بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

سلسله(1) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

خرید وفروخت کے اصول وضوابط

کسب معاش کے طریقوں میں سے ایک بہترین ذریعہ تجارت ہے،رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ افضل کمائی کیا ہے تو فرمایا: گناہ سے پاک خرید وفروخت اور ہاتھ کی کمائی ۔(سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَفْضَلِ الْكَسْبِ ؟ فَقَالَ : ” بَيْعٌ مَبْرُورٌ، وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ "مسند احمد:15836)
اور حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ۔
سچا اور امانت دار تاجر نبیوں ،صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا ۔ (جامع ترمذی: 1209)

1-باہمی رضامندی:

انتقال ملکیت کے اسباب میں سے ایک سبب خرید وفروخت ہے ۔ اور اس کے ذریعے کسی کی ملکیت دوسرے کی طرف منتقل ہونے کے لئے ضروری ہے وہ اس معاملے سے راضی ہو چنانچہ قرآن پاک میں کہا گیا ہے :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجَارَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمۡ ۟ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا۔
اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، الا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضا مندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔ (سورہ النسآء: 29)
اور حدیث میں ہے :
أَلا لا تَظْلِموا، أَلا لا يَحِلُّ مالُ امرِىءٍ إلا بِطِيبِ نفسٍ منه۔
سنو! ظلم مت کرو ۔سنو! کسی انسان کا مال اس کی خوش دلی کے بغیر حلال نہیں ہے۔
(مسند أحمد:23605 .ابو یعلی :1570)
اور حضرت ابوھریرہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لايتفرقن عن بيع الا ان تراض.
رضامندی کے بغیر کوئی خریدوفروخت کے معاملے کو طے نہ کرے۔(جامع ترمذي :1248)
خريد و فروخت سے متعلق زیادہ تر احکام مذکورہ آیت و روایت سے ماخوذ ہیں جیسے کہ فروخت کردہ (مبیع)اور اس کے عوض (ثمن)کا معلوم و متعین ہونا اور اگر ادھار معاملہ ہے تو ادائیگی کے وقت کا متعین و معلوم ہونا ؛کیونکہ مجہول اور نامعلوم ہونے کی وجہ سے اس کی تعیین میں اختلاف اور نزاع ہوگا اور خوش دلی نہیں پائی جائے گی۔چنانچہ حدیث میں ہے :
نہی رسول اللہ ﷺ عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر۔
رسول اللہ ﷺ نے کنکری اور دھوکہ کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔(صحیح مسلم :3783)
علامہ ابن اثیر نے اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کہے کہ کنکر پھینکو جس سامان پر تمہارا کنکر جاکر گرے گا وہ میں تمھیں بیچ رہا ہوں۔(جامع الاصول 528/1)
یعنی بیع کی اس شکل میں سامان کی جنس مجہول ہے ۔
اسی طرح سے مذکورہ حدیث میں دھوکہ کی بیع سے منع کیا گیا ہے اور ثمن مجہول ہونے میں بھی ایک طرح سے دھوکہ ہے۔ نیز ایک دوسری حدیث میں ہے :
ان النبي نهى عن بيعتين في بيعة.
نبی کریم ﷺ نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع کیا ہے ۔(سنن النسائي: 4636.جامع ترمذي:1231)
ایک بیع میں دو بیع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والا کہے کہ میں تمہیں یہ کپڑا نقد سو روپیہ میں اور ادھار ایک سو پچاس روپے میں فروخت کر رہا ہوں اور نقد و ادھار میں سے کسی ایک کو طے کئے بغیر معاملہ کو مکمل کرلیا جائے ۔لیکن اگر کوئی ایک طے ہونے کے بعد معاملہ مکمل ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
اس صورت میں بیع کے فاسد ہونے کی وجہ ثمن میں تردد ہے کہ معاملہ کرنے والوں نے کسی ایک ثمن کو بیع کے وقت طے نہیں کیا ہے۔
اور حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:
أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ، وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا.
رسول اللہ ﷺ نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اس کا پس منظر یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اونٹ خریدتے اور کہتے کہ اس کا ثمن اس وقت ادا کریں گے جب اونٹنی کو بچہ پیدا ہوجائے اور پھر اس پیدا شدہ کو بچہ پیدا ہوجائے۔(صحیح بخاري: 2143)
یعنی اس معاملے کے ناجائز ہونے کی وجہ ثمن کی ادائیگی کی مدت کا مجہول ہونا ہے ۔
اور اسی بنیاد پر خرید وفروخت کی وہ تمام شکلیں ناجائز ہیں جن میں ایسی مجھولیت اور ناواقفیت پائی جائے جس کی وجہ سے نزاع و اختلاف کا اندیشہ ہو۔
اور اسی وجہ سے ایسے سامان کی بیع سے منع کیا گیا ہے جو قبضہ میں یا معاملہ کے وقت موجود نہ ہو یا پر وقت اس کی حوالگی پر قادر نہ کیوں کہ ممکن ہے کہ وہ اس پر قبضہ یا اسے حاصل نہ کرسکے اور وقت پر سامان حوالے نہ کرنے کی وجہ سے اختلاف و نزاع ہو ۔چنانچہ حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ، وَعَمَّا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ۔
رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے جانوروں کے پیٹ میں موجود بچے کی خریداری سے یہاں تک کہ وہ پیدا ہوجائے اور تھن میں موجود دودھ کے بیچنے سے مگر پیمانے سے ناپ کر۔ اور بھگوڑے غلام کی خریداری سے۔ اور مال غنیمت کے خریدنے سے الا یہ کہ تقسیم کرلیا جائے اور صدقہ کی خریداری سے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلیا جائے اور غوطہ خور کے غوطہ لگانے کی خریداری سے یعنی غوطہ لگانے کے بعد سمندر سے ملنے والی چیز کی خریداری سے۔(سنن ابن ماجه: 2196)
اور فروخت کردہ چیز سے اس طرح کچھ حصہ الگ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے کہ اس کے بعد مبیع مجہول ہوجائے ۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے استثناء سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ اس کے باوجود مبیع مجہول نہ ہو۔
(ان النبي نهى…و عن الثنيا الا ان تعلم .رواه الخمسة الا ابن ماجه و صححه الترمذي.بلوغ المرام /180)
اسی طرح سے خرید وفروخت میں شرط لگانے سے بھی منع کیا گیا ہے کیونکہ شرط بھی درحقیقت انسان کسی مجبوری میں قبول کرتا ہے ۔عام حالات میں وہ اسے قبول کرنے کے لئے راضی نہیں ہوتا جیسے کہ کسی کو مکان کی ضرورت ہے اور بیچنے والا کہے کہ مکان کی قیمت مثلا بیس لاکھ ہے ۔البتہ اسے اس شرط کے ساتھ فروخت کرونگا کہ آپ مجھے مزید پانچ لاکھ روپیہ بطور قرض فراہم کریں گے ۔
چونکہ اسے مکان کی ضرورت ہے اور دوسرا مکان اس قیمت پر دستیاب نہیں ہے اس لئے وہ مجبوری میں اس کی شرط مان کر اسے قبول کرلیتا ہے اس لئے حدیث میں کہا گیا ہے:
لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ۔۔۔۔
ایک ساتھ قرض اور بیع حلال نہیں ہے۔ (سنن أبو داؤد :3504)
البتہ اگر شرط متعارف ہو یعنی عام طور پر لوگ اسی شرط کے ساتھ سامان خریدتے اور فروخت کرتے ہیں تو وہ درست ہے؛ کیونکہ متعارف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب اس میں زور و زبردستی اور مجبوری شامل نہیں ہے جیسے کہ گارنٹی اور وارنٹی کی شرط کے ساتھ سامان خریدنا۔
اسی طرح خیار شرط کی اجازت ہے یعنی کوئی کہے کہ میں اس شرط کے ساتھ سامان خرید یا فروخت کر رہا ہوں کہ تین دن کے اندر غور وفکر کرکے یا مشورہ کرکے کنفرم کرونگا کہ مجھے خریدنا یا فروخت کرنا ہے یا نہیں ۔کیونکہ اس طرح سے رضامندی کا مفہوم پوری طرح سے واضح ہوجاتا ہے ۔حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:
ذكر رجل لرسول الله انه يخدع في البيوع فقال اذا بايعت فقل لا خلابة.
رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا جو خرید وفروخت میں دھوکہ کھا جاتا تھا ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تم فروخت کیا کرو تو کہہ دو کہ دھوکہ دہی نہیں ہوگی۔(متفق عليه .بلوغ المرام/185)
امام ابن ماجہ نے حدیث کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:
إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ : لَا خِلَابَةَ . ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ، وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا ".
جب تم بیع کا معاملہ کیا کرو تو کہہ دیا کرو کہ دھوکہ دہی نہیں ہوگی۔پھر تم جو بھی سامان خریدوگے اس میں تمھیں تین راتوں تک اختیار رہے گا اگر اس معاملے سے مطمئن ہو تو اسے رکھے رہو اور اگر ناخوش ہوتو اس کے مالک کو واپس کردو۔(سنن ابن ماجه: 2355)
نیز اگر کوئی بے دیکھے سامان خرید لے تو اسے دیکھنے کے بعد لینے یا واپس کرنے کا اختیار ہوتا ہے جسے اصطلاح میں خیار رویت کہا جاتا ہے کیونکہ بے دیکھے خریداری میں پوری رضامندی نہیں پائی جاتی ہے ۔حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من اشترى شيئا لم يره فهو بالخيار اذا راه.
جو کوئی بے دیکھے کوئی چیز خرید لے تو دیکھنے کے بعد اسے واپس کرنے کا اختیار ہوگا ۔(جامع مسانيد الإمام 25/2. فقه البيوع 783/2)
اسی طرح سے اگر خریدے ہوئے سامان میں کوئی عیب نکل آئے تو واپسی کا حق ملتا ہے جسے اصطلاح میں خیار عیب کہا جاتا ہے کیونکہ کوئی عیب دار سامان سے راضی نہیں ہوتا ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ ایک شخص نے غلام خریدا اور وہ اس کے پاس ایک مدت تک رہا اس کے بعد اسے غلام میں موجود کسی عیب کی اطلاع ملی تو وہ آنحضرت کی خدمت میں اپنا معاملہ لے کر حاضر ہوا تو آپ نے غلام واپس کرادیا ۔
(عن عائشه قالت ان رجلا ابتاع غلاما فاقام عنده ما شاء الله ان يقيم ثم وجد به عيبا فخاصمه الى النبي صلى الله عليه وسلم فرده عليه. سنن ابو داوود :3510)
اور اگر دھوکہ اور لاعلمی کی وجہ سے بہت زیادہ قیمت لے لی گئی ہے یا سامان کو بہت کم قیمت پر خرید لیا گیا ہے تو بھی واپسی کا حق ملتا ہے جسے خیار غبن کہا جاتا ہے ۔حضرت ابوھریرہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا تَلَقَّوُا الْجَلَبَ ، فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ".
بازار میں آنے والے قافلوں سے آگے بڑھ کر سامان نہ خریدو۔اور اگر کوئی ایسا کرلے اور پھر اس کا مالک بازار میں آئے (اور اسے معلوم ہوکہ اس کا سامان کم قیمت میں خرید لیا گیا ہے)تو اسے واپس لینے کا اختیار ہے ۔ (صحیح مسلم:1519)
دھوکہ ،جوا اور چانس پر مبنی خرید وفروخت اور سود آمیز معاملات کو بھی اسی وجہ سے منع کیا گیا ہے کہ یہ سب باطل طریقے پر مال کو ہڑپنا ہے اور ان میں حقیقتاً خوش دلی نہیں پائی جاتی ہے ۔
ایجاب و قبول اسی خوش دلی اور رضامندی کے اظہار کا ذریعہ ہے اس لئے اس لئے اسے بالکل واضح ہونا چاہئے کہ اس میں دوسرے مفہوم کی گنجائش نہ ہو خواہ الفاظ کے ذریعے ہو یا عملی طور پر اس کا اظہار ہو جسے اصطلاح میں تعاطی کہا جاتا ہے ۔یعنی زبان سے کچھ کہے بغیر ایک شخص سامان پر لکھی قیمت کو دیکھ کر عوض ادا کرے اور سامان لے کر چلا جائے ۔
اور جس طرح آمنے سامنے معاملہ طے کیا جاتا ہے اسی طرح سے خط و کتابت اور پیغام رسانی کے جدید طریقوں سے بھی ایجاب و قبول کیا جاسکتا ہے ۔
اگر بظاھر ایجاب و قبول پایا جائے لیکن وہ جبر و اکراہ کے زیر اثر ہو تو حقیقی رضامندی کے نہ پائے جانے کی وجہ سے بیع درست نہیں ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے