بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(6) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
6-جوا اور جوا آمیز معاملات:
جوا (Gambling) ہر وہ مالی معاملہ ہے جس میں کسی غیر یقینی عمل یا بخت و اتفاق (Luck & chance) پر مال کو اس طرح سے داؤ پر لگایا جائے کہ وہ یا تو کسی معاوضے کے بغیر اس سے ہاتھ دھو بیٹھے گا یا اس سے زیادہ مالیت کی چیز ہاتھ آجائے گی چنانچہ علامہ خطابی لکھتے ہیں
إنما هو مواضعة بين اثنين على مال يدور بينهما في الشقين فيكون واحد منهما إما غانما او غارما۔
قمار دو فریقوں کے درمیان ایسا مالی معاہدہ ہے جس میں مال کا حصول دو شقوں (ہارجیت) میں دائر ہوتا ، اور انجام کار ان میں سے ایک کو نفع حاصل ہوتا ہے یا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔(معالم السنن رقم الحدیث: 2469)
اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
”قمار ایک سے زائد فریقوں کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں ہر فریق نے کسی غیریقینی واقعے کی بنیاد پر اپنا کوئی مال(یاتو فوری ادائیگی کرکے یا ادائیگی کا وعدہ کرکے) اس طرح داؤ پر لگایا ہو کہ وہ مال یا تو بلا معاوضہ دُوسرے فریق کے پاس چلا جائے گا یا دُوسرے فریق کا مال پہلے فریق کے پاس بلا معاوضہ آجائے گا۔“(اسلام اور جدید معاشی مسائل3/358)
قرآن وحدیث میں اس کے لئے میسر اور قمار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔
’’میسر‘‘ یا تو ’’یسر‘‘ (سہولت و آسانی) سے ماخوذ ہے چونکہ جوا میں ایک فریق دوسرے کا مال کسی محنت اور مشقت کے بغیر آسانی سے ہضم کرلیتاہے، اس لئے اسے ’’میسر‘‘ کہاگیا؛ہے یا اس کا ماخذ ’’یسار‘‘(مالداری) ہے کیونکہ ایک فریق جیتنے کی صورت میں کافی مال و دولت حاصل کرلیتاہے۔(تفسیر کبیر 45/6) یایہ ’’یسر‘‘(تقسیم کرنا ، بانٹنا) سے ماخوذ ہے ، اس صورت میں ’’میسر‘‘ سے مراد وہ اونٹ ہے جسے ’’قمار‘‘ کے لئے ذبح کرکےتقسیم کیاجاتاہے۔(تاج العروس 627/3)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ قرآن مجید میں مذکور میسر کے لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
المیسر القمار كان الرجل في الجاهلية يخاطر على اهله وماله فايهما قمر صاحبه ذهب باهله وماله.
میسر قمار ہے، زمانہ جاہلیت میں ایک شخص اپنے مال اور گھر والوں کو داؤ پر لگا دیتا تھا اور جو شخص قمار جیت جاتا وہ اس کے گھر والوں اور مال کو لے کر چلا جاتا ۔(تفسیر ابن جریر 358/2)
حضرت عبداللہ بن عمر سے بھی اسی طرح کی تشریح منقول ہے کہ میسر اور قمار ہم معنی ہے ۔(تفسیر ابن جریر 358/2) اس کے علاوہ عطاء، ابن سیرین، مجاہد سعید بن المسیب، قتادہ، حسن بصری، طاؤس اور ضحاک وغیرہ کی بھی یہی رائے ہے کہ ہر وہ معاملہ جس میں ہارجیت کی شرط ہو وہ ’’میسر‘‘ ہے جیسے شطرنج، چوسر اور یہاں تک کہ بچوں کا اخروٹ اور لکڑی سے کھیلنا بھی۔(الجامع لاحکام القرآن 36/2)
قمار کا لفظ قمر یعنی چاند سے بنایا گیا ہے ۔ علامہ شامی جوا کو قمار کہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"قمار قمر سے مشتق ہے ،قمار بھی قمر(چاند) کی طرح مال کو بڑھاتا ہے اور گھٹاتاہے ،اس وجہ سےجوا کو قمار کہاجاتاہے کیونکہ جواری کا مال بھی جوا کے سبب چاند کی طرح کبھی بڑھتا ہے توکبھی گھٹتا ہے”(رد المحتار 577/9)
قمار کے عناصر:
مذکورہ تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قمار چار چیزوں کے مجموعے کا نام ہے اگر کسی معاملہ میں ان میں سے کوئی ایک عنصر موجود نہ ہو تو اسے شرعا قمار نہیں کہا جائے گا، وہ چار عناصر یہ ہیں:
1۔ عقد معاوضہ دو یا دو سے زائد لوگوں کے درمیان ہو،لہٰذا اگر صرف ایک طرف سے کچھ دینے کا وعدہ ہو اور دُوسری طرف سے کچھ دینے کا وعدہ نہ ہو تو وہ قمار نہیں بلکہ انعام ہے جیسے ایک شخص دوسرے سے کہے کہ آؤ دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں ،اگر تم جیت گئے تو میں تمھیں اتنی رقم دوں گا،اگر میں جیت گیا تو تمہیں کچھ بھی نہیں دینا ہے۔
2۔دوسرے کا مال حاصل کرنے کے لئے معاملہ کرنے والوں میں سے ہر ایک اپنا مال داؤ پر لگائے، لہٰذا اگر معاملہ کرنے والے فریق اپنا مال داؤ پر نہ لگائیں، بلکہ کوئی تیسرا شخص جو اس معاملے میں شامل نہیں ہے، وہ اپنی رقم خرچ کرے تو یہ جوا نہیں، مثلاً ایک شخص نے شاہد اور خالد سے کہا کہ تم دونوں تیراکی کا مقابلہ کرو ،اور تم میں سے جو جیت جائے گا میں اُسے ہزار روپے انعام دُوں گا ۔
3۔اپنے لگائے ہوئے مال سے زائد مال یا دوسرے کے مال کا حاصل ہونا کسی ایسے غیریقینی یا غیر اختیاری واقعے پر موقوف ہو جس کے وقوع پذیر ہونے یا نہ ہونے کا احتمال ہوا ۔
4۔داؤ پر لگایا ہوا مال بلامعاوضہ ہاتھ سے چلا جائے، یا اپنے ساتھ دُوسرے کا مال کسی معاوضہ کے بغیر کھینچ لائے،لہٰذا اگر کسی شخص نے اپنے مال کا حقیقی عوض حاصل کرلیا اور پھر اُسے انعام بھی مل گیا تو یہ جوا نہیں، جیسے کسی شخص نے کوئی چیز اس کی ’’حقیقی دام‘‘ میں خریدی اور اس میں انعامی ٹکٹ بھی نکل آیا جس کی وجہ سے اُس نے انعام حاصل کرلیا تو یہ صورت جوا میں داخل نہیں، لیکن اس کے برعکس اگر وہ چیز ’’حقیقی دام‘‘ کے بدلے نہیں خریدی گئی، بلکہ انعام کے اعلان کی وجہ سے اُس چیز کی قیمت بڑھا دی گئی تو اُس صورت میں وہ معاملہ قمار میں داخل ہوجائے گا۔(دیکھئے: بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة157/2)
قمار کی قسمیں:
یوں تو ’’جوا‘‘ کی بے شمار صورتیں ہوسکتی ہیں لیکن عام طور سے اس وقت جو قمار آمیز معاملات رائج ہیں ان کو دو بنیادی قسموں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔
1- کوئی فریق یقینی طور پر کچھ مال اداکرنے کا پابند نہیں ہوتا، بلکہ ہر شخص کی طرف سے ادائیگی کسی غیریقینی واقعے پر موقوف ہوتی ہے جیسے کہ حامد اور راشد میں دوڑ کا مقابلہ ہو اس شرط کے ساتھ کہ ہارنے والا دوسرے کو سو روپیہ ادا کریگا ۔
اس میں کسی کے لئے بھی رقم کی ادائیگی متعین نہیں ہے بلکہ ادائیگی ایک احتمالی واقعہ (ہارجیت) پر موقوف ہے ۔
2- ایک طرف سے ادائیگی متعین ہو اور لازمی ہو اور دُوسری طرف سے ادائیگی کسی غیر یقینی معاملے پر موقوف ہو ۔جو فریق ہر حال میں ادائیگی کا پابند ہوتا ہے ، وہ اپنے مال کو اس لئے داؤ پر لگاتا ہے کہ یا تو معمولی رقم ضائع ہوجائے گی یا اگر قسمت نے ساتھ دیا تو بڑی رقم ہاتھ آئیگی جیسے لاٹری کہ اس میں ٹکٹ فیس جمع کرنا لازمی ہے ، لیکن اس کے بدلے میں ملنے والی رقم غیریقینی ہے۔
(دیکھئے:بحوث فی قضایا فقهیة معاصرة157/2)