بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(50) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
57-قسط ادا نہ کرنے پر سامان کی واپسی :
سودا طے ہوجانے کے بعد خریدار سامان کا مالک ہوجاتا ہے البتہ اگر نقد معاملہ کیا گیا ہے تو بیچنے والے کو حق ہے کہ عوض کی وصولی تک اسے سامان حوالے نہ کرے۔
اور اگر ادھار معاملہ ہے تو اسے فروخت کردہ چیز روک رکھنے کا حق نہیں ہے بلکہ اسے خریدار کے حوالے کرنا ضروری ہے لیکن اگر اندیشہ ہو کہ خریدار متعین مدت میں عوض ادا نہیں کریگا اور سامان ادھار لے کر قیمت کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے گا تو معاملہ طے کرتے ہوئے اس طرح کی شرط لگا سکتا ہے کہ اگر فلاں مدت تک وہ پوری قیمت ادا نہیں کریگا تو اسے معاملہ ختم کرنے اور اپنا سامان واپس لینے کا اختیار ہوگا، فقہی اصطلاح میں اسے "خیار نقد ثمن” کہا جاتا ہے ۔
اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس طرح کی شرط میں صرف تین دن کی مدت ہونی چاہئے یعنی کہے کہ اگر تین دن کے اندر تم نے قیمت ادا نہیں کی تو مجھے معاملہ ختم کرنے کا حق ہوگا ۔اس سے زیادہ کی مدت متعین کرنے کی صورت میں عقد فاسد ہوجائے گا اس کے برخلاف امام محمد کے نزدیک آپسی رضامندی سے کوئی بھی مدت متعین کی جاسکتی ہے ۔(1)
دکان یا مکان وغیرہ کی خریداری میں اس طرح کی شرط سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے ۔
اسی طرح سے وقت پر قسط ادا نہ کرسکنے کی صورت میں باہمی رضامندی سے اسے بیچنے والے کے ہاتھ فروخت کیا جاسکتا ہے اور ظاہر ہے کہ استعمال شدہ سامان کی قیمت نئے سامان کی قیمت سے کم ہوگی۔ گاڑی وغیرہ کی فروختگی میں اس طریقے کو اپنایا جاسکتا ہے۔
اور ان دو کے علاوہ مجبوری کی حالت میں ایک تیسرا طریقہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ معلوم ہو کہ خریدار ادائیگی پر قدرت کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے رہا اور اس کا حق ادا نہیں کر رہا تو ایسی صورت میں اس کی رضامندی اور اس کے علم و اطلاع کے بغیر اس سامان کو حاصل کرکے اسے فروخت کردیا جائے اور اس سے اپنا حق وصول کرلیا جائے اور اس کے بعد کچھ رقم بچ جائے تو اسے واپس کردیا جائے فقہی اصطلاح میں اسے "ظفر بالحق” کہا جاتا ہے یعنی جس کے ذمے دین باقی ہے اگر اس کی کوئی ایسی چیز مل جائے جس سے وہ اپنا دین وصول کرسکتا ہو تو وہ ایسا کرسکتا ہے خواہ وہ اس کے دین کی جنس سے ہو یا کوئی دوسری چیز ہو ۔
اور یہ مسئلہ ایک حدیث سے ماخوذ ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
عن عائشة أنَّ هِنْدَ بنْتَ عُتْبَةَ، قالَتْ: يا رَسولَ اللَّهِ إنَّ أبا سُفْيانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وليسَ يُعْطِينِي ما يَكْفِينِي ووَلَدِي، إلّا ما أخَذْتُ منه وهو لا يَعْلَمُ، فَقالَ: خُذِي ما يَكْفِيكِ ووَلَدَكِ، بالمَعروفِ.
حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ہند بنت عتبہ نے عرض کیا: یارسول اللہ ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہیں، وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے جو میرے اور میرے بچوں کے لئے کافی ہوجائے گا الا یہ کہ ان کی لاعلمی میں ان کے مال سے کچھ لے لوں (کیا میرے لئے ایسا کرنے میں کچھ حرج ہے؟ )آپ ﷺ نے فرمایا: تم اتنا لے سکتی ہو جو رواج کے مطابق تمہارے اور تمہارے بچے کے لئے کافی ہوجائے ۔(صحيح بخاري:5364)
حافظ ابن حجر عسقلانی اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ اگر کسی کا دوسرے پر کوئی حق ہو اور وہ اسے حاصل کرنے سے عاجز ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اپنے حق کے بقدر لے لے (2)۔
(1)(المادة 313) إذا تبايعا على أن يؤدي المشتري الثمن في وقت كذا وإن لم يؤده فلا بيع بينهما، صح البيع، وهذا يقال له: خيار النقد(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام 1/ 309)
(2)و أستدل به على ان من له عند غيره حق وهو عاجز عن استيفائه جاز له ان ياخذ من ماله قدر حقه بغير اذنه.(فتح الباري رقم الحديث :5364)