بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(7) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

7- بیع غرر:

 

 غرر کی لغوی معنیٰ ہیں دھوکا دینا یاغلط امید دلانا اور بیع غرر سے مراد ایسی خرید و فروخت ہے جس میں دھوکہ اور غیر یقینی صورتحال پائی جائے چنانچہ علامہ جرجانی کہتے ہیں:

   ما يكون مجهول العاقبة لا يدري أيكون أم لا۔

  غرر وہ معاملہ ہے جس کا انجام معلوم نہ ہو کہ سودا ہو پائے گا یا نہیں ؟ (الموسوعة الفقہیہ 149/31)

 

غرر کی قسمیں:

 

    خرید وفروخت میں غرر کی متعدد صورتیں ہیں ، بنیادی طور پر انہیں چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے

1-مبیع معدوم ہو جیسے درخت پر پھل آنے سے پہلے اسے فروخت کرنا ۔

2-مبیع کی حوالگی پر قدرت نہ ہو جیسے گم شدہ جانور وغیرہ بیچنا یا ایسے سامان کو فروخت کرنا جو سودے کے وقت ہاتھ میں موجود نہ ہو.

3-مبیع ،ثمن ،یا ادھار کی مدت کا مجہول اور نامعلوم ہونا۔

4-معاملے کو کسی غیر یقینی اور احتمالی واقعہ پر موقوف کرنا جیسے کوئی کہے کہ جمعرات کو بارش ہوگی تو میں نے تمہیں یہ کتاب پچاس روپے میں فروخت کردی ۔اور ظاہر ہے بارش کا ہونا اور نہ ہونا دونوں غیر یقینی ہے ۔(دیکھئے فقہ البیوع 327/1)

  خرید وفروخت میں اگر غرر اور مجھولیت موجود ہو تو وہ ناجائز ہے چنانچہ حضرت ابوھریرہ سے منقول ہے:

    نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ۔

   رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر اور کنکری کی بیع سے منع فرمایا ہے.(صحیح مسلم :1513)

   امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

   غرر پر مشتمل سودے کی ممانعت سے متعلق حدیث میں خرید وفروخت سے متعلق نہایت اہم اور بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے۔ اور اسی وجہ سے امام مسلم نے اسے اپنی کتاب میں سب سے پہلے لکھا ہے۔ اس اصول کے تحت بے شمار مسائل آتے ہیں جیسے بھاگے ہوئے غلام اور ایسی چیز کا بیچنا جو موجود  نہ ہو، یا مجہول اور نامعلوم ہو یا جسے خریدار کے حوالے کرنے پر قادر نہ ہو، یا جو ابھی فروخت کرنے والے کی ملکیت میں مکمل طور پر نہ آئی ہو، نیز بہت زیادہ پانی میں موجود مچھلی، جانور کے تھن میں موجود دودھ اور پیٹ میں موجود بچہ فروخت کرنا، ڈھیر میں سے کوئی غیر متعین حصہ بیچنا، کئی کپڑوں میں سے ایک نامعلوم کپڑا یا کئی بکریوں میں سے ایک غیر متعین بکری فروخت کرنا، اور اسی طرح کے دوسرے تمام سودے۔ یہ سب خرید و فروخت باطل ہیں، کیونکہ ان میں بلا ضرورت دھوکا اور غیر یقینی پائی جاتی ہے۔۔۔۔اور یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ بیعِ ملامسہ(چھونے کے ذریعے بیع)،بیعِ منابذہ(پھیکنے کے ذریعے بیع) ،حمل کے حمل کی بیع ، کنکری کے ذریعے بیع اور جفتی کرانے کی اجرت وغیرہ، جن کے بارے میں احادیث میں الگ سے ممانعت وارد ہوئی ہے، دراصل یہ سب بھی بیعِ غرر میں داخل ہیں۔ البتہ ان کا الگ ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ زمانۂ جاہلیت میں خرید و فروخت کے مشہور طریقے تھے، اس لیے شریعت نے ان کی خاص طور پر ممانعت فرمائی۔(المنہاج شرح صحیح مسلم ۔رقم الحدیث 1513)

   غرر پر مشتمل زمانہ جاہلیت کے بعض طریقوں کی قدرے وضاحت مناسب ہے کہ دور حاضر کے بعض نئے مسائل کو حل کرنے میں اس سے مدد حاصل کی جاسکتی ہے ۔

    بیع حصاۃ سے متعلق حدیث گزر چکی ہے اور ملامسہ اور منابذہ سے متعلق حضرت ابوہریرہؓ ہی سے مروی ہے :

    نھی رسول اللہ ﷺ عن الملامسہ والمنابذۃ.

   رسول اللہ ﷺ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایاہے۔(صحیح بخاری 287/1)

  اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

    نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَلِبْسَتَيْنِ : نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ. وَالْمُلَامَسَةُ : لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ، أَوْ بِالنَّهَارِ، وَلَا يَقْلِبُهُ إِلَّا بِذَلِكَ، وَالْمُنَابَذَةُ : أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ، وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ، وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ، وَلَا تَرَاضٍ.

   رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو قسم کی خرید و فروخت اور دو طرح کے لباس سے منع فرمایا۔آپ ﷺ نے خرید وفروخت میں ملامسہ اور

منابذہ سے منع فرمایا۔ ملامسہ یہ ہے کہ کوئی شخص رات یا دن میں دوسرے کے کپڑے کو صرف ہاتھ لگا دے، اسے الٹ پلٹ کر نہ دیکھے، اور صرف اسی چھونے کی وجہ سے سودے کہ طے مان لیا جائے۔

  منابذہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینک دے اور دوسرا اپنا کپڑا اس کی طرف پھینک دے، اور بغیر دیکھے اور باہمی رضامندی کے اسی کو خرید و فروخت قرار دے دیاجائے۔(صحیح مسلم: 1512)

 

 بیع حصاۃ:

 

     ’’بیع حصاۃ‘‘ ہے یعنی کنکری کے واسطے سے معاملہ کرنا، فقیہ و محدث علامہ ابن ہمام نے ’’بیع حصاۃ‘‘ کی اصطلاحی تعریف کچھ اس طرح کی ہے : کپڑے کا مالک خریدار سے کہے کہ یہ کنکری پھینکو جس کپڑے پر جاکر گرے اس کو تمہیں اتنے روپیہ میں فروخت کررہاہوں(فتح القدیر 617/6) مالکیہ اور شافعیہ اور حنابلہ سے یہی وضاحت منقول ہے ، البتہ شوافع کے یہاں ایک اور شکل کا تذکرہ ملتاہے کہ مالک زمین خریدار سے کہے کہ کنکری پھینکو جہاں جاکر گرے وہاں تک کی زمین میں تمہیں اتنی قیمت میں بیچ رہاہوں۔(شرح نووی علی مسلم 2/2)

  علامہ ابن قیم نے کچھ اور صورتیں ذکر کی ہیں جیسے کوئی شخص ہاتھ میں کنکر ی لے کر کہے کہ میرے ہاتھ میں جتنی کنکریاں ہیں اسی کے بقدر سامان میرا ہوگا یا مٹھی میں بند ہر کنکری کے بدلے ایک درہم دینا ہوگا ۔(زادالمعاد 517/5)

 

بیع ملامسہ:

 

    بیع ملامسہ جسے ’’بیع لماس‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ لفظ "لمس” سے ماخوذ ہے بمعنی چھونا ، ٹٹولنا، کسی چیز کو ہاتھ لگاکر دیکھنا ، ’’ملامسہ‘‘ کی تشریح فقہاء نے یہ کی ہے ، مالک خریدار سے کہے کہ اندھیرے میں یا آنکھ بند کرکے جس سامان پر ہاتھ رکھ دو ، ہاتھ رکھ دینے کے بعد معاملہ طے سمجھاجائے گا ، بعدمیں دیکھنے پر پسند آئے نہ آئے ،

لینا ضروری ہے۔(فتح القدیر417/6)

 

بیع منابذۃ:

 

    منابذہ کی تشریح حنفیہ یہ کرتے ہیں کہ سامان کی خریدو فروخت بن دیکھے سامان کے بدلے ہورہی ہو ، ہر ایک اپنی چیز دوسرے کی طرف پھینکے، پھینکنے کے بعد معاملہ مکمل ہوجائے گا ، دیکھنے کے بعد لینے یا نہ لینے کا اختیار نہ ہوگا.اور فقہ حنبلی کے ترجمان ابن قدامہ نے منابذہ کی حقیقت یہ بیان کی ہے : خریدار کہے کہ جس کپڑے کو بھی تم میری طرف پھینک دو میں اسے اتنے روپیہ میں خرید رہاہوں، گویا یوں کہہ رہا ہے کہ ان مختلف کپڑوں میں سے غیر متعین طور پر ایک کپڑا اتنے میں خرید کر رہاہوں۔(المغنی 146/4)

     مذکورہ سودے سے ممانعت کی وجہ سامان خرید و فروخت کا غیر متعین یا اس کی مقدار کا مجہول ہونا،یا مبیع کو دیکھے بغیر خریدنا‌ اور دیکھنے کے بعد واپسی کا اختیار نہ ملنا ہے۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے