بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(2) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

2-مال مملوک :

 

   مذکورہ آیت سے دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بیع کے جواز کے لئے مال مملوک کا ہونا ضروری ہے ۔

   اور ہر وہ چیز مال ہے جسے عرف و رواج میں مال سمجھا جاتا ہو اور اس کی خرید وفروخت ہوتی ہو الا یہ کہ شریعت نے اس سے منع کیا ہو خواہ وہ کوئی مادی چیز ہو یا غیر مادی چیز جیسے کی بجلی ،کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک وغیرہ کی خریدوفروخت۔(دیکھئے: فقہ البیوع 24/1)

   اگر کوئی چیز مال ہی نہ ہو تو اس کی بیع درست نہیں ہوگی جیسے کہ آزاد شخص، مردار جانور ،شراب اور بت کو فروخت کرنا ۔حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا:

  إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ ". …

  اللہ اور اس کے رسول نے شراب ،مردار،خنزیر اور بتوں کے بیچنے کو حرام قرار دیا ہے ۔

(صحیح بخاري 2236)

   اور اگر اس میں مالیت ہے لیکن اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو بھی اس کی بیع درست نہیں ہے . چنانچہ حدیث میں ہے :

  وَلَا بَيْعَ إِلَّا فِيمَا تَمْلِكُ ".

  خرید وفروخت صرف انہیں چیزوں میں ہے جس کے تم مالک ہو ۔( سنن أبو داؤد :2192)

  اور حضرت حکیم بن حزام سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے دریافت کیا کہ کوئی شخص میرے پاس ایسی چیز خریدنے کے لیے آتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں تو کیا میں اس کے لیے بازار سے خرید کر پھر اسے فروخت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

   لا تبع ما لیس عندک۔

  جو تمہارے پاس موجود نہیں ہے اسے فروخت نہ کرو۔(جامع ترمذی:1232)

  اور اگر ایسا مال ہے جو اصلا سب کی لئے مباح اور عام ہے اور وہ کسی خاص شخص کی ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ہر شخص کے لئے اس سے فائدہ اٹھانا جائز ہے تو اسے بھی فروخت کرنا صحیح نہیں ہے جیسے کہ سمندر میں موجود مچھلی کو بیچنا درست نہیں ہے البتہ اگر کوئی شکار کرکے بیچے تو جائز ہے کہ اب وہ اس کی ملکیت میں آگئی ہے ۔چنانچہ حدیث میں ہے :

    الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ ؛ فِي الْكَلَأِ ، وَالْمَاءِ، وَالنَّارِ۔

   مسلمانوں کے درمیان تین چیزیں مشترک ہیں:گھاس ،پانی اور آگ۔(سنن أبوداؤد: 3477)

    بیع کی حقیقت انھیں دو چیزوں سے مرکب ہے یعنی ایجاب وقبول اور مال کا ہونا ۔اگر ان دونوں میں خلل واقع ہو جائے تو بیع باطل ہوجاتی ہے جیسے کہ خرید وفروخت کرنے والوں میں سے کسی میں ایجاب و قبول کی اہلیت موجود نہیں ہے مثلاً وہ بچہ یا پاگل ہے یا فی الحال ایجاب وقبول نہ ہو بلکہ وہ کسی شرط پر معلق ہو یا آئندہ کی کسی  تاریخ میں بیع کیا جائے مثلاً کوئی کہے کہ میں اس سامان کو دو روز کے بعد اتنے میں بیچ رہا ہوں۔

    یا مبیع وثمن میں مالیت نہ ہو مثلاً مردار اور خون کی خریدوفروخت ۔

   اور اگر بیع کے مذکورہ ارکان میں کوئی خلل نہ ہو بلکہ ان کی صفات میں سے کسی صفت میں خرابی ہو تو بیع فاسد ہوتی ہے مثلاً مبیع یا ثمن میں ایسی جہالت ہے جو نزاع تک پہنچا سکتی ہے یا یہ کہ مبیع کی حوالگی پر قادر نہ ہو ۔

   بیع باطل میں سرے سے بیع کا وجود ہی نہیں ہوتا ہے اس لئے اس پر بیع کا کوئی حکم مرتب نہیں ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس بیع فاسد میں بیع کا وجود ہوجاتا ہے اس لئے اگر خریدار مبیع پر قبضہ کرلے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے البتہ اس میں خباثت اور گندگی ہوتی ہے؛ اس لئے اسے استعمال میں لے آنا جائز نہیں ہے اور دونوں کے لئے اسے ختم کرنا ضروری ہے تاہم اگر خریدار اسے کسی تیسرے کے ہاتھ فروخت کردے تو بیع نافذ ہوجائے گی البتہ اس کا نفع اس کے لئے حلال نہیں ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے