بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(48) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

55- اضافی رقم اور سود کی بغیر قسطوں میں خریداری(No-Cost EMI):

 

     خرید وفروخت کے اس طریقے میں بظاھر

 گاہک سے کوئی اضافی رقم یا سود نہیں لی جاتی بلکہ نقد اور ادھار کی قیمت ایک ہی رہتی ہے اور پروڈکٹ کی اصل قیمت ہی قسطوں میں تقسیم ہوتی ہے اور قسطوں پر خریداری کی وجہ سے کوئی اضافی رقم نہیں دینی ہوتی ہے۔

  یہ سودا  بینک کے ذریعے ہوتا ہے ،اور انہیں لوگوں کو یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے جن کے پاس کریڈٹ کارڈ موجود ہو اور انہی سامانوں کی خریداری کی جاسکتی ہے جن کے بارے میں بینک اور کمپنی کی صراحت ہوتی ہے ، ہر چیز کی خریداری میں اس طرح کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی ہے۔ اور اس میں بینک کی طرف سے یہ شرط بھی رکھی جاتی ہے کہ قسط کی ادائیگی کے تاخیر ہونے کی صورت میں تاخیر کا جرمانہ (penalty) وصول کیا جائے گا۔

   طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر کسی سامان کو خریدنا چاہتا ہے تو کریڈٹ کارڈ کے ذریعے وہ قیمت کی ادائیگی بینک کے حوالے کردیتا اور بینک وہ رقم ایک مشت کمپنی یا تاجر کو ادا کر دیتا ہے اور پھر خریدار سے قسط وار اصول کرتا ہے اور قسطوں کی مجموعی رقم اتنی ہی ہوتی ہے جو خریدار نے بینک کے حوالے کیا تھا ۔

   اس میں بینک تین طرح سے فائدہ اور نفع حاصل کرتا ہے :

1-سبونشن(sabvention)ماڈل: اس میں کمپنی یا تاجر اپنی طرف سے بینک کو سود ادا کرتا ہے ۔

2-ڈسکاؤنٹ ایڈجسٹمنٹ ماڈل: اس میں کمپنی سامان کی قیمت میں اتنی کمی کردی ہے کہ بینک کی طرف سے سود لگانے کے بعد اصل قیمت بحال ہوجائے ۔مثلا سامان کی اصل قیمت بیس ہزار ہے لیکن کمپنی نے اسے بینک کو انیس ہزار میں دیتی ہے اور بینک اس میں سود لگا کر بیس ہزار وصول کرلیتا ہے ۔

3-پروسیسنگ فیس :اس میں خریدار سے سروس چارج وغیرہ کے نام پر بینک فیس وصول کرتا ۔

    فقہی اعتبار سے یہ قرض اور حوالہ کا معاملہ ہے یعنی گراہک سامان خرید کر تاجر کا مقروض ہوجاتا اور اس قرض کی ادائیگی بینک کے حوالے کردیتا ہے اور بینک یا فینانس کمپنی خریدار اور مقروض سے کوئی اضافی رقم وصول نہیں کرتی ہے بلکہ تاجر سے وصول کرتی ہے اور تاجر اس کا مقروض نہیں ہے اور خریدار کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے اس لئے یہ سودی معاملہ نہیں ہے کیونکہ سود  براہ راست مقروض سے مشروط اضافہ حاصل کرنے کا نام ہے ۔

   نیز بینک بعض خدمات اور سروس کی فراہم کرتا ہے مثلاً  اس کے لئے تاجر کو مشین اور معاملہ کا فارم اور کاغذات مہیا کرتا ہے اور تاجر یا اس کے کارکنوں کو فینانس کمپنی کی طرف سے اس کام کی ٹریننگ دی جاتی ہے اس لئے تاجر سے لی گئی اضافی رقم کو ان خدمات کا معاوضہ کہا جاسکتا ہے۔

   رہا وقت پر قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں جرمانا یا سود لینے کی شرط تو اس طرح کی شرطیں الکڑک بل وغیرہ کی ادائیگی میں بھی ہوتی ہیں لہذا ابتلاء عام کی وجہ سے اس طرح کی شرطوں کی وجہ سے معاملہ فاسد نہیں ہوگا البتہ پوری کوشش ہونی چاہئے کہ وقت پر قسط ادا کردے تاکہ پلانٹی ادا کرنے کی نوبت نہ آئے ۔(دیکھئے فقہ البیوع 449/1)

    ادارہ مباحث فقہیہ جمعیت علماء ہند نے بیسویں سیمنار میں یہ قرار داد پاس کی ہے :

    "نو کاسٹ ای ایم ائی کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کی اس وقت گنجائش ہے جبکہ اطمینان ہو کہ وقت پر قسطیں ادا کر دی جائیں گی البتہ پروسیسنگ فیس لینے کی صورت میں جواز اس شرط کے ساتھ مقید ہوگا کہ وہ فیس متعین اور واقعی ہو”۔  (حاشیہ)اگر پروسیسنگ فیس واقعی دستاویز ،جانچ، انتظام ،یا حقیقی سروس کے اخراجات کے لیے متعین حقیقی رقم ہو، قرض کی رقم یا مدت کے تناسب سے اضافی نفع نہ ہو تو اسے اجرت خدمت کی حیثیت دی جا سکتی ہے۔(دیکھیے فقہی اجتماعات کے مدلل فیصلے و تجاویز/369)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے