بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(30) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

37-پیشاب ملی ہوئی دوا:

 

     آج کل بعض آرویدک دواؤں میں گائے کا پیشاب استعمال کیا جارہا ہے اور بہت سی بیماریوں میں اس کو مفید قرار دیا جاتا ہے لیکن پیشاب خواہ کسی بھی جانور کا ہو نجس و ناپاک ہے اس لئے ایسی دوا کی استعمال سے پرہیز کرنا ضروری ہے ۔

  البتہ ماہر اور معتبر ڈاکٹر کی رائے کے مطابق کسی مرض کے لئے ایسی دوا کا استعمال ناگزیر ہو اور اس کا کوئی جائز متبادل موجود نہ ہو اور مرض بھی ایسا ہو کہ ناپاک دوا سے علاج نہ کرنے کی صورت میں شدید پریشانی میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو پھر اس کے استعمال کی گنجائش ہوگی ۔(1)

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ کچھ لوگ ہجرت کرکے مدینہ آئے مگر آب و ہوا کے ناموافق ہونے کی وجہ سے بیمار پڑگئے تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دی کہ جہاں صدقات کے اونٹ رہتے ہیں وہ لوگ  وہاں چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں، چنانچہ وہ وہاں چلے گئے اور ایسا ہی کیا۔۔۔۔

(عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ اجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا.۔۔۔صحیح بخاری: 1501، صحيح مسلم : 1671)

    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مجبوری کی حالت میں جب حرام چیز کے علاوہ کوئی دوا کارگر نہ ہو تو بقدر ضرورت حرام کے  استعمال کی گنجائش ہے۔اور آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوگیا تھا کہ ان کی صحت کے لئے اونٹ کے پیشاب کو پینا ناگزیر ہے ۔

   یا یہ کہ آپ نے دودھ پینے اور جسم پر پیشاب کی مالش کرنے کا حکم دیا تھا کہ بیماری کی حالت میں ناپاک چیزوں کا خارجی استعمال درست ہے ۔(دیکھئے:عمدة القاري 3 / 154)

   نیز شدید مجبوری کے بغیر بھی بیماری کی حالت میں اس کا خارجی استعمال جائز ہے لیکن نماز پڑھنے سے پہلے اسے دھونا ضروری ہے۔

   اور چونکہ پیشاب آمیز دوا کا ایک جائز استعمال موجود ہے اس لئے اس کی خرید وفروخت درست ہوگی چنانچہ فقہی کتابوں میں ناپاک تیل کی فروختگی کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔(2)

    البتہ خالص پیشاب یا ایسی دوا کو فروخت کرنا درست نہیں ہے جس میں پیشاب غالب ہو اور عام حالات میں نہ اس کا کھانا درست ہے اور نہ جسم پر لگانا گرچہ بوقت ضرورت اسے خریدنا جائز ہے کیونکہ  عین نجاست کا خارجی استعمال بھی عام حالات میں ناجائز ہے جیسے کہ خون ،مردار کا گوشت اور پائخانہ وغیرہ ۔

 

(1)الاستشفاء بالمحرم إنما لاتجوز إذا لم يعلم فيه شفاء، أما إذا علم أن فيه شفاء وليس له دواء أخر غير يجوز الاستشفاء به”. (الفتاوى التاتارخانيه۔ط زكريا۔ 1/200، رقم: 28504)

(2) لأن ما تنجس باختلاط النجاسۃ بہ والنجاسۃ مغلوبۃ لا یباح أکلہ و یباح الانتفاع بہ فیما وراء الأکل کالدہن النجس یستصبح بہ إذا کان الطاہر غالبا۔(رد المحتار: 1/218)

وکرہ بیع العذرۃ رجیع الآدمی خالصۃ (إلی قولہ)  وصح بیعہا مخلوطۃ بتراب أو رماد غلب علیہا۔ (رد المحتار 553/9)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے