بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔

 

سلسله(61) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل

 

مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔

انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.

wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242

 

68-زیورات کی ادھار خریداری:

 

   سونے کو سونے یا چاندی کے بدلے خریدنے میں ضروری ہے کہ دونوں پر حسی قبضہ کرلیا جائے،ان میں سے کوئی بھی ادھار ہو تو معاملہ درست نہیں ہے چنانچہ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  :

   الذَّهبُ بالذَّهبِ والفضَّةُ بالفضَّةِ والبُرُّ بالبُرِّ والشَّعيرُ بالشَّعيرِ والتمر بالتمر والملح بالملح مِثلًا بمِثلٍ سواء بسواء يدًا بيَدٍ فإذا اختلفت هذه الأصنافُ فبِيعوا كيف شِئْتُم إذا كان يدًا بيَدٍ۔

    سونا سونے کے بدلے،چاندی چاندی کے بدلے،گیہوں گیہوں کے بدلے،جو جو کے بدلے،کھجور کھجور کے بدلے،نمک نمک کے بدلے برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہئے اور اگر ان کی جنس بدل جائے تو جیسے چاہو فروخت کرو بشرطیکہ دست بدست ہو‌.(صحیح مسلم :1587.صحيح ابن حبان ؛5018)

    لیکن جیسا کہ گزر چکا ہے کہ کرنسی سونے چاندی کے حکم میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ پیمانے سے ناپ کر یا وزن سے تول کر خریدی اور بیچی جاتی ہے بلکہ عددی ہے اس لئے یہ جائز ہے کہ سونے یا چاندی کا زیور نقد حاصل کرلیا جائے اور کرنسی بعد میں ادا کی جائے بشرطیکہ عقد کے وقت زیور کی قیمت طے کرلی جائے اور سونے چاندی کی قیمت گھٹنے بڑھنے سے اس میں کمی بیشی نہ کی جائے ۔۔     اسی‌ طرح سے یہ بھی جائز ہے کہ روپیہ پہلے ادا کردیا جائے اور سونے یا چاندی کا زیور بعد میں حاصل کیا جائے۔(1)

 

(1) وقيد بالذهب والفضة لانه لو باع فضة بفلوس او ذهبا بفلوس فانه يشترط قبض احد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما. البحر الرائق 211/6۔

سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة فاجاب بانه يجوز اذا قبض احد البدلين.(رد المحتار 180/5ط،سعيد)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے