بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(29) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
36-فارمی مرغی کی خرید و فروخت:
فارمی مرغیوں کی فیڈ میں عام طور پر خون یا دیگر ناپاک چیزیں شامل کی جاتی ہیں لیکن ان کی مقدار بہت معمولی ہوتی ہے اس لئے ان کے گوشت پر کوئی اثر نمایاں نہیں ہوتا ہے ۔
اور اگر زیادہ مقدار میں ناپاک چیزوں کے کھانے کی وجہ سے گوشت اور دودھ میں بدبو پیدا ہوجائے پھر بھی اس کی خرید وفروخت کراہت کے ساتھ درست ہے (1)گرچہ اس حالت میں اسے کھانا جائز نہیں ہے بلکہ اسے ناپاک غذا سے روک کرکے پاک غذا دی جائے گی یہاں تک کہ اس کی بدبو ختم ہوجائے اس کے بعد کھانے کی اجازت ہوگی۔حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ ، وَأَلْبَانِهَا ۔
رسول اللہ ﷺ نے جلالہ جانور کا گوشت کھانے اور دودھ پینے سے منع فرمایا ہے ۔
(جامع ترمذي:1824)
جلالہ اس جانور کو کہا جاتا ہے جو انسانی یا حیوانی فضلہ کھاتا ہو خواہ وہ چوپایہ ہو یا مرغی اور بطخ وغیرہ.(مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود /345) .
اور اگر کوئی جانور معمولی مقدار میں گندگی کھائے اور اس کی زیادہ تر غذا پاک ہو تو اسے جلالہ نہیں کہا جائے گا لہذا مرغی وغیرہ کو خون آمیز فیڈ کھلانے کی وجہ سے جلالہ نہیں کہا جائے گا کیونکہ اس میں خون کی مقدار بہت معمولی ہوتی ہے چنانچہ امام خطابی کہتے ہیں کہ اگر کوئی جانور گھاس اور دانہ کھائے اور کچھ مینگنی بھی کھالے تو وہ جلالہ نہیں ہے بلکہ وہ مرغی جیسے جانوروں میں شامل ہے جو کبھی کبھار گندگی کھا لیتا ہے اور اس کی غالب غذا اور چارہ پاک چیز ہے لہذا اس کا کھانا مکروہ نہیں ہے.(معالم السنن 244/4)
نیز زیادہ مقدار میں ناپاک چیزوں کے کھانے کے باوجود جلالہ اس وقت شمار ہوگا جب کہ اس کے جسم اور گوشت سے بدبو آنے لگے ۔علامہ کاسانی کہتے ہیں کہ جلالہ اس وقت کہا جاۓ گا جب اس میں تبدیلی آجائے اور اس سے بدبو آنے لگے اس وقت نہ اس کا دودھ استعمال کیا جائے گا اور نہ گوشت.(بدائع الصنائع 40/5)
کیونکہ کھائی گئی نجاست گوشت و پوست میں تبدیل ہوگئی ہے دوسرے الفاظ میں اس کی حقیقت بدل گئی ہے اس لئے اس گندگی کا اعتبار اسی وقت ہوگا جب کہ گوشت یا دودھ میں اس کا اثر پایا جائے اور اگر کوئی اثر نہیں ہے توپھر اس کا گوشت اور دودھ استعمال کرنا جائز ہے۔
حنفیہ اور شافعیہ اسی کے قائل ہیں اس کے برخلاف حنابلہ کے نزدیک اس کے لئے قلت و کثرت بنیاد ہے لہذا اگر غذا کا زیادہ تر حصہ ناپاک چیزوں پر مشتمل ہو تو وہ جلالہ ہے گرچہ اس سے بدبو نہ آئے۔(المبسوط255/11.(المجموع شرح المهذب 28/9.المغنی413/9)
(1)وفی الملتقٰی: المکروہ الجلالۃ التی اذا قربت وجد منہا رائحۃ فلاتوکل ولایشرب لبنھا ولایعمل علیھا ویکرہ بیعھا وھبتھا و تلک حالھا۔ (ردالمحتار 510/9.کتاب الذبائح)
قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی: إنما تكون جلالة إذا نتن وتغير لحمها ووجدت منه ريح منتنة فهي الجلالة حينئذ لا يشرب لبنها، ولا يؤكل لحمها وبيعها وهبتها جائز. هذا إذا كانت لا تخلط ولا تأكل، إلا العذرة غالبا، فإن خلطت فليست بجلالة، فلا تكره؛ لأنها لا تنتن، ولا يكره أكل الدجاج المخلي، وإن كان يتناول النجاسة؛ لأنه لا يغلب عليه أكل النجاسة، بل يخلطها بغيرها وهو الحب. والأفضل أن يحبس الدجاج حتى يذهب ما في بطنها من النجاسة، كذا في البدائع. (الفتاوی الھندیۃ: 5/590)