بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(53) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

60-کریڈٹ کارڈ(credit card):

 

    بینک سے جاری ہونے والے اس کارڈ کے حامل کو یہ سہولت دی جاتی ہے کہ وہ اس کے ذریعے خریداری کا عوض اور کسی چیز کا کرایہ ادا کرسکتا ہے اور نقد رقم بھی حاصل کرسکتا خواہ وہ اپنے ملک میں ہو یا سفر کرکے کسی دوسرے ملک میں تجارت یا سیر وتفریح کے مقصد سے پہونچا ہو بلکہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے بھی بیرون ملک سے خریداری کرسکتا ہے۔

   اگر اس کے اکاؤنٹ میں رقم موجود ہے تو بینک ایک متعین مدت کے بعد اس کی طرف سے ادا کردہ رقم کے بقدر حاصل کرلیتا ہے۔ اور اگر رقم موجود نہ ہو تو ادائیگی کے لئے عام طور پر ایک مہینے کی مہلت ملتی ہے ، اگر اس دوران وہ پیمنٹ کردیتا ہے تو اس سے کسی سود کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے اور اس مدت کے بعد ادا کرنے کی صورت میں متعین کردہ سود دینا ہوتا ہے ۔

    کارڈ جاری کرنے والی کمپنی اور بینک اس کے ذریعے چار طرح سے فائدہ حاصل کرتا ہے :

1- کارڈ جاری کرنے اور ہر سال رینیول کرنے کی فیس:

     اسے ہر حال میں ادا کرنا ہوتا ہے خواہ کارڈ ہولڈر اسے استعمال کرے یا نہ کرے اور بینک براہ راست اس کے اکاؤنٹ سے پیمنٹ کرے یا اس کی طرف سے پہلے بطور قرض ادا کرے اور پھر ایک متعین مدت کے بعد اس کے اکاؤنٹ سے کاٹ لے یا اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کی صورت میں اس کی طرف سے بطور قرض ادا کرے ۔

    نیز یہ فیس متعین ہوتی ہے اور کارڈ کے کم یا زیادہ استعمال سے اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی ہے، یعنی سال بھر میں ایک ہزار یا ایک لاکھ کی خریداری کرنے میں فیس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی ہے بلکہ بالکل استعمال نہ کرے جب بھی فیس ادا کرنی ہوگی۔

      اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس فیس کا تعلق قرض سے نہیں ہے بلکہ یہ کارڈ کی سروس چارج اور پروسیسنگ فیس ہے ، اس لئے اسے وصول کرنا اور دینا جائز ہے بشرطیکہ کہ وہ اس طرح کی خدمات کی اجرت سے زیادہ نہ ہو۔

2- تاجر سے حاصل ہونے والا کمیشن :

  کارڈ جاری کرنے والی کمپنی تاجر کو متعدد سہولیات فراہم کرتی ہے جیسے اس کارڈ کو  قبول کرنے والی مشین نصب کرنا اور اس میں استعمال ہونے والا کاغذ فراہم کرنا اور اس کے استعمال کے طریقہ کی تعلیم وغیرہ ، نیز اس کی وجہ سے اس کے سامان کی فروختگی میں اضافہ ہوجاتا ہے تو گویا کہ اس طرح سے کمپنی اس کے لئے بروکر ہے ۔

    ان تمام خدمات کے عوض کارڈ جاری کرنے والی کمپنی تاجر سے دوچار فی صد کمیشن کا مطالبہ کرتی ہے اور وہ طے شدہ کمیشن اسے ادا کرتا ہے، اس کے جواز میں بھی کوئی کلام نہیں ہے کیونکہ یہ مذکورہ خدمات و سہولیات کا عوض ہے ۔

3-دوسرے ملک میں خریداری کی وجہ سے کرنسی کے تبادلے سے حاصل ہونے والی آمدنی :

    دو ملکوں کی کرنسی الگ الگ جنس ہے اس لئے اسے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا درست ہے ۔

4-وقت پر پیمنٹ نہ کرنے کی صورت میں حاصل شدہ انٹریسٹ:

    کارڈ جاری کرتے ہوئے اس بات کی شرط لگا دی جاتی ہے کہ اگر کارڈ ہولڈر نے وقت پر بینک سے حاصل کردہ قرض ادا نہیں کیا تو اسے متعین مقدار میں سود ادا کرنا ہوگا ۔

ظاہر ہے کہ اس طرح کی شرط اسے ایک سودی معاملہ بنا دیتا ہے اس لئے اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن کارڈ ہولڈر کے لئے اس شرط سے بچنا ممکن ہے اس طور پر کہ وہ بینک کو پابند کرسکتا ہے کہ بل کو براہ راست اس کے اکاؤنٹ سے ادا کیا جائے اور اس کی طرف سے بطور قرض ادا نہ کیا جائے،کارڈ جاری کرنے والی بعض کمپنیاں اس طرح کی سہولت فراہم کرتی ہیں ۔

    اور اگر اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے یا کسی دوسری وجہ سے اس کے لئے ایسا کرنا آسان نہ ہو تو وہ اس نیت سے اس شرط کو قبول کرسکتا ہے کہ وقت پر وہ قرض ادا کردے گا تاکہ سود ادا کرنے کی نوبت نہ آئے .چونکہ اس طرح کی شرطیں یکطرفہ طور پر مسلط کی جاتی ہیں اور اسے رد کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے اور متعدد خدمات و سہولیات میں یہ شرط موجود ہوتی ہے جیسے کہ الیکٹرک بل وغیرہ کی ادائیگی میں بھی یہ شرط ہوتی ہے کہ وقت پر ادا نہ کرنے کی صورت میں انٹریسٹ ادا کرنا ہوگا ۔اگر محض اس شرط کے وجہ سے معاملہ کو فاسد قرار دیا جائے تو لوگ حرج و تنگی میں مبتلا ہوجائیں گے اس لئے ضرورت و حاجت کی بنیاد پر اس شرط کے باوجود معاملہ کو جائز قرار دیا جائے البتہ پختہ ارادہ ہونا چاہئے کہ وہ وقت پر قرض ادا کردے گا ۔(دیکھئے فقہ البیوع 441/1-450)

   علاوہ ازیں کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے کے وقت کسی سودی معاملہ کا وجود نہیں ہوتا ہے ،سود کا لین دین تو اس وقت ہوگا جب کارڈ کے ذریعے قرض لے اور مقررہ مدت میں ادا نہ کرے ، اور اس کے نتیجے میں سود عائد ہو ۔ لیکن اگر کارڈ ہولڈر کا پختہ ارادہ اور اپنے آپ پر یقین ہو کہ وہ وقت پر قرض ادا کردے گا تو سودی معاملہ کا وجود ہی نہیں ہوا بلکہ صرف ایک قرض کا معاملہ ہے اور قرض

 عقودِ تبرعات (Gratuitous Contracts ) کے قبیل سے ہے ، اور عقد تبرع میں کوئی فاسد شرط لگائی جائے تو اصل معاملہ درست رہتا ہے اور شرط غیر معتبر اور باطل ہو جاتی ہے،(1) البتہ عقدِ معاوضہ(Onerous Contract ) میں شرط فاسد لگانے کی وجہ سے پورا معاملہ خراب ہوجاتا ہے چونکہ قرض کا حصول عقدِ معاوضہ میں شامل نہیں ہے،اس لئے تاخیر کی وجہ سے انٹریسٹ کی شرط کی وجہ سے معاملہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ چنانچہ دار العلوم دیوبند کا فتوا ہے :

بسم الله الرحمن الرحيم

 

”چند اہم عصری مسائل“ (کتاب) ج۲ص۲۸۷میں ہے ”کاروباری ضرورت یا مالی تحفظ کی غرض سے کریڈٹ کارڈ لینے اور اس کے استعمال کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ پہلے اکاوٴنٹ کھلوالیا جائے تاکہ کارڈ جاری کرنے والا ادارہ اپنا قرض وہاں سے وصول کرلے اور اگر اکاوٴنٹ سے فی الحال قرضہ منہا کرنے کا انتظام نہ ہو تو اس کی انتہائی احتیاط برتی جائے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر اداء کردی جائے تاکہ ان پر سود لاگو نہ ہوسکے کیونکہ سود کا اداء کرنا حرام ہے یہ کارڈ غیر اسلامی بینک سے بھی لے سکتے ہیں“ اور کچھ علماء کا یہ خیال کہ سود اداء نہ کرنے کی مدت میں اداء کردینے کے باوجود یہ معاملہ ٹھیک نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ غیر شرعی معاہدہ اور شرط جو لگائی جاتی ہے وہ شرعاً باطل اور لغو ہے اس کی وجہ سے سود لاگو ہونے سے پہلے تک کا معاملہ باطل نہ ہوگا بلکہ وہ درست رہے گا۔

(جواب نمبر : 161083. Fatwa:1016-963/H=9/1439

   حاصل یہ ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے البتہ جب تک ڈیبٹ کارڈ وغیرہ سے ضرورت پوری ہوسکتی ہو اس وقت تک اسے حاصل کرنے سے گریز کرنااور سودی اداروں کے ساتھ تعاون سے احتراز کرنا چاہئے ۔

 

(1)وما لا یبطل بالشرط الفاسد القرض بأن أقرضتک ہذہ المأة بشرط أن تخدمني شہرًا مثلاً فإنہ لا یبطل بہذا الشرط وذلک لأن الشروط الفاسدة من باب الربا وأنہ یختص بالمبادلة المالیّة، وہذہ العقود کلہا لیست بمعاوضة مالیة فلا توٴثر فیہا الشروط الفاسدة الخ.(البحر الرائق: (کتاب البیع، باب المتفرقات، 312/6، ط: زکریا)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے