بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(59) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
66-سود کا مصرف
سود ، جوا، رشوت اور حرام و باطل طریقے سے حاصل کردہ مال کا مصرف تین ہیں:مالک کو واپس کرنا ،ثواب کی امید کے بغیر صدقہ کرنا اور رفاہی کاموں میں خرچ کرنا۔
1-سود اور باطل ذریعے سے کسی کے مال کو حاصل کرنے والا اس کا مالک نہیں ہوتا ہے بلکہ اس پر اصل مالک کی ملکیت برقرار رہتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ جس سے وہ مال لیا گیا ہے اسے واپس کردیا جائے لیکن بینک وغیرہ سے حاصل ہونے والے سود کو اس میں چھوڑا نہ جائے؛کیونکہ اسے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَo فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَo
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی (کسی کے ذمے) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔ اور اگر تم (سود سے) توبہ کرو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔(سورہ البقرة: 278- 279)
درج ذیل جگہوں پر سودی رقم لگانا بھی مالک کو واپس کرنے کے حکم میں داخل ہے :
1- سود کی ادائیگی میں:
مثلاً کسی مجبوری کی وجہ سے کسی نے انشورنس کرالیا ہے اور اسے جمع کردہ سے زائد رقم مل رہی ہے اور اس نے مکان وغیرہ کے لئے کسی سرکاری بینک سے قرض لے رکھا ہے جس پر وہ سود ادا کر رہا ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ انشورنس سے حاصل ہونے والے سود کو سود کی ادائیگی میں صرف کرے ۔
2-حکومت کی طرف سے عائد کردہ غیر واجبی ٹیکس میں بھی سود وغیرہ کی رقم لگائی جاسکتی ہے جیسے انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس وغیرہ ۔بشرطیکہ وہ سود کسی سرکاری بینک سے حاصل کردہ ہو ،پرائیویٹ بینک کا سود انکم ٹیکس وغیرہ میں ادا کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ جہاں سے ملا تھا وہاں پہونچانے کے حکم میں داخل نہیں ہے۔
اسی طرح سے جائز ٹیکس کی ادائیگی میں بھی حرام مال کو صرف نہیں کیا جاسکتا ہے جیسے ہاؤس ٹیکس اور بجلی اور پانی وغیرہ کا بل کیونکہ ان کا فائدہ ہمیں حاصل ہوتا ہے اور ان میں سود خرچ کرنے کا مطلب ہے خود اپنی ذات پر سودی رقم لگانا ۔
اسی طرح سے اگر مجبوراً رشوت دینا پڑے تو اس میں بھی سود وغیرہ کے مال کو صرف کرنا درست نہیں ہے کیونکہ رشوت کی رقم حکومت تک نہیں پہنچتی ہے اس لئے مالک کو واپس کرنا نہیں پایا گیا۔
2-مال حرام کو اگر اصل مالک تک لوٹانا ممکن نہ ہو پھر اسے ثواب کی نیت کے بغیر معصیت اور مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے مقصد سے غریب و نادار پر صدقہ کرنا ضروری ہے (1)
دراصل اس صورت میں وہ مال گری پڑی چیز (لقطہ)کے حکم میں آجاتا ہے اور لقطہ کے متعلق حدیث میں کہا گیا ہے:
أنَّ رَسولَ اللهِ ﷺ سُئِلَ عن اللُّقَطةِ فقال: لا تحِلُّ اللُّقَطةُ، فمَن التَقَط شيئًا فلْيُعرِّفْه سَنةً، فإن جاء صاحِبُه فلْيُؤَدِّه إليه، وإن لم يأتِ فليتصَدَّقْ به، فإن جاء فلْيُخَيِّرْه بين الأجرِ وبيْن الذي له.
رسول اللہ ﷺ سے لقطہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا لقطہ خود رکھ لینا حلال نہیں ہے . لہذا اگر کوئی شخص لقطہ اٹھا لے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے اور اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردے ورنہ تو صدقہ کرے ۔اور اگر صدقہ کے بعد اس کا مالک آئے تو اسے اختیار ہے کہ صدقہ کے ثواب پر راضی رہے یا اٹھانے والے سے اس کے بدل کا مطالبہ کرے ۔ (المعجم الأوسط للطبراني: 2208 .السنن للدارقطني:4389)
اور حضرت عمر حکم دیتے تھے کہ ایک سال تک لقطہ کا اعلان کیا جائے اور اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کا مال اسے سپرد کردیا جائے ورنہ تو صدقہ کردیا جائے اور اگر اس کے بعد مالک آجائے تو اسے اختیار دیا جائے گا ۔
(كانَ عمرُ بنُ الخطّابِ يأمرُ أن تعرَّفَ اللُّقطةُ سنةً، فإن جاءَ صاحبُها وإلّا تصُدِّقَ بِها، فإن جاءَ صاحبُها خُيِّرَ. هذا سند جليل متفق عليه إلا إبراهيم فإن مسلما انفرد به.الجوهر النقي187/6)
اس طرح کا فتوا حضرت علی،حضرت عبداللہ بن عباس،اور حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی منقول ہے (دیکھئے: اعلاء السنن 26/8)
3-رفاہی کاموں میں خرچ کرنا :
رفاہی کاموں میں سود وغیرہ کو صرف کرنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے ۔زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس مصرف میں لگانا بھی درست ہے کیونکہ مال غیر ہونے کی وجہ سے صدقہ کرنا اور بری الذمہ ہونا ضروری ہے جسے فقہاء نے واجب التصدق کہا لیکن حقیقت کے اعتبار سے اصل مالک کی طرف سے صدقہ نافلہ ہے چنانچہ اگر واپس آکر وہ اس صدقہ سے راضی نہ ہو تو اسے بدل ادا کرنا ضروری ہے اور صدقہ نافلہ میں کسی کو مالک بنانا ضروری نہیں ہے چنانچہ حکیم الامت حضرت تھانوی لکھتے ہیں:
اس قسم کا مال بحکم لقطہ ہے اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ وہ اصل مالک کی طرف سے صدقہ نافلہ ہے، اس میں تملیک ضروری نہیں ہے ۔(جدید فقہی مسائل 362/2)
لھذا سود کی رقم سے ہسپتال،پل ، سڑک اور نالی اور مسجد کا طہارت خانہ بنانے ،اور عام لوگوں کے لئے روشنی اور پانی وغیرہ کا نظم کرنے اور لائبریری کی تعمیر اور کتابوں کی فراہمی میں صرف کیا جاسکتا ہے ۔
(1)و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه.”(رد المحتار کتاب البیوع،باب البیع الفاسد ،ج:5،ص:99،سعید)
صرح الفقہاء بأن من اکتسب مالا بغیر حق(إلی قولہ) لم یملکہ ویجب علیہ أن یردہ علی مالکہ، إن وجد المالک، وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل تلک الأموال علی الفقراء۔ (بذل المجہود، کتاب الطہارۃ، باب فرض الوضوء، ط، دارالبشائر الإسلامیۃ، بیروت359/1، رقم الحدیث: 59)