمبے عرصے کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے، اس لیے جلد کی بجائے ہڈی کے پاک ہو جانے کا حق زیادہ بنتا ہے۔
(دیکھئے:الفتاوى الكبرى” (1/266-271)
اور خنزیر کے علاوہ دوسرے تمام جانوروں کا چمڑہ بھی دباغت کی وجہ سے پاک ہوجاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ، فَقَدْ طَهُرَ .
ہر چمڑا دباغت سے پاک ہوجاتا ہے۔(صحيح مسلم : 366۔ جامع ترمذي وغيره :1728. واللفظ له)
اور دباغت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ گلنے اور سڑنے سے محفوظ ہوجائے چنانچہ حضرت ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ دباغت ہر وہ چیز ہے جو کھال کو خراب ہونے سے روک دے۔( كل شيء يمنع الجلد من الفساد .العناية مع الفتح 83/1)
اور جلاٹین بنانے کا جو پروسس ہے اس کی وجہ سے چمڑا سڑنے سے محفوظ ہوجاتا ہے اس لئے وہ دباغت کے حکم میں آجاتا ہے ۔لھذا اس طرح سے حاصل کردہ جلاٹین پاک ہے ،اسے بیچنا اور کھانے کے علاوہ اس کا خارجی استعمال جائز ہے ۔
خنزیر کے علاوہ دوسرے حرام جانوروں کو اگر شرعی طریقے پر ذبح کردیا جائے تو اس کی کھال پاک ہوجاتی ہے اور ایک قول کے مطابق گوشت بھی پاک ہوجاتا ہے. (رد المحتار 513/9)
حاصل یہ ہے کہ خنزیر کے علاوہ تمام جانوروں کی کھال اور ہڈی سے بنائی گئی جلاٹین پاک ہے اس لئے اس کی خرید وفروخت درست ہے ۔
اور خنزیر کے چمڑے یا ہڈی سے تیار کردہ جلاٹین کا استعمال ناجائز اور اس کی خرید وفروخت نادرست ہے ۔اسی طرح سے حرام اور مردار جانور کے ریشوں اور بافتوں سے بنایا گیا جلاٹین بھی ناپاک ہے ۔کیونکہ جلاٹین میں تبدیل ہونے کی وجہ سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی ہے بلکہ جلاٹین کی تیاری کا مرحلہ ایسے ہی ہے جیسے کہ کسی چیز کو پکا دینا اور ظاہر ہے کہ گوشت کو پکا دینے کی وجہ سے اس کی ماہیت تبدیل نہیں ہوتی ہے ۔