بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(55) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

62-لائف انشورنس:

 

   لائف انشورنس میں بنیادی طور پر دو حرام عنصر شامل ہیں:ایک سود ، دوسرے جوا۔ بلکہ انشورنس کی جتنی بھی قسمیں ہیں ان میں یا تو دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں یا ان میں سے کوئی ایک ۔

     سود اس طور پر کہ کمپنی پالیسی ہولڈر کو خطرہ پیش آجانے کی صورت میں خواہ اس نے پریمیم کی چند ہی قسطیں ادا کی ہوں، مکمل رقم ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے مثلاً پالیسی ہولڈر نے ابھی دو لاکھ  میں سے صرف دس ہزار ادا کیا تھا کہ جس خطرہ کے لیے انشورنس کرایا تھا وہ خطرہ پیش آگیا اس صورت میں بیمہ کمپنی معاہدہ کے مطابق مثلاً دس لاکھ روپے ادا کرتی ہے اور اگر حادثہ پیش نہیں آیا اور اس نے مکمل قسط جمع کردی تو اب کمپنی اصل رقم کچھ اضافہ کے ساتھ واپس کرتی ہے ، سوال یہ ہے کہ کمپنی دونوں صورتوں میں جو زائد رقم اس کو دے رہی ہے وہ کس چیز کا معاوضہ ہے؟ ظاہرہے کہ یہ اس قرض کا معاوضہ ہے جو اس نے بیمہ کمپنی میں پریمیم کے نام سے جمع کیا ہے اور اسلام میں اسی کا نام سود ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں:

    الربا ھو القرض علی ان یؤدی الیہ اکثر أو افضل مما اخذ۔(حجۃ اللہ البالغہ 98/2)

    ربا اس طور پر قرض دینا ہے کہ اسے اس سے زیادہ یا اس سے بہتر واپس ملے گا۔

    لائف انشورنس میں دوسری بڑی خرابی ’’قمار‘‘(جوا) ہے کیونکہ اس میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر پالیسی ہولڈر لائف انشورنس میں متعین کردہ وقت سے پہلے مرجائے تو اس کو ایک خطیر رقم ملے گی اور اگر وقت معینہ میں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا تو ادا کردہ کی بہ نسبت کچھ کم زیادہ رقم ملے گی۔ بالفاظ دیگر وقت مقررہ سے پہلے مرجانا یا حادثہ پیش آجانا یہ پالیسی ہولڈر کے لئے جیت ہے اور وقت مقررہ کے بعد موت ہار ہے ، یہ شکل صراحتاً جوئے کی ہے ؛ کیونکہ موت کا آنا گرچہ یقینی ہے مگر کون کس وقت مرے گا یہ غیریقینی ہے اور کسی غیریقینی واقعہ کو نفع و نقصان کا مدار بنانا ہی قمار ہے۔ (تعلیق الملک علی الخطر۔مبسوط 59/12)        مغربی مفکرین کو بھی احساس ہے کہ انشورنس اور دوسرے قمار آمیز طریقوں میں باہم فرق کرنا بڑا مشکل ہے ، جسٹس فولٹن ایک مقدمہ میں لکھتا ہے:

    بلا لحاظ اس کے کہ اس بات کی کوئی سند ہے یا نہیں بظاہر یہ کہنا سخت مشکل ہے کہ آخر اصولاً کیا فرق ہے اس معاہدہ میں کہ ’’الف‘‘ ایک سالانہ رقم ’’ب‘‘ کو اس شرط پر دیتا رہے گا کہ ایک خاص مدت کے اندر ’’الف‘‘ کی موت واقع ہوجانے کی صورت میں ’’ب‘‘ ایک بڑی رقم اداکرے گا اور اس معاہدہ میں ایک چھوٹی رقم اس شرط پر دی جائے کہ  ایک خاص گھوڑا دوسرے گھوڑوں سے آگے نکل گیا تو دوسرا فریق ایک بڑی رقم ادا کرے گا۔

اور لارڈ بریمول مقدمہ سالٹ بنام نارتھیمن میں لکھتا ہے:

    ہر بیمہ زندگی ایک قسم کے جوئے کی شرط ہے ۔ میں بیس پونڈ سالانہ کی بازی جیتے جی اس امید پر لگاتا ہوں کہ اگر میری موت کا واقعہ پیش آگیا تو کچھ لوگوں کو ایک ہزار ملیں گے، اگرمیں جلدی مرگیا تو جیت گیا اور دیرمیں مروں تو ہار گیا۔ (بینکنگ اور انشورنس از سید ابوالاعلیٰ مودودی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے