بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(35) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

42-چور بازار:

 

   اگر کسی سامان کے بارے میں یقین یا غالب گمان ہے کہ وہ چوری کا ہے تو اسے خریدنا صحیح نہیں ہے اور خرید وفروخت باطل ہوگی گرچہ وہ مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے اس کے پاس آئے۔

    یہی حکم اس وقت بھی ہے جب کسی واضح قرینہ یا علامت کے ذریعے معلوم ہوجائے کہ بیچنے والا چوری کا مال بیچ رہا ہے ۔بلکہ اگر چوری کا شبہہ ہو تو بھی اس سے احتراز کرنا بہتر ہے  ۔

    کیونکہ چوری کامال چاہے  جتنے لوگوں تک منتقل ہوجائے وہ حرام ہی رہتا ہے اور اصل مالک کے علاوہ کوئی دوسرا اس کامالک نہیں بنتا۔ اور اصل مالک کی ملکیت برقرار رہتی ہے اس لئے چور سے یا کسی دوسرے شخص سے اس مال کے سلسلے میں معاملہ کرنا باطل ہے ۔اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی حرام۔ ہے (1)گرچہ مالک بننے کا طریقہ شریعت کی نظر میں درست ہو، جیسے خرید کر حاصل کرنا، یا تحفہ میں لینا یا وراثت میں پانا۔

   اور اگر خریدنے کے بعد معلوم ہو تو اس کے اصل مالک کو تلاش کرکے پہونچنانا ضروری ہے اور اگر اس کا پتہ نہ چلے تو پھر ثواب کی نیت کے بغیر اسے صدقہ کردے(2)۔

   چوری کے سامان کو خریدنا کسی کے مال کو باطل طریقے پر کھانا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

   وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَ تُدۡلُوۡا بِہَاۤ اِلَی الۡحُکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِیۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَ اَنۡتُمۡ  تَعۡلَمُوۡنَ ۔

    اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ، اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس سے غرض سے لے جاؤ کہ لوگوں کے مال کا کوئی حصہ جانتے بوجھتے ہڑپ کرنے کا گناہ کرو۔(سورہ البقرۃ : 188)

   اور حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی فرمایا:

   مَن اشترى سَرِقَةً، وهو يعلمُ أنها سَرِقَةٌ، فقد شارك في عارِها وإِثْمِها۔(مسند اسحاق راھویہ:413. مستدرک حاکم:2253.شعب الایمان:10928)

   جس نے جانتے بوجھتے چوری کے مال کو خریدا تو اس کی ذلت اور گناہ میں وہ بھی شریک ہے۔

   اور حضرت عداء بن خالد کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک غلام یا باندی خریدی اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے یہ تحریر لکھوا کر میرے حوالے کی :

   هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا، أَوْ أَمَةً لَا دَاءَ، وَلَا غَائِلَةَ (3)، وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .

    یہ محمد رسول اللہ ﷺ اور عداء بن خالد کے درمیان خریداری کا دستاویز ہے انھوں نے مجھ سے غلام یا باندی خریدی ہے جس میں

 نہ تو کوئی بیماری ہے اور نہ وہ چوری کا مال ہے اور نہ حرام مال ہے ۔ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے ساتھ بیع ہے ۔( جامع ترمذي: 1216)

  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر خریدار کو معلوم ہو یا ظن غالب ہو کہ جو سامان بیچا جا رہا ہے وہ چوری یا حرام کا مال ہے اسے خریدنا جائز نہیں ہے۔

     علاوہ ازیں چوری کا مال خریدنے  میں گناہ اور مجرمانہ کاموں میں تعاون ہوتا ہے،اور چور کو چوری کرنے کا حوصلہ ملتا ہے ، اس طرح برائی روکنے کی بجائے انسان برائی کو پھیلانے میں مدگار ہو جاتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالی کا  فرمان ہے :

   وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ  شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ۔

   اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ (سورہ المائدہ: 2)

   یہ بھی ذہن میں رہے کہ کتاب و سنت میں

 پاکیزہ اور حلال روزی کمانے اور کھانے اور حرام و مشتبہ مال سے بچنے کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے چنانچہ رب کائنات کا فرمان ہے:

   یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ  اِنۡ  کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ  تَعۡبُدُوۡنَ ۔

   اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں، ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ، اور اللہ کا شکر ادا کرو، اگر واقعی تم صرف اسی کی بندگی کرتے ہو۔ (سورہ البقرۃ: 172)

   لہذا جن جگہوں کے بارے میں معلوم ہو کہ وہاں چوری ،ظلم اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ سامان فروخت کیا جاتا ہے تو وہاں خریداری سے اجتناب ضروری ہے ۔

 

(1) (قوله: الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريباً …نقل الحموي عن سيدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في كتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ”(رد المحتار 98/5کتاب البیوع،باب البیع الفاسد .ط، سعید)

(2)والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه”. (رد المحتار99/5 ، مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا، ط: سعید)

(3)وقال في النهاية الغائلة أن يكون مسروقا وأراد بالخبثة الحرام.(حاشیہ سندی علی ابن ماجہ. رقم الحدیث : 2251)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے