بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(62) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
69-فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading):
مختلف ملکوں کی کرنسی کے باہم تبادلے اور کاروبار کا نام فاریکس ٹریڈنگ ہے ۔فاریکس در اصل فارن ایکسچینج(Foreign Exchange) کا اختصار ہے ۔ اس وقت یہ دنیا بھر کی مختلف کرنسی کی خرید و فروخت کا ایک عالمی بازار ہے۔ جس میں ایک ملک کی کرنسی کو دوسری کرنسی کے بدلے خریدا یا بیچا جاتا ہے تاکہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمایا جا سکے۔
اس مارکٹ میں کرنسی کی تجارت ہمیشہ جوڑوں (Pairs) کی صورت میں ہوتی ہے، جیسے EUR/USD (یورو اور امریکی ڈالر)
اس میں پہلی کرنسی "بیس کرنسی”(Base Currency) اور دوسری "کوٹ کرنسی ( Quote Currency)کہلاتی ہے۔مثلاً EUR/USD میں EUR پہلی کرنسی اور USD دوسری کرنسی ہے۔
فاریکس ٹریڈنگ کرنے والا اس سے متعلق ایپ یا ویب سائٹ پر اپنی رقم ڈالر کی شکل میں جمع کرتا ہے اور بروکر اپنی طرف سے اس کی قوت خرید (Buying Power) میں اضافہ کردیتا ہےجسے لیوریج (Leverage) کہا جاتا ہے ، بالفاظ دیگر لیوریج صرف تاجر کی قوتِ خرید بڑھانے کا ایک طریقہ ہے، بروکر تاجر کو کوئی رقم قرض کی صورت میں منتقل نہیں کرتا۔ مثلاً کسی شخص نے بروکر کے پاس 1000 ڈالر جمع کیا اور بروکر نے اسے 99000 کا لیوریج فراہم کیا جس سے وہ اب ایک لاکھ ڈالر کی مالیت کی کرنسی خرید سکتا ہے۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ بروکر اس کے اکاؤنٹ میں 99000 ڈالر جمع کرے بلکہ یہ عام طور پر تجارتی پوزیشن کی نمائندگی ہوتی ہے کہ تاجر اس مالیت کی حد تک کرنسی خرید سکتا ہے ، بعض صورتوں میں حقیقی قرض کی نوعیت ہوسکتی ہے لیکن عموماً بروکر سی،ایف ، ڈی (Contract for Difference) کے ذریعے تجارت کرواتا ہے، جس میں تاجر حقیقتاً کرنسی کا مالک نہیں بنتا، بلکہ کرنسی کی قیمت میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے فرق پر معاہدہ کرتا ہے یعنی سرے سے کرنسی کی حقیقی خرید و فروخت ہوتی ہی نہیں ہے ۔
اس لیے بہر صورت اسے حقیقی قرض قرار دینا فنی اعتبار سے درست نہیں۔
لیوریج کا مطلب یہ ہے کہ تاجر اپنی جمع کردہ رقم (Margin) کو ضمانتی رقم کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس سے کئی گنا بڑی تجارتی پوزیشن (Trading Position) حاصل کرلیتا ہے۔اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لیوریج تاجر کی قوتِ خرید یا تجارتی پوزیشن کی مالیت میں اضافہ کرنے کی سہولت ہے۔
لیوریج کی وجہ سے جس طرح معمولی قیمت کا اتار چڑھاؤ تاجر کے منافع میں کئی گنا اضافہ کرسکتا ہے، اسی طرح نقصان میں بھی کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں تاجر اپنی جمع کردہ پوری رقم سے بھی محروم ہوسکتا ہے۔اس لیے لیوریج کو محض قوتِ خرید میں اضافے کی سہولت سمجھنا کافی نہیں، بلکہ یہ خطرے میں اضافے کا ذریعہ بھی ہے۔
اور بروکر اس کی عوض کمیشن لیتا ہے جو قیمت خرید (Ask Price) اور قیمت فروخت (Bid Price) کے درمیان فرق کے حساب سے طے ہوتا ہے، جسے Spread کہتے ہیں۔ اور یہی بروکر کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے ۔
امریکی ادارے SEC کی وضاحت کے مطابق بعض بروکرز خرید و فروخت کی قیمتوں میں اپنا اضافی منافع (Markup) شامل کردیتے ہیں۔ یعنی خرید اور فروخت کی قیمتوں کے درمیان فرق (Spread) بڑھا کر اپنا منافع حاصل کرتے ہیں۔اس طرح بظاہر وہ الگ سے کمیشن نہیں لیتے، لیکن اسپریڈ کی آڑ میں وہ اسے حاصل کرلیتے ہیں۔ بعض بروکرز اسپریڈ کے علاوہ الگ سے کمیشن بھی وصول کرتے ہیں۔
اور کمیشن وہ متعین رقم یا فیس ہے جو بروکر ہر ٹریڈ یا لین دین کے عوض وصول کرتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر کوئی تاجر اپنی ٹریڈ رات بھر کھلی رکھتا ہے یعنی بر وقت کرنسی فروخت نہیں کرتا ہے بلکہ قیمت میں اضافہ کی امید پر تاخیر کرتا ہے تو بروکر اس پر اضافی چارجز عائد کرسکتا ہے جسے سویپ (Swap) یا اوور نائٹ فنانسنگ (Overnight Financing) کہا جاتا ہے۔
یہ چارج عموماً متعلقہ کرنسیوں کی شرحِ سود اور بروکر کی مقرر کردہ شرائط سے وابستہ ہوتا ہے۔
فاریکس ٹریڈنگ یعنی کرنسی کی آن لائن تجارت اور کمیوڈیٹی ٹریڈنگ(Commodity Trading) یعنی سونا چاندی اور دیگر اشیاء واجناس کی آن لائن تجارت درج ذیل خرابیوں کی وجہ سے سے ناجائز اور نادرست ہے :
1-کرنسی کے باہم تبادلے میں بعض علماء کے نزدیک مجلس عقد میں دونوں کرنسی پر قبضہ ضروری ہے گرچہ راجح یہ ہے کہ ایک پر قبضہ کافی ہے لیکن اس معاملے میں ایک پر بھی حسی قبضہ (physical possessions ) یا حکمی قبضہ (Constructive possessions ) نہیں پایا جاتا ہے یہاں تک کہ جسے نقد سودا (Spot sale) اس میں بھی معاملہ ہوجانے کے دو دن بعد قبضہ ہوتا ہے اور اس دوران خرید وفروخت چلتی رہتی ہے حالانکہ کسی چیز کو قبضہ سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں ہے ۔
2-عام طور پر ایسی چیز کو فروخت کیا جاتا ہے جس کا انسان مالک ہی نہیں ہوتا ہے اور خریدار کے حوالے نہ تو فروخت کردہ چیز کی جاتی ہے اور نہ بیچنے والے کے ہاتھ اس کا عوض آتا ہے بلکہ دونوں قیمتوں کے ڈیفرنسن کو لے کر معاملہ ختم کرلیا جاتا ہے مثلاً ایک شخص سے دس تولہ سونا ایک مہینے کے ادھار پر خریدتا ہے لیکن اس پر قبضہ نہیں کرتا اور جب ثمن کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو دیکھا جاتا ہے کہ سونے کا ریٹ کیا ہے اور خریداری و ادائیگی کے وقت کے ریٹ کے درمیان جو فرق ہے اس کا لین دین کرلیا جاتا ہے جیسے کہ خریداری کے دن سونے کی قیمت ایک تولہ پچاس ہزار ہے اور ادائیگی کے دن اس کی قیمت پچپن یا پینتالیس ہزار ہے ، بچپن ہزار ہونے کی صورت میں خریدار کو پانچ ہزار کا فائدہ ہوگا جسے وہ لے کر معاملہ ختم کرلے گا اور اگر پینتالیس ہزار ہے تو اس کا نقصان ہے اور وہ بیچنے والے کو پانچ ہزار ادا کرے گا ۔
یہ ایک طرح کا سٹہ اور جوا ہوتا ہے نہ تو بیچنے والا سامان یا کرنسی کا مالک ہوتا ہے اور نہ خریدنے والا اس پر قبضہ کرتا ہے ۔
3-لیوریج ایک طرح سے قرض کے حکم میں ہے جس پر بروکر سود حاصل کرتا ہے ۔
(دیکھئے فقہ البیوع 782/2)
4-سویپ (Swap)براہ راست ایک سودی معاملہ ہے ۔
5- عام طور پر مسقبل کی تاریخ (Futures Trading)پر خرید وفروخت ہوتی ہے اور شرعی اعتبار سے بیع کا فوری ہونا ضروری ہے۔ اور مستقبل کی تاریخ پر خرید و فروخت ناجائز ہے۔
6-خریداری کا معاملہ مکمل ہوجانے کے باوجود آپشن ٹریڈنگ (Options Trading)
کے ذریعے خریدار یا بیچنے والے کو یکطرفہ طور پر معاملہ کو ختم کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے یعنی ایک فریق بیچنے یا خریدنے کا پابند ہوتا ہے اور اس پابندی کے بدلے وہ عوض کا مطالبہ کرتا ہے اور اگر معاملہ وجود میں آجائے تو وہ عوض ثمن میں شمار نہیں ہوتا ہے اور دوسرا فریق معاملہ کا پابند نہیں ہوتا ہے حالانکہ شرعی اعتبار سے سودا طے ہوجانے کے بعد اسے ختم کرنے کے لئے دونوں فریق کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ۔نیز پابندی یا التزام کوئی مال نہیں ہے جس پر عوض کا مطالبہ کیا جائے بلکہ یہ باطل طریقے پر مال کو حاصل کرنا ہے۔