بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله( 17) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
21-بیعانہ (Advance Payment/Earnest Money ):
خریداری کے سلسلے میں سنجیدگی کے اظہار اور ضمانت کے طور پر فروخت کنندہ کو پیشگی ادا کی جانے والی رقم بیعانہ کہلاتی ہے۔
اگر معاملہ مکمل ہوجائے تو یہ رقم ثمن میں شمار کرلی جاتی ہے اور اگر خریدار انکار کردے تو وہ رقم بیچنے والے کی ہوجاتی ہے ۔
اس کی دو صورت ہے :
1-سودا طے ہوجائے البتہ خریدار نے خیار شرط (بیع کینسل کرنے کے آپشن) کے ساتھ معاملہ کیا ہے ۔عربی زبان میں اس صورت کو عربون یا عربان کہا جاتا ہے ۔
حنفیہ ،مالکیہ ، شافعیہ اور حنابلہ میں سے ابو الخطاب اس بات کے قائل ہیں کہ بیع ختم کرنے کی شکل میں بیچنے والے کے لئے بیعانہ واپس کرنا ضروری ہے اور اس کا ضبط کرلینا اور واپس نہ کرنا جائز نہیں ہے، اگرچہ خریدار کی طرف سے اس کی واپسی کامطالبہ نہ ہو ۔چنانچہ عمرو بن شعیب کی سند سے منقول حدیث میں ہے :
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان.
رسول اللہ ﷺ نے بیع عربان سے منع فرمایا ہے ۔(موطا مالك:541)
علامہ احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔(دیکھئے مسند احمد ت ۔احمد شاکر 268/6.رقم الحدیث 6723)
اور علامہ شوکانی کہتے ہیں کہ حدیث گرچہ ضعیف ہے مگر متعدد سندوں سے منقول ہونے کی وجہ سے اس میں قوت آجاتی ہے نیز اس حدیث سے ممانعت ثابت ہوتی ہے اور ممانعت کو جواز پر ترجیح دی جاتی ہے ۔(عون المعبود۔رقم الحدیث :3502)
غرضیکہ اگر حدیث کو ضعیف مان لیا جائے تو بھی اصولی اعتبار سے بیعانہ ضبط کرنا کسی بھی طور پر درست نہیں ہے بلکہ غلط شرط کے ذریعے باطل طریقے پر دوسرے کے مال کو ہڑپنا ہے اور یہ ایک طرح سے قمار اور جوا ہے۔ (دیکھئے حجۃ اللہ البالغہ 167/2)
اس کے برخلاف امام احمد کے نزدیک اس صورت میں بیعانہ کی رقم کو ضبط کرلینا درست ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ
سئل رسول الله عن العربان في البيع فاحله.(مصنف عبد الرزاق. ضعيف مع إرساله۔ التلخيص الحبير968/3 . اعلاء السنن 147/14)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عربان کے بارے میں پوچھا گیا اپ نے اسے جائز قرار دیا۔
یہ حدیث مرسل ہے اور اسی کے ساتھ اس کا ایک راوی ابراہیم بن ابو یحییٰ ضعیف ہے ۔
چنانچہ علامہ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ عربون کے جواز کی روایت صحیح نہیں ہے اور اگر صحیح تسلیم کرلیا جائے تو مطلب صرف یہ ہے کہ بیع مکمل ہونے کی صورت میں اسے ثمن کا حصہ مان لیا جائے گا اور یہ سب کے نزدیک جائز ہے ۔(عون المعبود ۔رقم الحدیث :3502)
2- سودا طے نہیں ہوا بلکہ ابھی صرف وعدہ کے مرحلے میں ہے اور خریداری کے سلسلے میں خریدار کی سنجیدگی جاننے کے لئے ضمانت کے طور پر بائع کچھ پیشگی رقم کا مطالبہ کرے کہ معاملہ طے پاجانے کی صورت میں وہ ثمن کا حصہ ہوگا ورنہ تو بائع اس کا مالک ہوجائے گا ۔
یہ رقم بائع کے قبضے میں ایک امانت ہے اور معاملہ طے نہ پانے کی شکل میں اسے واپس کرنا ضروری ہے ۔اور اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے یہاں تک کہ امام احمد بھی اس صورت میں اس کی واپسی کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔
البتہ اگر بائع کے پاس وہ سامان پہلے سے موجود نہ ہو بلکہ اس نے اس کے آڈر کے بعد دوسرے سے خرید کر فراہم کیا ہے تو معاملہ طے نہ پانے کی صورت میں حقیقی نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرسکتا ہے مثلاً فراہم کردہ سامان پر اس کا پانچ سو روپیہ خرچ ہوا ہے اور خریدار کے انکار کے بعد اسے ساڑھے چار سو میں فروخت کرنا پڑا تو وہ پچاس روپیہ بیعانہ میں سے لے سکتا ہے ۔