بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(60) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

67-دو ملکوں کی کرنسی کا باہم ادھار تبادلہ:

 

     کرنسی کو سونے چاندی کے بجائے فلوس کے حکم میں رکھا گیا ہے یعنی سونے چاندی کی خرید وفروخت کے احکام اس پر جاری نہیں ہوں گے ہوں۔

     اور ایک ملک کی کرنسی ایک جنس اور دوسرے ملک کی کرنسی دوسری جنس شمار ہوگی ۔

   لھذا ایک ملک کی کرنسی کا باہم تبادلے کی صورت میں برابری اور دونوں پر قبضہ شرط ہے جیسے انڈین روپیہ کو انڈین روپیہ کے بدلے فروخت کرنے کی صورت میں دونوں کی مالیت کا برابر ہونا اور معاملہ کی مجلس میں دونوں پر قبضہ کرنا شرط ہے ،اس کی بغیر خرید وفروخت درست نہیں ہوگی؛ اس لئے کہ دونوں کی جنس ایک ہے اور ادھار کے ناجائز ہونے کے لئے صرف ہم جنس ہونا کافی ہے ۔(1)

   اور دو ملکوں کی کرنسی کے باہم تبادلے کی صورت میں کمی بیشی بھی درست ہے اور مجلس میں دونوں پر قبضہ کرنا بھی ضروری نہیں ہے ؛ کیونکہ دو ملکوں کی کرنسی دو الگ جنس ہے چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ فلوس کو چاندی کے بدلے فروخت کرنے میں دونوں پر قبضہ ضروری نہیں ہے بلکہ ایک پر کافی ہے (2)۔ لہذا انڈین کرنسی کو ڈالر سے تبادلہ میں کمی بیشی بھی جائز ہے اور ایک طرف سے ادھار بھی درست ہے بشرطیکہ جس دن معاملہ کیا جارہا ہے اس دن کی قیمت اور ریٹ کا لحاظ رکھا جائے مثلاً ڈالر پہلے ادا کردیا جائے اور انڈین کرنسی کچھ دنوں کے بعد حوالے کیا جائے۔ یا سعودیہ میں ریال پہلے ادا کردیا جائے اور انڈین روپیہ کچھ دنوں کے بعد ہندوستان میں وصول کیا جائے البتہ دونوں طرف سے ادھار جائز نہیں ہے ۔

 

(1)الحاصل انه ان بيعت الفلوس بجنسها يشترط التقابض لا لكونه صرفا بل لوجود احد علتي الربا وهو الجنس اما اذا بيعت بخلاف جنسها جاز بقبض احد البدلين في المجلس ولم يجوز بدون ذلك.(فقه البيوع 685/2)

وعملة كل بلد جنس مستقل فتجب فيها الزكاة وتتادى بها ويجوز ان يكون راس مال في السلم ويجري فيها الربا، فان بيعت بجنسها  وجب فيها التماثل بالقيمة ووجب التقابض في المجلس لا لانه صرف بل لان الجنس بافراده يحرم النسيئة على قول الحنفيه كما سبق في حكم الفلوس ولكن لا يجري عليها احكام الصرف بمعنى انه لا يجب فيها التقابض في المجلس ويجوز فيها النسيئة ان وقعت المبادلة بغير جنسها مثل ان تباع الدولارات الامريكيه بالروبيات الباكستانيه بشرط ان تكون المبادلة بسعر يوم المبادلة حتى لا تكون ذريعة للربا.(فقه البيوع 696/2)

(2) لانه لو باع فضة بفلوس او ذهب بفلوس فانه يشترط قبض احد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما.(البحرالرائق 211/6)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے