بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(20) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
25-حقوق کی بیع :
آج بہت سے حقوق مال و دولت اور قیمتی سرمایہ کی حیثیت سے معروف ہیں اور ان کی خریدوفروخت ہوتی ہے جب کہ ماضی میں اس کا کوئی تصور نہیں تھا جیسے کہ ٹریڈ مارک ،تجارتی لائسنس اور کاپی رائٹ وغیرہ ۔اور کسی چیز کے مال اور باقیمت ہونے کے سلسلے میں عرف و رواج کا بڑا دخل ہے چنانچہ علامہ شامی لکھتے ہیں کہ مالیت لوگوں کے اسے مال بنانے سے ثابت ہوجاتی ہے .(فقہ البیوع 266/1)
26-ٹریڈ مارک:
اگر کسی تجارتی علامت یا نام سے کاروبار چل نکلے تو لوگ اس کی شہرت اور نیک نامی کی وجہ سے خریداری کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ نام یا علامت اچھی کوالٹی کی ضمانت ہوتی ہے ۔اور پھر دوسرے لوگ اس کی نقالی بھی کرنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے خریدار دھوکہ دہی کا شکار ہوجاتا ہے اس لئے حکومت کی طرف سے اس کے رجسٹریشن کے لئے کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس طرح کے احکام سے شریعت کے مقصد کی تکمیل ہوتی ہے کیونکہ کہ عوام کو دھوکا دہی سے بچانا شریعت میں مطلوب ہے اور اس نام کو محفوظ کرانے کے بعد دوسرے کے لئے اس کا استعمال کرنا جعل سازی کی وجہ سے ناجائز ہے ۔چنانچہ حدیث میں ہے :
من غشَّنا فليس منّا، والمكرُ والخداعُ في النَّارِ.
جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔اور مکاری و چالبازی کی سزا جہنم ہے ۔
(صحيح ابن حبان: 5559)
اور رجسٹریشن کے بعد کسی دوسرے کے لئے اس نام یا علامت کا استعمال قانوناً جرم شمار ہوتا ہے اور مارکٹ میں اچھی شہرت ہونے کی وجہ سے مادی چیز کی طرح اس کا ایک ویلو اور قیمت ہوتی ہے ۔
اور چونکہ رجسٹریشن کے لئے تگ و دو کرنا ہوتا ہے اور فیس کے طور پر رقم خرچ کی جاتی ہے اور اس کے بعد ایک تحریری سرٹیفکیٹ جاری کی جاتی ہے اور عرفی و قانونی اعتبار سے وہ مال شمار ہوتا ہے اس لئے اسے فروخت کرنا جائز ہے ۔ چنانچہ
حکیم الامت حضرت تھانوى لکھتے ہیں:
’’اپنے کاروبار کے کوئی نام رکھنے کا ہر شخص کو حق حاصل ہے ،لیکن اگر ایک شخص نے اپنے کاروبار کا نام ’’عطرستان‘‘ یا’’گلشن ادب ‘‘ رکھ لیااور اس سے اس کا تجارتی مفاد وابستہ ہوگیا تو دوسرے شخص کو وہ نام رکھنے کاحق نہیں رہا اور جبکہ ایک خاص نام کے ساتھ مستقبل میں تحصیل مال اور تجارتی منافع مقصود ہے تو گڈول کامعاوضہ لیناجائز ہے۔‘‘ (امداد الفتاویٰ 120/3)