بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(25) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

32-تمباکو کی خرید وفروخت :

 

    تمباکو نوشی کے نقصان دہ ہونے میں اب کسی کا اختلاف نہیں ، اس کی وجہ سے صحت پر مرتب ہونے والے خوف ناک نتائج سب کے سامنے ہیں ،ہر سال لاکھوں لوگ  اس کے سبب موت کو گلے لگا رہے ہیں اور کروڑوں انسان اس کے نتیجے میں خطرناک بیماریوں کا شکار ہوکر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے ہر تین میں ایک کی موت تمباکو کے ذریعے واقع ہوتی ہے۔

    یہ صحیح ہے کہ سگریٹ ،بیڑی اور گٹکھا وغیرہ میں شراب کی طرح نشہ نہیں ہوتا ہے

بلکہ اس میں ایک طرح کی تیزی اور بدبو پائی جاتی ہے اس لئے اسے حرام نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن صحت کے لئے لاحق خطرات کی وجہ سے تمباکو کے استعمال کو جائز کہنا بھی صحیح نہیں ہے بلکہ ایک درجہ کی کراہت ضرور پائی جاتی ہے اس لئے اس کی تجارت کراہت سے خالی نہیں ہے ۔

   حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں:

   * خرید و فروخت کے سلسلہ میں اصول یہ ہے کہ جو چیز جائز ہو ،اس کا بیچنا جائز ہے ، جو چیز حرام ہو اس کا بیچنا حرام اور جو مکروہ ہو اس کا بیچنا بھی مکروہ ہے ، پھراس کے استعمال میں جس درجہ کی کراہت ہو گی ، فروخت کرنے میں بھی اس درجہ کی کراہت ہوگی ، سگریٹ ، بیڑی اور گٹکھا صحت کے لئے مضر ہے ، اس لئے کم سے کم کراہت سے خالی نہیں ، پھر ان میں جو چیز جس درجہ مضر ہوگی ، اس کو فروخت کرنے میں بمقابلہ بیڑی سگریٹ کے زیادہ کراہت ہوگی ۔ واللہ اعلم ۔

   *گٹکا صحت کے لئے بہت ہی نقصاندہ اور مضر ہے اور اس پر تمام اطباء کا اتفاق ہے ، مضر چیزوں کا فروخت کرنا مضرت رسانی کا ذریعہ بنتا ہے اور ضرر پہنچانا گناہ ہے ، پھر جب حکومت نے گٹکا نہ بیچنے کا قانون بنادیا ہے اور اس قانون کا مقصد عوام کی صلاح و فلاح ہے ، تو حکومت کے ایسے احکام کو ماننا واجب ہے ، لہذا گٹکا فروخت کرنا کم سے کم مکروہ تحریمی ضرور ہے ، اس لئے اس سے اجتناب واجب ہے ، مسلمانوں لئے نہ صرف قانونی بلکہ شرعی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت ہے ۔

   *تمباکو کے سلسلہ میں معتدل اور درست رائے یہ ہے کہ اس کا کھانا مکروہ ہے اور جو چیز خود مکروہ ہو اس کو فروخت کرنا بھی مکروہ ہے ،اس لئے تمباکو فروشی حرام تو نہیں ہے ، لیکن کراہت سے بھی خالی نہیں ہے

(کتاب الفتاویٰ 199/5-201)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے