بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(10) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
10-عقد استصناع :
سلم کی طرح عقد استصناع (آرڈر پر کوئی چیز بنوانے کا معاملہ کرنا) کا بھی غیر موجود کی بیع ہے جسے اصلا ناجائز ہونا چاہئے لیکن رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے یہ معاملہ رائج ہے اور کسی سے اس پر نکیر منقول نہیں ہے اور لوگوں کی ضرورت اس سے وابستہ ہے اس لئے اس کی اجازت دی گئی ہے؛ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ مطلوبہ معیار کے مطابق تیار شدہ چیز دستیاب نہیں ہوتی ہے اس لئے آڈر دے کر اسے بنوانا پڑتا ہے اوراگر اس کی اجازت نہ دی جائے تو لوگ تنگی میں پڑ جائیں گے۔چنانچہ موجودہ دور میں مصنوعات کے امپورٹ اور ایکسپورٹ کا زیادہ تر مدار عقد استصناع پر ہے کہ خریدار نمونہ دیکھ کر آرڈر دیتا ہے، اور بیچنے والا نمونہ کے مطابق آرڈر تیار کرتا ہے۔بلکہ بڑی بڑی عمارتیں اور سڑکیں آڈر پر تیار کرائی جارہی ہیں ۔
سلم کی طرح سے عقد استصناع میں بھی مطلوبہ چیز کی جنس ،نوع ،کوالٹی ،معیار اور مقدار اور دوسری تفصیلات جیسے سائز اور رنگ وغیرہ کی تعیین ضروری ہے تاکہ حوالگی کے وقت کسی طرح کا تنازع نہ ہو۔
عقد استصناع میں سلم کی طرح سے ثمن نقد ادا کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ سامان حاصل کرنے کے وقت بھی ادا کرسکتے ہیں اور اس کے بعد بھی کسی وقت بلکہ قسطوں میں ادا کرنا بھی درست ہے ۔
اس معاملے میں منفعت کو بھی ثمن بنا سکتے ہیں بلکہ جو چیز آڈر پر تیار کرائی گئی ہے اس کی منفعت کو بھی ثمن بنانا جائز ہے مثلاً حکومت کسی ٹھیکیدار سے کہے کہ فلاں جگہ پل بناؤ اور پھر وہاں سے گزرنے والوں سے طے شدہ ثمن وصول کرو اور وصول یابی مکمل ہونے کے بعد پل حکومت کے حوالے کردو۔اس طرح کے معاملے کو عقود البناء و التشغیل ( build ،operate and transfer) کہا جاتا ہے ۔
متوازی استصناع :
آڈر پر سامان فراہم کرنے والا اگر چاہے تو کسی دوسرے سے استصناع کا معاملہ کرسکتا ہے مثلاً کسی شخص سے ایک خاص معیار کا سلا ہوا کپڑا فراہم کرنے کا معاملہ کیا گیا اور پھر اس نے متعدد ٹیلرس سے مطلوبہ معیار کا کپڑا فراہم کرنے کا معاملہ طے کیا تو یہ درست ہے ۔
البتہ اس کے جواز کے لئے ضروری ہے کہ
دونوں عقد مستقل ہوں اور ایک دوسرے پر موقوف نہ ہوں ۔اور ایک کی ذمہ داری دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہو لہذا مذکورہ مثال میں اگر ٹیلر کپڑا تیار کرکے فراہم نہ کرے تو پہلے شخص کی ذمے داری ختم نہیں ہوگی ۔