بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(21) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

27-تجارتی لائسنس کی خرید وفروخت:

 

    موجودہ دور میں بعض چیزوں کی تجارت کے لئے لائسنس جاری کیا جاتا ہے اور اس کے بغیر اس کی تجارت قانوناً جرم شمار ہوتی ہے ۔

    اسی طرح سے ایکسپورٹ امپورٹ کے لئے بھی لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر مال درآمد یا برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے ۔

   اس طرح کے لائسنس کی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ حکومت کی طرف سے اس کی فروختگی کی اجازت ہوتی ہے اور ہر وہ شخص اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کے پاس وہ لائسنس موجود ہو ۔

   دوسری قسم وہ ہے جس سے صرف متعین شخص ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے دوسرے کی طرف منتقلی کی قانونی اجازت نہیں ہوتی ہے جیسے کہ فارمیسی لائسنس جس کے لئے ایک متعین تعلیمی کورس مکمل کرنا ضروری ہوتا ۔

   اس طرح کے لائسنس کو فروخت کرنا یا اسے اجارہ پر دینا درست نہیں ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے محض ایک تصدیق نامہ ہے جو کسی شخص یا ادارے کی صلاحیت دیکھ کر دی جاتی ہے ، وہ کوئی مال نہیں ہے لہٰذا اس کی خرید و فروخت باطل ہے۔

    اور دوسرے شخص کے لئے استعمال کرنے میں دھوکہ اور غلط بیانی بھی ہے جس سے شریعت میں سختی سے منع کیا گیا ہے ، نیز اس میں مفاد عامہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ اور مفاد عامہ کے لئے حکومت کی طرف سے لگائی گئی جائز پابندی کی پاس داری شرعاً لازم ہوتی ہے۔

    پہلی قسم کے لائسنس کی خرید و فروخت درست ہے کیونکہ تاجروں کے عرف میں اس کی حیثیت ایک قیمتی مال جیسی ہے  اور اس کے حصول کے لئے جد وجہد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور سرمایہ خرچ کرنا ہوتا ہے جس کے بعد تحریری سرٹیفکیٹ جاری کی جاتی ہے لہذا مادی چیز کی طرح وہ ایک مال شمار ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے