بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
سلسله(3) خرید وفروخت سے متعلق نئے مسائل
مفتی ولی اللہ مجید قاسمی ۔
انوار العلوم فتح پور تال نرجا ضلع مئو.
wmqasmi@gmail.com-mob.n.9451924242
3- ربا اور ربا آمیز معاملات:
مقروض سے مدت اور مہلت کے بدلے مشروط اضافہ اور فائدہ حاصل کرنا ربا ہے ۔خواہ اضافہ اسی جنس سے ہو یا کسی اور صورت میں چنانچہ کہا گیا ہے:
كلُّ قرضٍ جَرَّ مَنفعةً فَهوَ ربًا.
جو قرض کسی فائدہ کا سبب ہو تو وہ ربا ہے ۔(الجامع الصغيرللسیوطی:6318)
ربا کی ایک دوسری شکل بھی ہے جس میں سامان کا تبادلہ سامان کے ذریعے یا سونے چاندی اور کرنسی کی خریدوفروخت سونے چاندی اور کرنسی کے ذریعے کی جاتی ہے ۔
اس صورت میں اگر دو چیزوں کی جنس ایک ہو اور دونوں پیمانے سے ناپ کرکے یا باٹ سے تول کر بیچے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں ضروری ہے کہ وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے دونوں برابر ہوں اور کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کرنا ربا ہے۔
اگر جنس ایک ہے مگر کوالٹی الگ الگ ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ۔اور بہر صورت کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ حرام ہے ۔
اگر دو چیزوں کی جنس ایک ہو اور دونوں کیلی یا وزنی ہوں تو کمی بیشی یا ادھار دونوں ممنوع ہے ۔اور اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک نہ ہو یعنی جنس الگ الگ ہو یا جنس تو ایک ہو لیکن کیلی یا وزنی نہ ہو تو کمی بیشی جائز ہے لیکن ادھار جائز نہیں ہے اور اگر دونوں موجود نہ ہوں تو کمی بیشی بھی جائز ہے اور ادھار بھی ۔حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد فاذا اختلفت هذه الاصناف فبيعوا كيف شئتم اذا كان يدا بيد. رواه مسلم (بلوغ المرام: 854)
سونے کے عوض سونا،چاندی کے عوض چاندی ،گیہوں کے عوض گیہوں ،جو کے عوض جو،کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک برابر برابر اور دست بدست ہونا چاہئے۔اور جب جنس بدل جائے تو جیسے چاہو بیچو مگر دست بدست ہو۔