بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله( 19) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
24-کسی کی زمین زبردستی خریدنا:
راستہ ، مسجد ، ہسپتال اور عوامی ضرورت کے دیگر منصوبوں کے لئے حکومت عوام کی زمینوں کو لے سکتی ہے ۔کوشش کی جائے کہ لوگ بخوشی اپنی زمین فروخت کردیں اور اگر اس پر آمادہ نہ ہوں تو ناگزیر ضرورت و حاجت کے وقت مارکیٹ ریٹ حوالے کرکے مالک کی مرضی کے بغیر زبردستی زمین لی جاسکتی ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر کہتے ہیں کہ انھوں نے عرض کیا:
یا رسول اللَّهِ! إِنَّا نَمُرُّ بِقَوْمٍ فَلَا هُمْ يُضَيِّفُونَا، وَلَا هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ، وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا فَخُذُوا.
یارسول اللہ ﷺ ! ہم بسا اوقات کچھ لوگوں کے پاس گزرتے ہیں اور وہ نہ تو ہماری ضیافت کرتے ہیں اور نہ وہ حق ادا کرتے ہیں جو ہمارا ان پر ہے اور نہ ہم ان سے زبردستی لیتے ہیں (کیونکہ آپ نے ہمیں کسی کا مال اس کی مرضی کے بغیر لینے سے منع فرمایا ہے)ایسی حالت میں ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ بخوشی دینے سے انکار کردیں تو زبردستی (خرید کر)لے لو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام جہاد کے لیے نکلتے تھے اور کسی (غیر مسلم) قبیلے کے پاس سے گزرتے تھے لیکن وہ لوگ ان کے ہاتھ کھانے کی چیزوں کو عوض لے کر بیچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے تھے لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ بیچنے سے انکار کرتے ہیں تو تم ان سے زبردستی خرید لو۔ ایک حدیث میں اسی طرح سے اس کی وضاحت منقول ہے اور حضرت عمر سے مروی ہے کہ وہ ایسا ہی حکم دیا کرتے تھے ۔ (جامع ترمذی حدیث : 1589)
یعنی اسلامی حکومت کے زیر سایہ رہنے والے غیر مسلموں کے علاقے سے جب مسلمان فوجی دستہ گزرتا تو اس زمانے کے دستور کے مطابق وہ ان کی ضیافت نہیں کرتے بلکہ اپنی دکان بھی بند کردیتے تاکہ وہ لوگ کھانے پینے کی چیزوں کے لئے پریشان ہوں ایسے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخری تدبیر کے طور پر انسانی ضروریات کی چیزوں کو زبردستی خرید لو ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمومی ضرورت و حاجت کی وجہ سے کسی کے مال کو زبردستی لیا جا سکتا ہے چنانچہ اسی پر عمل کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق کے عہد میں لوگوں کی مرضی کے خلاف ان کی زمینیں مسجد نبوی میں شامل کی گئیں۔ (دیکھئے فقہ البیوع 227/1)
نیز فقہی ضابطہ ہے کہ عام لوگوں سے ضرر کو دور کرنے کے لئے ضرر خاص کو گوارا کیا جائے گا ۔اور قاضی خاں لکھتے ہیں:
وللسلطان ان يجعل ملك الرجل طريقا عند الحاجة.
حکمراں کے لئے جائز ہے کہ وہ حاجت کے وقت کسی شخص کی ملکیتی زمین کو راستہ بنادے ۔( فتاوى قاضي خان 236/1)