بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(23) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
29-ویزہ فروخت کرنا:
ویزہ کسی ملک میں پاسپورٹ کی بنیاد پر داخل ہونے اور وہاں متعین مدت تک ٹھہرنے کا حکومت کی طرف سے محض ایک تحریری اجازت نامہ ہے ، کسی قسم کا مال یا کسی ملکیت نہیں اور نہ کوئی ایسی چیز ہے جسے فروخت کیا جاسکے، اس لئے اس کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے ۔خصوصا جب کہ ویزہ جاری کرنے والی اتھارٹی کی طرف سے فروختگی کی ممانعت ہو۔
البتہ اگر اس کے حصول میں تگ ودو اور مال صرف کرنے اور وقت لگانے کی ضرورت پڑتی ہو تو طے شدہ اجرت لی جاسکتی ہے ۔
اسی کے ساتھ یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ باہر ممالک میں نوکری کے مقصد سے ویزہ حاصل کرنے والوں کی کی اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو مختلف مجبوریوں کی وجہ سے اپنی کل جمع پونجی ، زیورات ، یا زمینیں فروخت کرکے ویزے کا معاوضہ ادا کرتے ہیں ۔
اس لئے کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی خدمت و محنت سے زیادہ نفع لینا مروت و شرافت کے اعتبار سے اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی نا مناسب ہے۔چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہتے ہیں کہ کاٹ کھانے والا زمانہ آنے والا ہے جس میں مالدار اپنی دولت کو دانتوں سے پکڑے رہے گا (یعنی بخالت کی وجہ سے خرچ نہیں کرے گا) حالانکہ کہ اسے اس کا حکم نہیں دیا گیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :اور آپس میں فراخ دلی کا برتاؤ کرنا مت بھولو. (سورہ البقرہ 237)
اور لوگ اضطراری حالت اور مجبوری میں اپنا سامان فروخت کریں گے حالانکہ نبی کریم ﷺ نے مجبور کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔
(خطبنا عليُّ بنُ أبي طالبٍ – قالَ سيأتي على النّاسِ زمانٌ عَضوضٌ يعضُّ الموسِرُ على ما في يديْهِ ولم يؤمرْ بذلِكَ قالَ اللَّهُ تعالى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ويبايعُ المضطرُّونَ وقد نَهى النَّبيُّ ﷺ عن بيعِ المضطرِّ .سنن أبو داود3382. مسند أحمد:937)
علامہ ابن اثیر نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے کہ اس کی دو شکل ہے ایک یہ کہ دباؤ و اکراہ کے نتیجے میں وہ اپنی کوئی چیز فروخت کردے ایسی حالت میں بیع فاسد ہوگی ۔دوسری شکل یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی یا ضروری خرچ کے لئے کوئی اپنا ساز وسامان کم قیمت پر بیچنے کے لئے مجبور ہو ایسی حالت میں مروت و شرافت کا تقاضا ہے کہ اس کے سامان کو خریدا نہ جائے بلکہ اسے قرض فراہم کیا جائے اور کہا جائے کہ جب آسانی ہو تو ادا کر دینا یا مارکٹ ریٹ پر اس کے سامان کو خریدا جائے لیکن اگر کوئی شخص مجبوری سے فائدہ اٹھا کر کم قیمت میں خرید لے تو کراہت کے ساتھ بیع ہوجائے گی (عون المعبود ۔رقم الحدیث: 3382)