: رسم اجراء سیرت رسول ﷺ کے روشن پہلو۔

حضرت مولانا ضیاء الحق صاحب عرف حاجی بابو کو جب مذکورہ کتاب کی اشاعت کی اطلاع ملی تو انھوں نے مبارکبادی کے لئے فون کیا، میں نے عرض کیا کہ آپ اور مولانا ضیاء الدین قاسمی ندوی صاحب کے ذریعے اس کی رونمائی ہوگی۔
کتاب جب میرے پاس آگئی تو ان کو باخبر کیا ،ارادہ تھا کہ مذکورہ دونوں صاحبان کے ذریعے ایک مختصر سی مجلس منعقد کر لی جائے گی ۔انھوں نے کہا کہ حضرت مولانا محمد ابواللیث صاحب (سابق پروفیسر و چیئر ہولڈر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا) اس وقت خیرآباد تشریف فرما ہیں ان کو شرکت کی دعوت دی جائے؟ میں نے عرض کیا : اس سے بڑی مسرت و فرحت اور خوش قسمتی کی بات کیا ہوگی؟ یہ تو کلاہِ گوشۂ دہقاں بآفتاب رسید کا مصداق ہوگا ۔
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے۔
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔
حضرت مولانا کی بلند و بالا شخصیت اور ان کی علمی مشغولیت کی وجہ سے میں ہمت نہیں کر پار ہوں،اگر آپ کے ذریعے وہ شرکت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو زہے قسمت۔
کچھ دیر بعد اطلاع آئی کہ وہ آمادہ ہیں ، چنانچہ سوشل میڈیا کے ذریعے پروگرام کا اعلان کردیا گیا ۔
سرکار دو عالم ﷺ کی عظمت و رفعت،ان کی ہستی عالم تاب سے شیفتگی و محبت اور ان کے نام کی برکت اور حضرت مولانا کی کرامت تھی کہ قرب وجوار کے علماء کی ایک بڑی تعداد اس میں شریک رہی ۔میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ایک دیہات میں منعقد ہونے والا ایک معمولی سا پروگرام اس درجہ لوگوں کی توجہ حاصل کرلے گا ۔
عزیزم حسان مجید کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز ہوا اور اس کے بعد عزیزم روح الامین متعلم عربی چہارم نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کی ،پھر رسم اجرا کی تقریب ہوئی ۔
اس کے بعد مولانا ضیاء الدین صاحب قاسمی ندوی ،مولانا ضیاء الحق صاحب اور حضرت مولانا محمد ابواللیث صاحب نے کتاب کے سلسلے میں اپنے تاثرات پیش کئے ،کتاب کے اسلوب کی جدت و ندرت پر انھوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ ضرورت ہے کہ اسی طرز پر سیرت کی کتاب لکھی جائے میں اپنی کتاب ”اتجاہات فی دراسات السنہ“ کے آئندہ ایڈیشن میں اس کتاب کی روشنی میں اضافہ کرونگا ۔
حضرت مولانا ضیاء الدین صاحب قاسمی ندوی ایک صاحب طرز ادیب،زبان و قلم کے دھنی ،تقریر و تحریر پر یکساں قادر ،شیریں بیاں خطیب ،زندہ دل اور باغ و بہار شخصیت کے مالک ہیں،وہ جہاں بھی رہتے ہیں محفل کو زعفران زار بنا دیتے ہیں ۔
انھوں نے رحمت کائنات کی سیرت پر تفصیلی گفتگو فرمائی ۔
ہمارے محسن و کرم فرما اور حضرت الاستاذ مولانا اعجاز احمد اعظمیؒ کے علوم کے امین اور تاریخ کے رموز و اسرار کے ماہر مولانا ضیاء الحق عرف حاجی بابو اس پروگرام کے روح رواں تھے ۔ اور انھیں کے ذریعے یہ پروگرام کامیابی سے ہم کنار ہوا۔
انھوں نے سیرت نویسی کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور آخر میں مولانا کمال اختر صاحب کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا ۔
حضرت مولانا ارشد فاروقی صاحب ٬ مفتی شاہنواز صاحب صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم الدین ٬ مفتی مبشر صاحب شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ تعلیم الدین،مولانا نوشاد صاحب(منبع العلوم خیرآباد) ٬ مولانا ابرار صاحب مولانا عمر فاروق،مولانا محمد طیب اور دوسرے بہت سے نمایاں و ممتاز حضرات نے اس محفل کو زینت بخشی،میں دل کی گہرائیوں سے ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں جزاھم اللہ خیراً و احسن الجزاء۔
[8/18, 9:32 AM] Waliullah Majeed Qasmi: رپورتاژ (Reportage) تقریب رسمٍ اجراء۔

محمد صفوان اعظمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو ۔

آج بتاریخ 3 ربیع الاول ، مطابق 17/ اگست 2026ء۔ بروز سوموار بعد نماز مغرب جامعہ انوار العلوم فتح پور تال نرجا کی علمی و روحانی فضا میں ایک انتہائی زریں، تاریخ ساز اور مسرت انگیز علمی باب کا اضافہ ہوا۔
عربی کی مایہ ناز تصنیف "شخصيات الرسول” کے اردو ترجمے "سیرت رسول کے روشن پہلو” کی تقریبِ رسمِ اجراء کا شاندار انعقاد ہوا ۔یہ تقریب جامعہ اور اس سے وابستہ تمام علمی و روحانی حلقوں کے لئے باعثِ فخر و مسرت ہے۔۔
مغرب کی نماز کے بعد پروگرام شروع ہوا ٬ حسان مجید متعلم عربی سوم کی تلاوت کلام پاک سے محفل کا آغاز ہوا، اس کے بعد روح الامین متعلم عربی چہارم نے نعت نبی ﷺ سے محفل کو مشکبار کر دیا ۔
نعت کے بعد کتاب کی رونمائی ہوئی جس میں مہمان خصوصی حضرت مولانا ڈاکٹر محمد ابو اللیث صاحب سابق پروفیسر و چیئر ہولڈر اسلامک یونیورسٹی ملیشیا ٬ مولانا ضیاء الدین صاحب قاسمی ندوی ٬ مولانا ضیاء الحق صاحب قاسمی خیرآبادی٬ و حضرت مولانا ارشد فاروقی صاحب ٬ مفتی شاہنواز صاحب صدر تعلیم الدین ٬ مفتی مبشر صاحب مولانا نوشاد صاحب ٬ مولانا ابرار صاحب و مولانا کمال اختر صاحب جیسے اصحاب علم وفضل موجود رہے ۔
رسم اجراء کے بعد خطاب کے لئے مولانا ضیاء الدین صاحب قاسمی ندوی کو مدعو کیا گیا ،حضرت والا نے شاندار گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزرگوں کی بستی ہے، یہ مصلحت الامت حضرت شاہ وصی اللہ صاحب اور حضرت مولانا قاری ولی اللہ نور اللہ مرقدھما کی سرزمین ہےاور بڑی بابرکت جگہ ہے ٬ میرے لئے یہاں آنا بڑی سعادت کی بات ہے۔
اس کے بعد حضرت نے مترجم مفتی ولی اللہ مجید کی تعریف کرتے ہوے فرمایا مولانا اس دور کے زبردست محقق ، ذی استعداد اور بہترین صلاحیت کے مالک ،اخلاق و کردار کے پیکر ہیں ،مولانا علمی اور تحقیقی دنیا میں بہت مشہور و معروف ہیں جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں ۔
انھوں نے فرمایا کہ یہ کتاب (شخصيات الرسول) اصل میں عربی میں کویت کے معروف تاجر اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر علی درویش شمالی نے لکھی ہے۔
پھر سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور اس موضوع پر لکھنے کی سعادت کا تفصیل سے ذکر کیا۔
حضرت نے مولانا ولی اللہ قاسمی صاحب کی بہترین ترجمانی، روانی اور سلیس اسلوب کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ترجمہ پڑھتے ہوئے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کسی کتاب کا ترجمہ ۔
آخر میں تقریب میں موجود دیگر علمی شخصیات (مثلاً ڈاکٹر مولانا ابو اللیث خیرآبادی، مولانا مفتی ارشد صاحب فاروقی، وغیرہ) کا انھوں نے تعارف کرایا اور کتاب کی قبولیت اور مترجم کو دعا دیتے ہوئے اپنی بات ختم کی ۔
اس کے بعد علاقے کے مشہور عالم دین ٬ استاد اساتذہ مولانا ضیاء الحق صاحب قاسمی تشریف لائے خطبہ مسنونہ اور قرآنی آیت سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ تقریب رسم اجراء اور مترجم کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نیز ان کی تدریسی، تصنیفی اور تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ فقه و افتاء کے ساتھ ساتھ دیگر علمی میدانوں میں بھی ان کا قلم نہایت رواں ہے آپ جس فن پر قلم اٹھا لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہی ان کا موضوع ہے اور اسی میں ان کا اختصاص ہے ۔ آپ حضرات مولانا اعجاز صاحب اعظمی ؒ کے ان تلامذہ میں سے ہیں جن پر حضرت والا بہت اعتماد کرتے تھے۔
انھوں نے فرمایا کہ مولانا کی سیرت پر پہلی کتاب "ہادی عالم” کرونا کے دور میں لکھی گئی تھی جس کی اشاعت کی سعادت میرے حصے میں آئی اور مکتبہ ضیاء الکتب سے وہ شائع ہوئی۔ ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت بیان کرے یا سیرت نبوی کی اشاعت کے کسی بھی مرحلے میں شامل ہو جائے ٬ سیرت نبوی ایک ایسا سدا بہار موضوع ہے کہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں کوئی نا کوئی کتاب یا مقالہ اور مضمون نہ لکھا جاتا ہو ۔مولانا نے بتایا کہ اردو زبان میں اس کا علمی یا تصنیفی دورانیہ ڈیڑھ سو سال پر محیط ہے لیکن ہمارے دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمان صاحب نے اردو زبان میں سیرت کی کتابوں کا انڈیکس تیار کیا ہے جس میں دس ہزار کتابوں کا تذکرہ ہے وہ بھی جہاں تک ان کی رسائی ہو سکی اور صرف کتاب کا نام، مصنف، صفحات اور مطبع کا نام مذکور ہے ۔
​ اس کے بعد انھوں نے "سیرتِ رسول کے روشن پہلو” کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کتاب محض ایک ماہ یعنی رمضان المبارک میں مکمل کی گئی ہے اس کو توفیق الٰہی ہی کہہ سکتے ہیں ۔ اس کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے دس مختلف پہلوؤں جیسے بحیثیت انسان، شوہر، تاجر، والد، دوست، معلم و مربی، اور سپہ سالار و حکمران کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔۔
پھر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس نئی کتاب کو بھی پہلی کتاب ہادئ عالم طرح مقبولیتِ عامہ عطا فرمائے۔۔آمین۔
اس کے بعد آخر میں مشہور عالم دین، ڈاکٹر، مولانا محمد ابو اللیث صاحب خیرآبادی کو مدعو کیا گیا۔
حمد و صلاۃ کے بعد حضرت والا نے فرمایا کہ اس وقت ہم مفتی ولی اللہ مجید قاسمی (حفظہ اللہ) کی کتاب ”سیرتِ رسول کے روشن پہلو“ کی رسمِ اجراء کی مناسبت سے یہاں حاضر ہوئے ہیں۔ مترجم سے میں پہلے واقف نہیں تھا، ہوسکتا ہے کہ وہ مجھے جانتے ہوں ، لیکن آج سے دو تین روز پہلے حاجی بابو نے تذکرہ کیا اور ان کی بعض تصنیفات کا انہوں نے ذکر کیا، تو مجھے بھی شوق پیدا ہوا کہ اس تقریب میں شریک ہونا چاہئے۔
​اور پھر انھوں نے مجھے مدعو کیا، تو میں سب سے پہلے ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں ان کی اس مبارک تقریب میں حاضر ہوں۔
حضرت والا نے فرمایا کہ کتاب کے نام کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول تو ایک ہی تھے، تو ”شخصیات“ کیسے ہوئے؟فرمایا
​تو یہ درحقیقت نبی کریم ﷺ ذات واحد میں مختلف شخصیات جلوہ گر تھیں ،وہ تمام انبیاء کی صفات کے حامل تھے۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق قرآن حکیم میں کہا گیا ہے : اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا۔
حضرت ابراہیم تو اکیلے تھے لیکن ان کو ‘امت’ کہا گیا۔ کیونکہ بہت سارے لوگوں کا کام اگر ایک آدمی کرتا ہے، تو گویا کہ اس کی ذات میں پوری ایک امت اور جماعت موجود ہوتی ہے اور وہ ایک عالمگیر شخصیت بن جاتی ہے۔
​ اس کتاب کی فہرست کے مطالعہ سے مجھے اس کی اہمیت کا احساس ہوا ۔درحقیقت مجھے اس طرح کی کتاب کی ضرورت تھی۔ کیونکہ میں نے جب اپنی کتاب ”اتجاہات فی دراسات السنہ“ لکھی، تو اس میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی مختلف حیثیات کا تذکرہ کیا ہے کہ آپ کی ایک حیثث انسان ہونے کی ،ایک حیثث نبی ہونے کی، ایک حیثث قاضی اور حاکم وغیرہ ہونے کی ہے اور ان حیثیات سے آپ کے افعال اور آپ کے اقوال کی حیثیت متعین ہوتی ہے۔میں اپنی مذکورہ کتاب کے آیندہ ایڈیشن میں اس کتاب کی روشنی میں اضافہ کرونگا ۔
​حضرت نے بڑی اہم گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ "سنت تشریعیہ ہوتی ہے اور غیر تشریعیہ ہوتی ہے۔
یہ غلط ہے ؛ ​کیونکہ سنت ٬جسے ہم لوگ تشریع کا ایک مصدر مانتے ہیں وہ صرف تشریعی ہوتی ہے کیونکہ اس سے احکام خمسہ یعنی واجب ،سنت، مباح ،حرام اور مکروہ اخذ کئے جاتے ہیں اور جس سے یہ احکام مستنبط نہ ہوں وہ سنت نہیں بلکہ حدیث ہے ۔
لہذا ​حدیث تو ہر اس شے کو کہا جائے گا جو نبی کریم ﷺ کی ذات سے متعلق ہو، چاہے آپ کے بال، آپ کا چہرہ، آپ کا قد، آپ کی ولادت باسعادت یا حلیمہ سعدیہ کے یہاں رضاعت کا تذکرہ ہو ٬ یہ ساری چیزیں حدیث میں آئیں گی۔​لیکن سنت سے صرف وہ احادیث آئیں گی جن سے پانچ احکامِ شرعیہ میں سے کوئی ایک ثابت ہوتا ہو ۔جس حدیث سے بھی ان پانچوں میں سے کوئی ایک ثابت ہوتا ہو، تو اسے ہم سنت کہتے ہیں۔ تو جو سنت ہے، وہ تو غیر تشریعی ہو ہی نہیں سکتی! جب ہوگی تو تشریعی ہوگی۔
​حدیث کو آپ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ وہ احادیث جن کا تعلق آپ کی خلقت سے ہے، آپ کی صورت سے ہے، تو وہ تو تشریعی نہیں ہوگی۔ جیسے کہ آپ کا قد—ظاہر ہے کہ میں آپ کے قد کی کیسے اتباع کر سکتا ہوں؟ آپ کے بال گھنگھریالے تھے، یا آپ کا رنگ گورا تھا، گندمی تھا، تو میں اپنے کو کیسے اس میں رنگ میں ڈھال سکتا ہوں ؟ تو نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس یعنی آپ کی خلقت سے جو چیزیں متعلق ہیں، وہ حدیث تو ہیں لیکن وہ سنت نہیں ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس سے کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا۔
​ میں نے اس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ جو لوگ یہ ‘سنت تشریعی’ اور ‘غیر تشریعی’ کہتے ہیں، تو ان کو مغالطہ ہے۔ سنت کی تعریف میں تو وہ سنت وہ لیتے ہیں جو اصولِ فقہ میں کی جاتی ہے، اور غیر تشریعی میں مثال وہ لاتے ہیں جو حدیث کی ہے۔ یہ لوگ وہ خلطِ مبحث میں مبتلا ہیں۔
​ اس سلسلے میں میں نے بہت ساری کتابوں کا مطالعہ کیا جس سے مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی حیثیات بہت ہیں۔ تو یہ کتاب مجھے اس لیے اچھی لگی کہ اس میں دس حیثیات نبی کریم ﷺ کی بیان کی گئی ہیں اور یہ دسیوں حیثیات بے انتہا عظیم ہیں— اور ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ہر شے عظیم تھی—لیکن ان میں جو سب سے پہلی حیثیت متعین کی گئی ہے، جو حقیقت میں جاذبِ نظر ہے…… اگر کوئی مشرک یا کوئی یہودی یا مسیحی انصاف کی نظر سے اگر دیکھے گا، تو اس کو یہ سمجھ میں آئے گا کہ نبی کریم ﷺ بحیثیتِ انسان کیسے تھے۔
​ اس کتاب میں اس حیثیت کو سب سے پہلے ظاہر کیا گیا ہے، اور جو میرے لیے بہت ہی سبق آموز شے ہے۔
​اور چیزیں—آپ کیسے باپ تھے؟ کیسے شوہر تھے؟ کیسے حاکم تھے؟ وغیرہ وغیرہ—یہ تو چیزیں سب جگہ ملتی ہیں۔ لیکن بحیثیتِ انسان اس انداز سے جو یہاں پر ذکر کیا گیا ہے، مجھے نہیں ملتا۔
​مولانا حقیقت میں قابلِ شکر ہیں اور ان کا ایک عظیم احسان ہے اردو زبان پر اور مسلمانوں پر کہ انہوں نے ”شخصیاتِ رسول“، جو ڈاکٹر علی درویش الشمالی کی کتاب کا ترجمہ کیا۔
​یقیناً مولانا ولی اللہ صاحب نے اور بھی کتابیں سیرت پر پڑھی ہوں گی، لیکن انہوں نے انتخاب اس کتاب کا کیا۔ اس کتاب کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ مولانا ولی اللہ صاحب ہر رطب و یابس کو لینے والے انسان نہیں ہیں ۔۔
پھر مولانا نے اپنی تدریسی و تعلیمی زندگی پر روشنی پر نظر ڈالتے ہوئے فرمایا کہ
میں چار سال مدینہ منورہ میں تخصص فی الحدیث کا طالب علم رہا، پھر ایم اے کیا ۔اس پوری مدت میں حدیث پر ہی لکھتا اور پڑھتا رہا، اور پانچ سال مکہ مکرمہ ہی میں پی ایچ ڈی بھی کی، اور 34 سال سے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا میں اسسٹنٹ پروفیسر، پھر فل پروفیسر، پھر چیئر ہولڈر…یہ سب کچھ کے باوجود،میری ہر تحریر آپ کو حدیث میں ملے گی، لیکن ان سب کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے ۔
​حضرت والا نے فرمایا کہ میں ایک عادت بنا رکھی ہے کہ روزانہ 50 صفحے مجھ کو پڑھنا ہے، کسی بھی حالت میں مجھ کو پڑھنا ہے۔ اور عموما میری مصروفیت عربی کتابوں سے رہی ہے، اردو زبان سے میرا بہت کم لگاؤ ہے۔
​آخر میں بچوں کو نصیحت کرتے ہوے فرمایا اگر آپ بھی یہاں پر موجود علمائے کرام کی طرح بننا چاہتے ہیں، تو آپ دن رات محنت کیجیے اور نیت صاف رکھیے۔​مقصد یہ ہو کہ ہم اللہ کے دین کی خدمت کریں گے، اور جتنے اچھے عالم ہم بنیں گے، اتنی ہی اچھی طریقہ سے ہم اس کی خدمت کر سکیں گے۔ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ آپ دینی تعلیم حاصل کریں اور اس کے بعد دنیاکمانے میں لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے