بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله( 18) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
22- فرضی بیع. (Dummy Sale):
کبھی کسی مجبوری، خوف یا مصلحت کی بنا پر ظاہری طور محض دکھاوے کے لئے بیع کی جاتی ہے اور حقیقت کے اعتبار سے خرید وفروخت اور انتقال ملکیت کا ارادہ نہیں ہوتا ہے اور خفیہ طور پر دونوں فریق اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ ظاہری عقد حقیقتاً نافذ نہیں ہوگا۔فقہی کتابوں میں اسے "بیع تلجئہ” کا عنوان دیا گیا ہے ۔(دیکھئے :رد المحتار 242/7)
مثلاً زمین و جائداد اور مال و دولت سے متعلق ظالمانہ قوانین اور ناروا انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے کوئی شخص ظاہری طور پر اپنی ملکیت اپنے کسی دوست وغیرہ کے نام منتقل کردے تو شرعی طور پر اسے بیع نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اس پر بیع کے احکام مرتب ہوں گے کیونکہ بیع کے انعقاد کے لئے باہمی رضامندی ضروری ہے اور چونکہ حقیقت کے اعتبار سے خرید وفروخت کی نیت اور رضامندی موجود نہیں ہے اس لئے بیع منعقد نہیں ہوگی۔اور اصل مالک کی ملکیت برقرار رہے گی۔لیکن یہ بات اسی وقت ثابت ہوگی جب کہ دونوں کو اعتراف یا شرعی ثبوت موجود ہو اس لئے گواہ بنا لینا چاہئے تاکہ اختلاف کے وقت کام آسکے ۔
البتہ اگر اس کا مقصد دوسروں کے حقوق ضائع کرنا، یا ناجائز فائدہ حاصل کرنا ہو تو باعث گناہ ہے۔
23- دوسرے کے نام سے رجسٹری:
زمین و جائداد سے متعلق ظالمانہ قوانین سے بچنے یا رجسٹریشن خرچ میں کمی کے لئے مثلاً بیوی کے نام زمین کی رجسٹری کرائی جاتی ہے اور اصل خریدار شوہر ہوتا ہے اور وہی ثمن ادا کرتا ہے اس لئے مالک وہی ہوگا اور محض کسی کے نام رجسٹری کی وجہ سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اس نے اسے ھبہ کردیا ہے ۔الا یہ ھبہ کی صراحت ہو۔( دیکھئے :امداد الفتاوی39/3 )