بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(54) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

61-مکان کے لئے سودی قرض لینا:

   جن چیزوں کی حرمت قطعی اور واضح دلیل جیسے صریح قرآنی آیات یا متواتر روایات سے ثابت ہوتی ہے نیز وہ حرام لعینہ ہوتی ہیں ان کی اباحت و رخصت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب اضطراری حالت پیدا ہوجائے ۔

     اور جن چیزوں کی حرمت قطعی اور واضح دلیل سے ثابت نہ ہو یا وہ حرام لغیرہ ہوں تو بوقت حاجت بھی ان کے ارتکاب کی رخصت ہوجاتی ہے ۔

   سود کھانے کی حرمت قرآن حکیم کی واضح آیات کے ذریعے ثابت ہے ،نیز یہ حرام لعینہ ہے کہ دوسرے کے مال کو باطل طریقے پر ہڑپ لیا جاتا ہے ۔

   لیکن سود دینے کی حرمت ظنی دلیل یعنی خبر واحد کے ذریعے ثابت ہے نیز یہ حرام لغیرہ ہے کہ خود وہ کسی کے مال کو غلط  راستے سے حاصل نہیں کر رہا ہے ،اس کے مال میں ناجائز طریقے سے دوسرے کے مال کی شمولیت نہیں ہورہی ہے ، اور نہ ہی کسی کو حرام مال دے رہا ہے بلکہ اپنے حلال مال کا ایک حصہ دوسرے کے حوالے کر رہا ہے اور اگر کسی شرط کے بغیر قرض واپس کرتے ہوئے وہ کچھ زیادہ رقم واپس کردیتا تو یہ اچھی ادائیگی میں شمار ہوتی چنانچہ ایک حدیث میں ہے :

     جاءَ رَجُلٌ يَتَقاضى رَسولَ اللهِ ﷺ بَعِيرًا، فَقالَ: أَعْطُوهُ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، وَقالَ: خَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضاءً.

     رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص قرض میں دیا گیا اپنا اونٹ مانگنے کے لئے آیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے اونٹ سے زیادہ عمر کا اونٹ واپس کردو اور فرمایا:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرض واپس کرتے ہوئے اس سے بہتر ادا کرے ۔(صحيح بخاري :2305.صحیح مسلم:1601)

   لیکن ظاہر ہے کہ سود لینے کا وجود اسی وقت ہوگا جب دینا پایا جائے لیکن سود لینے میں کوئی مجبوری نہیں ہوتی اور دینے میں مجبوری ہوسکتی ہے۔ نیز وہ ایک ناجائز کام میں یقیناً معاون بن رہا ہے اس لئے سود دینا بھی حرام ہے لیکن دونوں کی حرمت اور گناہ میں فرق ضرور ہے چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

   لعن اللهُ آكلَ الرِّبا، ومُوكِلَهُ، ، وكاتِبَهُ، وشاهِدَيْهِ و قال: هم سواءٌ.

   اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے سود کھانے اور کھلانے والے پر  اور سودی معاملہ کو لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر ۔اور فرمایا: یہ سب  برابر ہیں۔(صحيح مسلم:1598)

   ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

    هم سواء في اصل الاثم وان كانوا مختلفين في قدره.

   یہ سب اصل گناہ میں برابر ہیں گرچہ اس کی مقدار میں فرق ہے ۔(المرقاۃ 307/3)

  اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رقم طراز ہیں:

    تحقیق یہ ہے کہ سود دینا بالتبع حرام ہے کیونکہ وہ کسی کا مال تو لیتا نہیں بلکہ خود اپنا مال دیتا ہے اور اپنا مال دوسرے کو دینا خواہ اس میں اپنا نقصان ہی ہو بالخصوص دفع حاجت اور دفع ظلم کے لیے بالکل مباح ہے پس سود دینے میں حرمت کی وجہ یہی دو چیزیں ہیں ایک یہ کی غیر کو حرام کھلانا لازم آتا ہے جیسے قاضی یا حاکم کو رشوت دینا ، دوسرے یہ کی دارالاسلام میں سودی معاملہ کی ترویج کا سبب بنتا ہے ،اسی بنا پر حالت اضطرار میں دارالاسلام میں بھی سود دینے کو جائز قرار دیتے ہیں غرض سود لینے اور سود دینے میں فرق ہے گو کہ اصل گناہ میں دونوں شریک ہیں ۔(فتاویٰ عزیزیہ 40/1 ۔  نیز دیکھئے جدید فقہی تحقیقات 345/2 حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی کا مضمون)

   چونکہ سود دینے کی حرمت ظنی دلیل سے ثابت ہے نیز حرام لغیرہ ہے اس لئے بوقت حاجت بھی اس کی رخصت ہوگی چنانچہ علامہ ابنِ نجیم مصری نے لکھا ہے :

    یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۔

   ضرورت مند کے لئے سودی قرض لینا جائز ہے ۔(البحر الرائق 137/6)

    مکان بنیادی ضرورت میں شامل ہے ،اپنا مکان نہ ہونے کی وجہ سے انسان شدید پریشانی اور ذہنی الجھن کا شکار ہوتا ہے اس لئے اگر مکان بنانے یا خریدنے کے لئے کوئی جائز ذریعہ موجود نہ ہو تو اس کی لئے سودی قرض حاصل کرنا درست ہے ۔دار العلوم دیوبند کے سابق صدر مفتی حضرت مولانا مفتی نظام الدین اعظمی ؒ مکان کے لئے سودی قرضہ حاصل کرنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

   اگر حالات تحریر کئے ہوئے صحیح ہیں تو واقعی یہ حاجت صحیح اور احتیاج صحیح ہے اور ایسی حالت میں بغیر سود کے قرضہ نہ ملے تو شریعت مطہرہ نے بوجہ ضرورت اور حسب ضرورت بینک سے سودی قرض بھی لے لینے کی اجازت دی ہے۔(منتخبات نظام الفتاویٰ 189/1.نیز جدید فقہی مسائل 279/5)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے