بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(4) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

5-خرید کردہ کو قبضہ سے پہلے بیچنا :

 

    خرید کردہ سامان پر قبضہ کے بغیر اسے فروخت کرنا صحیح نہیں ہے اور یہ بیع فاسد میں داخل ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

    مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.

   جو کوئی کھانے کی چیز خریدے تو اس پر قبضہ سے پہلے اس فروخت نہ کرے ۔ابن عباس کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز طعام کی طرح ہے ۔(صحیح بخاری : 2135.  صحیح مسلم:1525.واللفظ لہ)

  انہیں سے منقول ایک دوسری حدیث میں ہے :

   أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : كَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالَ : ذَاكَ دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ، وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ.

   رسول اللہ ﷺ نے کھانے کی چیز کو بیچنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلے۔راوی کہتا ہے کہ میں نے ابن عباس سے دریافت کیا کہ اس ممانعت کی وجہ کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا:یہ درحقیقت درہم کی بیع درہم کے بدلے (کمی بیشی کے ساتھ) ہے جبکہ کھانے کی چیز مؤخر (یعنی ابھی خریدار کے قبضے میں نہیں آئی) ہوتی ہے۔”

(صحیح بخاری: 2132.صحیح مسلم:1525)

  یعنی حقیقت کے اعتبار سے یہ سود خوری ہے اور سامان بیچنا مقصود نہیں ہے بلکہ کمی بیشی کے ساتھ رقم کا تبادلہ رقم کے ذریعے کرنا ہے چنانچہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

   یعنی جب کوئی سو دینار کے بدلے غلہ خریدے اور اس کا ثمن بیچنے والے کو ادا کردے اور غلہ پر قبضہ کے بغیر اسے دوسرے کے ہاتھ ایک سو بیس دینار میں فروخت کر دے اور ثمن پر قبضہ کرلے تو گویا اس نے سو دینار کو ایک سو بیس دینار کے بدلے فروخت کیا ہے کیونکہ غلہ ابھی بیچنے والے کے پاس ہی ہے ۔اور اس تفسیر کے اعتبار سے ممانعت کھانے کی چیز کے ساتھ خاص نہیں ہوگی اسی لیے ابن عباس نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز طعام کی طرح  ہے۔(فتح الباری۔رقم الحدیث :2135)

   بعض حدیثوں میں اس کی ایک دوسری وجہ بیان کی گئی ہے چنانچہ عمر بن شعیب کی سند سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 ” لَا يَحِلُّ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ۔

  ایسی چیز کا بیچنا حلال نہیں ہے جو تیرے پاس نہ ہو اور نہ ایسی چیز پر نفع حلال ہے جس کا ضامن نہ ہوا جائے۔

(سنن ابوداؤد:3504.جامع ترمذی:1234. سنن نسائی:4611.سنن ابن ماجہ: 2188 . واللفظ لہ)

    یعنی جب تک کہ خرید کردہ سامان قبضہ میں نہ آجائے تو وہ خریدار کے ضمان میں نہیں آتا ہے اور کوئی چیز جب تک کہ ضمان میں نہ آجائے اس پر نفع حاصل کرنا درست نہیں ہے، دوسرے الفاظ میں کسی چیز پر نفع لینا اسی وقت درست ہے جب کہ نقصان کا خطرہ اس نے قبول کیا ہےاور نقصان کے رسک کے بغیر نفع حاصل کرنا صحیح نہیں ہے۔چنانچہ ایک دوسری حدیث میں کہا گیا ہے ۔

  الخراج بالضمان۔رواه الخمسة.

   نفع ضمان کے بدلے ہے۔( بلوغ المرام:839)

  اور یہ بالکل واضح ہے کہ ضمان اور نقصان کے رسک کی وہاں ضرورت ہوتی ہے جہاں فروخت کردہ کے ہلاک اور ضائع ہونے کا خطرہ ہو اور غیر منقولی چیزوں میں عام طور پر اس طرح کا خطرہ نہیں ہوتا ہے ۔

    نیز قبضہ سے پہلے فروخت کرنے میں اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ جس چیز کا معاملہ ہو چکا ہے وہ بیچنے والے کے قبضے میں نہ آئے اور اس تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جائے۔

اور خریدار اس کے ملنے کی امید پر کوئی پروگرام مرتب کر لے اور نہ ملنے کی صورت میں اس کا پورا پلان فیل ہو جائے اور وہ بیچنے والے سے اپنے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرنے لگے اور اس طرح سے دونوں کے درمیان اختلاف و نزاع پیدا ہو جائے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اس طرح کا امکان ان چیزوں میں ہے جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہوں لیکن وہ چیزیں جو منتقل نہ ہوسکتی ہوں ان کے بارے میں اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ بیچنے والے کے ہاتھ نہ آئے یا ضائع ہوجائے اس لئے امام ابوحنیفہ نے زمین اور جائداد کی بیع کو قبضہ سے پہلے درست قرار دیا ہے لیکن اگر غیر منقولی چیزوں میں بھی اس طرح کا اندیشہ ہو تو قبضہ سے پہلے اسے فروخت کرنا درست نہیں ہے  ۔

   اور مالکیہ و حنابلہ نے حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ممانعت کو کھانے کی چیزوں تک محدود رکھا ہے یعنی کھانے کے علاوہ چیزوں کو قبضہ سے پہلے فروخت کرنا ان کے نزدیک درست ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس کی رائے پر عمل کرتے ہوئے ممانعت کے حکم کو بالکل عام رکھا ہے اور ہر چیز کی بیع کو قبضہ سے پہلے ناجائز قرار دیا ہے خواہ منقولی ہو یا غیر منقولی ۔

 

قبضہ کی حقیقت و ماہیت :

 

    کسی چیز پر قبضہ کی دو صورتیں ہیں: قبضہ حقیقی اور  قبضہ حکمی۔

   قبضہ حقیقی کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز حسی طور پر خریدار کے قبضہ میں آجائے اور قبضہ حکمی یہ ہے کہ اس کا نفع و نقصان (profit & Risk ) اس سے متعلق ہوجائے یعنی اگر اس کی قیمت میں اضافہ ہو تو خریدار اس کا مستحق ہو اور اگر اس کی قیمت گرگئی تو نقصان بھی اسی کو برداشت کرنا پڑے،اسی طرح سے وہ چیز ضائع ہوجائے تو خریدار کا نقصان ہو اس لئے کہ محسوس (فزیکل) قبضہ بعض چیزوں میں ممکن ہی نہیں جیسے شیئرز اور بجلی کی خرید و فروخت میں کہ ان کو ہاتھ میں لے کر قبضہ کرنا ممکن ہی نہیں ۔

   غرضیکہ قبضہ کا کوئی ایک طریقہ متعین نہیں ہے بلکہ چیزوں کی نوعیت اور حالات اور عرف و رواج کے اعتبار سے اس میں تبدیلی ہوسکتی ہے؛ اس لئے جس صورت میں بھی بیچی جانے والی چیز کا نقصان وضمان کسی کے ذمے ہو جائے تو اس پر اس کا قبضہ سمجھا جائے گا البتہ سونے چاندی کی خرید وفروخت میں حسی قبضہ ضروری ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے