بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

سلسله(24) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

30-الکوہل آمیز دوا بیچنا:

     امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف کے نزدیک انگور اور کھجور کی شراب ناپاک ہے اور اسی کو قرآن حکیم میں "خمر” کہا گیا ہے ؛ اس لئے اس کی معمولی مقدار بھی ناپاک اور اس کا استعمال حرام اور اس کی خرید و فروخت باطل ہے اور ان دو کے علاوہ دیگر چیزوں کی شراب پاک ہے اور اسی کی وہی مقدار حرام ہے جو نشہ آور ہو ۔چنانچہ حدیث میں ہے:

    الْخَمْرُ مِن هاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ والْعِنَبَةِ.

   خمر ان دو درختوں یعنی کھجور اور انگور سے بنتی ہے ۔ (صحيح مسلم :1985)

   اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے:

   حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ.

  خمر کی تھوڑی اور زیادہ مقدار دونوں  حرام ہیں، اور دوسری نشہ آور مشروبات اس وقت حرام ہیں جب اس سے نشہ ہو۔

(سنن نسائي:5683)

   امام مالک ،شافعی احمد اور حنفیہ میں سے امام محمد کے نزدیک ہر طرح کی نشہ آور مشروبات ناپاک اور حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ ۔چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے عرض کیا:یمن میں شہد اور جو کی شراب بنائی جاتی ہے .(اس کا کیا حکم ہے ؟)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

    کل مسکر حرام.

   ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔(صحیح بخاري : 4344)

    اور حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

   مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ

  جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔( سنن أبوداؤد:3681).

   حنفیہ کے یہاں خرید وفروخت کے معاملے میں فتوا امام ابوحنیفہ کے قول پر ہے ۔اس لئے کراہت کے ساتھ ان کی بیع درست ہے ۔(فقہ البیوع 281/1)

    اور مشروبات اور غذائی چیزوں میں فتوا امام محمد اور جمہور کے قول پر ہے کہ جس کا کثیر نشہ آور ہو اس کا قلیل بھی حرام ہے اس لئے جہاں تک ہوسکے الکوہل آمیز دوا اور غذا سے احتراز کرنا چاہئے ۔

   البتہ موجودہ دور میں کھانے ، پینے کی چیزوں اور دواؤں کو محفوظ رکھنے کے لئے  الکوہل کا استعمال عام ہے جس سے بچنا بڑا دشوار ہے اس لئے مذکورہ اختلاف کی وجہ سے اس کے استعمال کی گنجائش ہوگی ۔

 لھذا چونکہ امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک انگور اور کھجور کے سوا دیگر چیزوں سے بنی ہوئی شراب پاک ہے ؛ اس لئے کراہت کے ساتھ اس کی بیع درست ہے بلکہ اگر کوئی جائز مقصد ہو تو کراہت بھی نہیں ہے جیسے کہ دوا  یا دوسری مصنوعات  میں اس کا استعمال مثلاً روشنائی یا عطر وغیرہ ۔

   اسی طرح سے کھائی جانے والی دوا میں اگر الکوہل ملی ہوئی ہو اور کوئی دوسری متبادل دوا موجود نہ ہو تو انگور اور کھجور کے علاوہ سے بنی شراب کا استعمال کرنا درست ہے بشرطیکہ کہ نشہ کی حد تک نہ پہنچے بلکہ اگر دوا نہ کرنے کی وجہ سے ناقابلِ برداشت پریشانی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور شراب آمیز دوا سے شفایابی کا غالب امکان ہو تو انگور اور کھجور کی شراب سے بنی دوا کا استعمال کرنا بھی جائز ہے ۔

   واضح رہے کہ موجودہ دور میں عام طور پر دوا اور عطر وغیرہ میں استعمال کی جانے والی الکوہل کھجور اور انگور کی شراب سے نہیں بنائی جاتی ہے ۔(1)

    یہ پوری تفصیل مائع (liquid) نشہ آور چیزوں کے بارے میں ہے ۔اور جامد خشک نشہ آور چیزیں بہ اتفاق پاک ہیں جیسے افیون ،بھانگ وغیرہ لہذا ان کو فروخت کرنا اور دوا وغیرہ میں استعمال کرنا درست ہے بشرطیکہ نشہ طاری کرنے کے بقدر نہ ہو البتہ اس شخص کے ہاتھ فروخت کرنا جائز نہ ہوگا جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ نشہ یا ناجائز استعمال کے لئے خرید رہا ہے ۔(2)

  (1)وإن اتخذت من غیرہا فالأمر فیہا سہل علی مذہب أبی حنیفة، ولا یحرم استعمالہا للتداوی أو لأغراض مباحة أخری مالم تبلغ حد الاسکار ․․․․․․․ وإن معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الأدویة والعطور وغیرہا لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول وغیرہ ․․․․․․․ وحینئذ ہناک فسحة فی الأخذ بقول أبی حنیفة رحمہ اللہ عند عموم البلوی۔ (تکملہ فتح الملہم 343/9.نیز دیکھئے فقہ البیوع 282/1)

(2)وبه علم أن المراد الأشربة المائعة، وأن البنج ونحوه من الجامدات إنما يحرم إذا أراد به السكر وهو الكثير منه، دون القليل المراد به التداوي ونحوه كالتطيب بالعنبر وجوزة الطيب، ونظير ذلك ما كان سميًا قتالًا كالمحمودة وهي السقمونيا ونحوها من الأدوية السمية فإن استعمال القليل منها جائز، بخلاف القدر المضر فإنه يحرم”.(الدر المختار  مع رد المحتار42/4)

31-الکوہل آمیز چاکلیٹ اور جوس :

    چاکلیٹ ،آئس کریم ،جوس اور فلیورز  وغیرہ میں اگر الکوہل ملائی گئی ہو تو اس میں بھی مذکورہ تفصیل کی رعایت کی جائے گی یعنی اگر الکوہل انگور اور کھجور کے علاوہ دیگر چیزوں سے کشید کی گئی ہو اور اس کی مقدار اتنی قلیل ہو کہ اس سے نشہ پیدا نہ ہو، تو اس کا استعمال کرنا اور فروخت کرنا درست ہے کیونکہ غذائی چیزوں کی حفاظت ،موجودہ حالت کو باقی رکھنے اور خراب ہونے سے بچانے کے مقصد سے اس میں الکوہل شامل کی جاتی ہے اور اس سے نشہ حاصل کرنا مقصود نہیں ہے۔

 البتہ جن مشروبات کا مقصد ہی نشہ حاصل کرنا ہو ان میں کسی  بھی قسم اور کسی بھی مقدار می الکوہل کا استعمال کیاگیا ہو تو اسے پینا اور فروخت کرنا جائز نہیں ۔

   اور اگر انگور اور کھجور کی شراب سے کشید کی گئی الکوہل اس میں شامل ہے تو دیکھا جائے گا کہ کیا اس میں الکوہل کی ماہیت موجود ہے یا دوسری چیزوں کے ساتھ ملانے یا پکانے کے وجہ سے اس کی ماہیت ختم ہوچکی ہے ؟ اور اب وہ اپنی حقیقت اور صفت کے اعتبار سے ایک دوسری چیز ہے تو ایسی حالت میں اسے کھانا پینا اور فروخت کرنا درست ہے ۔اور اگر ایسا نہیں ہے تو اسے کھانا درست نہیں ہے کیونکہ انگور اور کھجور کی شراب کی قلیل مقدار اور معمولی جزء بھی ناپاک اور حرام ہے اور اسے کھانا اور فروخت کرنا جائز نہیں ہے ۔

    عام طور پر غذائی مصنوعات اور فوڈ انڈسٹری میں بھی جو الکوہل استعمال ہوتی ہے وہ انگور یا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ دوسری چیزوں سے بنائی جاتی ہے، لہذا  کسی چیز  کے بارے میں جب تک یقینی سے ثابت  نہ ہوجائے کہ اس  میں انگور، یا کھجور کی شراب سے کشید کردہ الکوہل ہے ، اس وقت تک اس کے استعمال کو  ناجائز نہیں کہہ سکتے البتہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کی الکوہل سے اجتناب کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے