بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(22) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

28-کاپی رائٹ اور حق ایجاد و اختراع کی بیع:

 

    حق طباعت و اشاعت (Copyright) سے مراد سے کسی مصنف یا پروگرامر کو اپنی کتاب ،مضمون سافٹ ویئر ، سی ڈی ،ویڈیو اور آڈیو پر حاصل ہونے والا وہ قانونی حق ہے جس کی بنیاد پر دوسروں کو اس کی مرضی کے بغیر اشاعت یا تجارتی استعمال کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔

   حقِ ایجاد و اختراع (Patent / Right of Invention) سے مراد ایجاد و اختراع پر حاصل ہونے والا وہ قانونی حق ہے جس کی وجہ سے وہی اس کو بنانے اور اس سے ہونے والی آمدنی کا حقدار ہوتا ہے جیسے  دوا اور  مشین وغیرہ کی ایجاد

  حق طباعت و ایجاد مادی مال کا درجہ رکھتا ہے اس لئے اس کی خرید و فروخت درست ہے اور دوسروں کو اس کی مرضی کے بغیر اس کی اشاعت اور اسے بنانے اور فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ وہ اس کی محنت کا نتیجہ اور اس کے ذہن اور ہاتھوں کی کمائی ہے ،اس کے لئے اس نے جسمانی اور ذہنی مشقتیں برداشت کی اور تکلیفیں جھیلی ہیں، اس کو وجود میں لانے کے لئے سرمایہ اور وقت صرف کیا ہے ، اس لئے وہ اس کا مالک ہے اور دوسروں کو اس کی اجازت کے بغیر تصرف کا اختیار نہیں ہے  نیز وہ اسے فروخت یا ھبہ کرنے کا مجاز ہے ۔حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ افضل کمائی کیا ہے تو فرمایا: گناہ سے پاک خرید وفروخت اور ہاتھ کی کمائی ۔(سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَفْضَلِ الْكَسْبِ ؟ فَقَالَ : ” بَيْعٌ مَبْرُورٌ، وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ "مسند احمد:15836)

   اور ایک دوسری حدیث میں ہے :

   لا يَحِلُّ مالُ امرِيءٍ مُسلمٍ إلّا بِطِيبِ نفسٍ مِنهُ.

   کسی مسلمان کا مال اسی کی خوشدلی کے بغیر حلال نہیں ہے ۔(مسندأبو يعلى : 1570. السنن الکبری للبیہقی:11325)

   اور مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں :

جس شخص نے سب سے پہلے کوئی نئی چیز ایجاد کی خواہ وہ مادی چیز ہو یا معنوی چیز بلا شبہ وہ دوسروں کے مقابلے میں اسے اپنے انتفاع کے لئے تیار کرنے اور نفع کمانے کے لیے بازار میں لانے کا زیادہ حقدار ہے کیونکہ ابو داؤد میں حضرت اسمر بن مضرس سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر بیعت کی تو آپ نے  ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اس چیز کی طرف سبقت کی جس کی طرف کسی مسلمان نے سبقت نہیں کی تو وہ چیز اس کی ہے ۔(عن أسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ قال: أتیت النبی صلی الله علیه وسلم فبایعته،فقال: من سبق إلی مالم یسبقه مسلم فهوله۔ابو داؤد رقم الحدیث 2947)

    علامہ مناوی نے اگرچہ اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ یہ حدیث افتادہ زمین کو قابل کاشت بنانے کے بارے میں آئی ہے لیکن انہوں نے بعض علماء سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہ حدیث ہر چشمہ،کنواں اور معدن کو شامل ہے اور جس شخص نے ان میں کسی چیز کی طرف سبقت کی تو وہ اسی کا ہے اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے ، سبب کے خاص ہونے کا اعتبار نہیں ہوتا ہے ۔ (فیض القدیر 138/6)

    جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ حق ایجاد ایک ایسا حق ہے جسے اسلامی شریعت اس بنیاد پر تسلیم کرتی ہے کہ اس شخص نے اس چیز کے ایجاد کرنے میں سبقت کی ہے تو حق ایجاد پر وہی سارے احکام منطبق ہوں گے جو ہم نے حق اسبقیت کے بارے میں ذکر کئے ہیں

(فقہی مقالات 264/1)

  لہذا مصنف یا موجد اپنی محنت اور قانونی حق کے بدلے رائلٹی لے سکتا ہے اور کسی کو فروخت کرنے کے بعد دونوں فریق کے لئے معاہدہ کی پابندی ضروری ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے میں دھوکہ اور خیانت اور کاروباری نقصان کا ذریعہ ہے۔چنانچہ حدیث میں ہے:         والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما.

   مسلمانوں کے لئے شرطوں اور معاہدوں کے پابندی ضروری ہے الا یہ کہ اس شرط کے وجہ سے کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام کیا جائے ۔(جامع ترمذی:1352)

   اور حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    لا ‌ضرر ‌ولا ‌ضرار، من ضار ضره الله، ومن شاق شق الله عليه.

   نہ تو ابتداء ضرر پہنچانا ہے اور نہ بدلے میں اور جو کوئی کسی کو ضرر پہونچائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرر میں مبتلا کردیں گے اور جو کوئی کسی کو مشقت میں مبتلا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو مشقت میں ڈال دیں گے ۔(‌‌السنن الكبرى للبيهقي:11384)

  البتہ ذاتی ضرورت یا کسی کو بلا عوض ہدیہ کرنے کے لئے اس کی کاپی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور صرف تجارتی مقصد سے اس کی نقل بنانا ممنوع ہے۔ (فقہ البیوع 275/1)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے