بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله( 16) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

19-سامان کی فراہمی کا معاہدہ(Supply Contract):

     سپر مارکیٹ یا ہوٹل وغیرہ کو ہر روز مثلاً بعض غذائی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے دودھ ،سبزی اور مٹھائی وغیرہ ۔اس کے لئے وہ کسی سے معاہدہ کرتے ہیں اور مطلوبہ چیزوں کی جنس ،نوعیت، کوالٹی اور قیمت وغیرہ طے کردی جاتی ہے ۔

    ظاہر ہے کہ یہ مستقبل کی بیع ہے جب کہ بیع کے جواز کے لئے فی الحال ایجاب و قبول ضروری ہے نیز اس طرح کے معاہدات میں معاملہ کرنے کے وقت وہ چیز غیر موجود ہوتی ہے یا بیچنے والے کے قبضہ میں نہیں ہوتی ہے؛ اس لئے اسے بیع نہیں قرار دیا جاسکتا ہے ،البتہ اگر پوری قیمت پیشگی ادا کردی جائے اور سلم کی دیگر شرطیں موجود ہوں تو اسے بیع سلم کہا جائے گا اور اگر بنانے والی چیز ہو تو استصناع قرار دے کر اسے جائز کہا جاسکتا ہے لیکن اگر مذکورہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو اسے بیع کا وعدہ قرار دیا جائے گا اور بیع روزانہ اس وقت منعقد ہوگی جب سامان حوالے کردیا جائے ۔

   اور دونوں فریق پر وعدہ کی پابندی ضروری ہوگی اور وعدہ پورا نہ کرنے کی صورت میں دوسرے فریق کو پہنچنے والے واقعی نقصان کی تلافی کرنی ہوگی ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

   *یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ۔

   اے ایمان والو ! معاہدوں کو پورا کرو۔(سورہ المائدہ :1)

  *وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ  الۡعَہۡدَ  کَانَ  مَسۡـُٔوۡلًا۔             اورعہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) باز پرس ہونے والی ہے۔(سورہ الاسراء:34)

    *یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا  لِمَ  تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا  تَفۡعَلُوۡنَ. کَبُرَ  مَقۡتًا عِنۡدَ  اللّٰہِ  اَنۡ  تَقُوۡلُوۡا مَا  لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۔

   اے ایمان والو ! تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟اللہ کے نزدیک یہ بات بڑی قابل نفرت ہے کہ تم ایسی بات کہو جو کرو نہیں۔(سورہ الصّف : 2-3)

   امام جصاص رازی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

     یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اپنے اوپر کسی عبادت یا نیکی کے کام کو لازم  یا اپنے اوپر کسی عقد کو واجب کر لے تو اس کی پابندی ضروری ہے ؛ اس لئے کہ پابندی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسی بات کہہ رہا ہے جس پر  وہ خود عمل نہیں کر رہا ہے اور اللہ تبارک و تعالی نے ایسا کرنے والے کی مذمت بیان فرمائی ہے۔(احکام القران 442/3)

  عہد اور وعدے کی پابندی اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے چنانچہ رومی بادشاہ ہرقل نے حضرت ابو سفیان سے پوچھا جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے :

    فَمَاذَا يَأْمُرُكُمْ ؟

   وہ نبی تمہیں کیا حکم دیتا ہے ؟

حضرت ابو سفیان نے کہا:

   يَأْمُرُنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَيَنْهَانَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا، وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ، وَالصَّدَقَةِ، وَالْعَفَافِ، وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ ۔

   وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ صرف اللہ واحد کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔اور ہمارے باپ دادا جن چیزوں کی عبادت کیا کرتے تھے ان سے وہ منع کرتا ہے اور ہمیں نماز پڑھنے ،صدقہ و خیرات کرنے ،پاکدامنی اختیار کرنے ،عہد پورا کرنے اور امانت ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔(صحیح بخاری: 2940)

    اور حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

   آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ .

  منافق کی تین نشانی ہے :جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح بخاري: 33)

   اور حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ ہمارے سامنے جب بھی تقریر کرتے تو فرماتے:

    لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ.

  اس شخص کا ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں،اور اس شخص کا دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں ۔(مسند احمد: 12383)

   مذکورہ آیات و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد و پیمان اور وعدہ کی پابندی ضروری ہے  الا یہ کہ کوئی حقیقی عذر موجود ہو البتہ یہ قاضی کے دائرہ کار میں داخل نہیں ہے الا یہ کہ اس وعدے کی وجہ سے دوسرے فریق کا مالی خسارہ ہوجائے تو ایسی حالت میں قاضی دخل اندازی کرسکتا ہے مثلاً کوئی شخص کسی ایسے  سامان کا آڈر کرے جس کے خریدار بہت کم آتے ہیں اور وہ اس کے لئے اسے خرید لے۔ ایسی حالت میں اگر خریداری کا وعدہ کرنے والا اسے نہ خریدے تو تاجر کا بڑا نقصان ہوگا۔ غرضیکہ لوگوں کی حقیقی حاجت کی وجہ سے اس طرح کے مواقع پر وعدہ کو لازمی قرار دینا ضروری ہے ورنہ تو کوئی تاجر سامان وغیرہ فراہم کرنے کی ذمہ داری نہیں لے گا ۔قاضی خاں لکھتے ہیں :

  لان المواعدة قد تكون لازمة فتجعل لازمة لحاجة الناس۔

   وعدہ نبھانا کبھی ضروری ہوجاتا ہے ۔لہذا لوگوں کی حاجت کی وجہ سے وعدہ پورا کرنا لازم قرار دیا جائے گا ۔(فتاوى قاضي خان بهامش الهنديه 165/2. نیز دیکھئے رد المحتار 84/5)

   اور فتح محمد تائب لکھتے ہیں کہ کسی چیز کے بیچنے یا خریدنے کا وعدہ قضاء لازم ہے ۔(عطر ہدایہ/110۔مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: فقہ البیوع 80/1)

 

20-آن لائن خریداری اور آڈر لینا:

 

  آڈر لینا بھی بیع نہیں بلکہ بیع کا وعدہ ہے اور آڈر دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے آڈر کے مطابق جو سامان بھیجا جائے اسے ضرور وصول کرے ۔

  اسی طرح سے ایمزون اور فلپ کارٹ وغیرہ جیسی آن لائن تجارت کی ویب سائٹ پر جن چیزوں کی تصاویر اور تفصیلات درج ہوتی ہیں وہ ساری چیزیں ان کے پاس موجود نہیں ہوتی ہیں بلکہ دوسری کمپنیوں اور دکانوں سے ان کا معاہدہ ہوتا ہے اور آڈر بک کرنے کے بعد ایڈریس وغیرہ کی تفصیلات ان کمپنیوں کو فراہم کردی جاتی ہیں اور وہ براہ راست اسے گراہک کے پتے پر بھیج دیتی ہیں ۔

نیز eBy جیسی ویب سائٹ پر موجود آن لائن اسٹور کا بھی یہی حال ہے ۔

   اس لئے ان سب کے جواز کی یہی شکل ہے کہ اسے وعدہ بیع قرار دیا جائے اور حقیقتا بیع اس وقت منعقد ہوگی جب سامان گراہک کے پاس پہنچ جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے